کوئٹہ بلوچستان فوڈ اتھارٹی کا گندے پانی سے کاشت و تیار کردہ مضر صحت سبزیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز

کوئٹہ (ایچ آراین ڈبلیو) بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے عدالت عالیہ کے احکامات اور صوبائی وزیر خوراک و چیئرمین بی ایف اے حاجی نور محمد دمڑ کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں گندے نالوں کے زہریلے پانی سے کاشت کی گئی مضر صحت سبزیوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا ہے۔کارروائی کے دوران کوئٹہ کے علاقے نیو سبزل روڈ میں تیس ایکڑ سے زائد اراضی پر موجود سبزیاں تلف کر دی گئیں جن میں گوبھی اور سلاد جیسی انسانی صحت کے لیے خطرناک فصلیں شامل تھیں۔صوبائی وزیر خوراک اور چیئرمین بی ایف اے حاجی نور محمد دمڑ جو کریک ڈاؤن کے پہلے روز خود تمام تر کاروائی کی نگرانی کر رہے تھے کا کہنا تھا کہ عدالتی احکامات اور حکومتی پابندی کے باوجود سیوریج کے پانی سے سبزیوں کی کاشت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ ایسے تمام کھیتوں میں اگائی گئی سبزیاں بلا تفریق تلف کرکے متعلقہ کسانوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ مہم کو مرحلہ وار دیگر علاقوں تک وسعت دی جائے گی اور گندے پانی سے کاشت کردہ سبزیوں کی روک تھام کے لیے بلا امتیاز کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔حاجی نور محمد دمڑ نے میڈیا سے بھی اپیل کی کہ وہ مضر صحت خوراک یا نالوں کے پانی سے سیراب کی جانے والی سبزیوں کی نشاندہی کریں تاکہ فوڈ اتھارٹی فوری ایکشن لے سکے۔انہوں نے کہا کہ ہم ناقص اور ملاوٹی خوراک کے خلاف سخت پالیسی پر عمل پیرا ہیں جبکہ اس ضمن میں وزیر اعلیٰ بلوچستان کی بھی واضح ہدایات ہیں کہ انسانی صحت سے کھلواڑ کرنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہ برتی جائے ، اتھارٹی کے کمپلینٹ سیل کو مزید فعال بنایا جا رہا ہے تاکہ غیر معیاری خوراک کی تیاری و فروخت سے متعلق شہری آسانی سے شکایات درج کرا سکیں۔صوبائی وزیر کے مطابق صرف غیر خوردنی فصلوں کو سیوریج کے پانی سے سیراب کرنے کی اجازت ہے اس حوالے سے آئندہ جو بھی زمیندار قوانین کی خلاف ورزی کرے گا، اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے مزید بتایا کہ بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی جانب سے کسانوں کو پہلے ہی بارہا تنبیہ کی جا چکی ہے کہ وہ گندے پانی سے سبزیوں کی کاشت بند کریں جس کے باوجود سیوریج کے پانی سے فصلیں تیار کرنے کا عمل جاری رہا

اپنا تبصرہ بھیجیں