کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دائرہ کار اب زندگی کے تقریباً ہر شعبے تک پھیل چکا ہے اور ہر شعبہ اپنے مخصوص مقاصد اور مشن کے تحت کام کر رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال میں غیر معمولی احتیاط وقت کی اہم ضرورت ہے، کیونکہ اس کے غیر ذمہ دارانہ استعمال سے گمراہ کن، غیر اخلاقی اور جعلی مواد بھی تیار کیا جا سکتا ہے، جس میں شخصیات کی جعلی نمائندگی جیسے سنگین مسائل شامل ہیں۔
وہ شعبہ کمپیوٹر سائنس جامعہ کراچی، سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی اور آئی ای ای ای (IEEE) کے اشتراک سے آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی کی سماعت گاہ میں منعقدہ چوتھی بین الاقوامی کانفرنس “انفارمیشن سائنس اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی” کی اختتامی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
ڈاکٹر خالد عراقی نے اس بات پر زور دیا کہ اے آئی کے استعمال میں ذمہ داری اور شعور ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت نمایاں کردار ادا کر رہی ہے، جو تشخیص، علاج اور مریضوں کی دیکھ بھال کے مختلف مراحل میں غیر معمولی معاون ثابت ہو رہی ہے، جس سے انسانی زندگی کے معیار میں بہتری آ رہی ہے۔
انہوں نے عالمی تناظر میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جدید جنگی حکمت عملی میں بھی مصنوعی ذہانت کلیدی حیثیت اختیار کر چکی ہے اور اس کی برتری فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہے۔ انہوں نے مسلم ممالک پر زور دیا کہ وہ اے آئی میں خودمختاری حاصل کرنے کو ترجیح دیں اور محض دعووں کے بجائے عملی طور پر پروگرامنگ، تحقیق اور ٹیکنالوجی میں خود انحصاری اختیار کریں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملائیشیا کے قونصل جنرل ہرمن ہارڈیناتا احمدنے کہا کہ جامعات آج کے دور میں صرف تعلیمی ادارے نہیں بلکہ تحقیق، جدت اور عملی حل کی تیاری کے مرکزی مراکز بن چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت، سائبر سیکیورٹی اور بگ ڈیٹا جیسے شعبوں میں پیش رفت کے لیے جامعات کا کردار انتہائی اہم ہے۔
انہوں نے جامعہ کراچی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ کانفرنس عالمی مہارت کو یکجا کرنے اور نئی ٹیکنالوجیز کی سمت متعین کرنے کی بہترین مثال ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتیں اور صنعتیں اکیلے ترقی نہیں کر سکتیں بلکہ جامعات، تحقیق اور نوجوانوں کے اشتراک سے ہی پائیدار ترقی ممکن ہے۔انہوں نے پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان تعلیمی تعاون، مشترکہ تحقیق اور طلبہ کے تبادلہ پروگراموں کے فروغ پر بھی زور دیا۔
مراکش کے قونصل جنرل مرزا اشتیاق بیگ وسام العلوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت ان کے لیے باعث اعزاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف ممالک کے ماہرین نے مصنوعی ذہانت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی پر اہم خیالات پیش کیے جو طلبہ اور محققین کے لیے نہایت مفید ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ مراکش میں آئی ٹی کا شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور وہ پاکستانی ماہرین اور سرمایہ کاروں کو آئندہ آئی ٹی نمائش میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان طلبہ کے تبادلہ پروگرام پر کام جاری ہے جس کے تحت طلبہ ایک سمسٹر دوسرے ملک میں تعلیم حاصل کریں گے۔
ضیاء الدین یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی شیخ نے کہا کہ مسلمانوں کی ترقی کا راز جدید تعلیم اور سائنس و ٹیکنالوجی میں پوشیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی مثال اس بات کا ثبوت ہے کہ علم کی طاقت کے ذریعے بڑی عالمی طاقتوں کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق قوموں کی تنزلی کی بڑی وجہ علم سے دوری ہے، جبکہ چین نے انسانی وسائل کی ترقی پر توجہ دے کر نمایاں ترقی حاصل کی۔
ایتھوپیا کےاعزازی قونصل جنرل ابراہیم خالد تواب نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی دنیا بھر میں طرزِ زندگی، تجارت اور عالمی روابط کو تبدیل کر رہی ہے اور فاصلوں کو کم کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ایک ملک میں بیٹھ کر دوسرے ملک کے مسائل حل کیے جا سکتے ہیں، جبکہ انٹرنیٹ آف تھنگز اور بگ ڈیٹا سفارتکاری کی نئی زبان بن چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایتھوپیا دونوں قدیم تہذیبوں کے حامل ممالک ہیں جہاں نوجوان تیزی سے ڈیجیٹل معیشت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے تحقیقی تعاون کو سماجی و معاشی ترقی کے لیے ناگزیر قرار دیا۔
آئی ای ای ای (IEEE) کے نمائندے پروفیسرڈاکٹر شاہد شیخ نےآرگنائزیشن کے عالمی کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ یہ دنیا کی بڑی تکنیکی تنظیموں میں سے ایک ہے جس کے پانچ لاکھ سے زائد اراکین ہیں۔ پاکستان میں …


