درآمدی گیس بند ہونے سے عارضی لوڈشیڈنگ، بحران جلد حل ہو جائے گا: وزیر توانائی

اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو)وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ یکم اپریل سے درآمدی گیس بند ہونے کے باعث ملک میں عارضی لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے تاہم امید ہے کہ یہ بحران آئندہ چند دنوں میں حل ہو جائے گا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوام کو لوڈشیڈنگ سے متعلق حقائق سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔ پیک آورز میں گیس سے بجلی پیدا نہیں کی جا سکتی، اس لیے ان اوقات میں لوڈشیڈنگ کرنا پڑ رہی ہے۔

اویس لغاری نے کہا کہ خطے کی موجودہ صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم پاکستان کی صورتحال دیگر ممالک کے مقابلے میں بہتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ملک کو ماضی کے اندھیروں سے نکالنے کی کوششیں کی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پانی کے کم اخراج کے باعث پن بجلی کی پیداوار میں کمی آئی ہے، جبکہ اس وقت پن بجلی کی پیداوار 1676 میگاواٹ ہے اور 1530 میگاواٹ کی کمی کا سامنا ہے۔ دن کے اوقات میں لوڈشیڈنگ نہیں کی جا رہی۔

وفاقی وزیر کے مطابق تمام پاور پلانٹس آپریشنل ہیں جبکہ اپریل کے پہلے 15 دنوں میں بجلی کی طلب 15 سے 20 ہزار میگاواٹ کے درمیان رہی۔ انہوں نے کہا کہ ایل این جی کی کمی کے باعث بجلی کی پیداوار متاثر ہوئی ہے۔

اویس لغاری نے کہا کہ ایل این جی پلانٹس سے گزشتہ سال کے مقابلے میں اس سال کم بجلی پیدا ہو رہی ہے، اسی وجہ سے لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایل این جی کی درآمد کے لیے کوششیں کر رہی ہے اور صورتحال جلد بہتر ہونے کی امید ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دیہی، شہری اور صنعتی علاقوں میں لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے تاہم یہ صورتحال عارضی ہے۔ حکومت سوشل میڈیا پر پھیلنے والے غیر مصدقہ پروپیگنڈے کو مسترد کرتی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ مہنگی بجلی پیدا کر کے عوام پر اضافی بوجھ نہیں ڈالا جا سکتا، جبکہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی بھی صورتحال کو متاثر کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی قیمتوں میں گزشتہ دو سال کے دوران کمی لائی گئی ہے۔

اویس لغاری نے کہا کہ امید ہے کہ ایل این جی کی فراہمی اور پن بجلی میں بہتری کے بعد لوڈشیڈنگ جلد ختم ہو جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں