“کراچی والوں سے خفیہ ٹیکس؟ بل بھرو، سروس زیرو؟”

اہل کراچی پر ٹیکس در ٹیکس کے جو ہتھوڑے برسائے جاتے ہیں اور اس کے جواب میں کوئی بھی بہتری نظر نہیں آتی تو اس تناظر میں ایک ایسا خاموش ٹیکس جو اماہانہ ربوں روپے کی صورت میں کراچی میونسپل کارپوریشن سمیٹ رہی ہے لیکن اہل کراچی کی حالت بد سے بد تر ہوتی جا رہی ہے

یہ ٹیکس ہے میونسپل یوٹیلیٹی چارج یعنی کراچی کے شہریوں پر عائد میونسپل یوٹیلٹی چارج (MUCT) ایک ایسا معاملہ بنتا جا رہا ہے جو نہ صرف مالی بوجھ بلکہ حکومتی شفافیت اور شہری سہولیات کی فراہمی پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھا رہا ہے۔ شہر کے لاکھوں صارفین ہر ماہ اپنے بجلی کے بل کے ذریعے یہ ٹیکس ادا کرتے ہیں، جو بظاہر بلدیہ عظمیٰ کراچی کی جانب سے فراہم کی جانے والی بنیادی سہولیات—جیسے کچرا اٹھانا، گلیوں کی صفائی، نالوں اور گٹر لائنوں کی دیکھ بھال—کے عوض وصول کیا جاتا ہے، مگر زمینی حقائق اس دعوے سے مطابقت نہیں رکھتے۔

کے الیکٹرک کے مطابق کراچی میں تقریباً 38 لاکھ صارفین موجود ہیں، جن میں سے ایک بڑی تعداد مختلف سلیبز کے تحت MUCT ادا کر رہی ہے، جہاں 101 سے 200 یونٹس استعمال کرنے والے صارفین سے 20 روپے جبکہ 700 یونٹس سے زائد استعمال کرنے والوں سے 300 روپے تک وصول کیے جاتے ہیں، جبکہ کمرشل اور صنعتی صارفین پر اس سے کہیں زیادہ فکسڈ چارجز عائد ہیں۔ اس نظام کے نفاذ کے وقت شہر کے مئیر مرتضیٰ وہاب صدیقی نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ اس مد میں سالانہ تقریباً 4 ارب روپے تک کی آمدنی متوقع ہے، جو بظاہر ایک بڑی رقم ہے اور اسے شہری سہولیات کی بہتری پر خرچ ہونا چاہیے تھا، مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعی اس آمدنی کے مطابق شہر میں صفائی اور دیگر بلدیاتی خدمات کی صورتحال بہتر ہوئی ہے؟

کراچی کے بیشتر علاقوں میں کچرے کے ڈھیر، بند نالے، ابلتے ہوئے گٹر اور تعفن زدہ ماحول اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یا تو یہ رقم مؤثر انداز میں خرچ نہیں ہو رہی یا پھر نظام میں کہیں نہ کہیں سنگین خامیاں موجود ہیں۔ مزید برآں، یہ ایک اہم قانونی اور انتظامی سوال بھی ہے کہ ایک نجی ادارہ یعنی کے الیکٹرک کس بنیاد پر بلدیہ عظمیٰ کراچی کے لیے یہ ٹیکس وصول کر رہا ہے، اس کی وصولی کا طریقہ کار کیا ہے، اور اب تک کتنی رقم بلدیہ کے اکاؤنٹس میں منتقل کی جا چکی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ شہر میں غیر رسمی طور پر کام کرنے والے کچرا چننے والوں—جنہیں عام طور پر افغان باشندوں سے منسوب کیا جاتا ہے—کی موجودگی بھی اس پورے نظام پر سوالیہ نشان ہے، کیونکہ اگر بلدیہ باقاعدہ طور پر کچرا اٹھانے کی ذمہ دار ہے اور اس کے لیے شہریوں سے ٹیکس بھی وصول کیا جا رہا ہے تو پھر یہ غیر سرکاری نیٹ ورک کس کی اجازت سے کام کر رہا ہے اور شہریوں سے اضافی ہزاروں روپے کیوں وصول کر رہا ہے؟

یہ صورتحال نہ صرف دوہری وصولی (double charging) کا تاثر دیتی ہے بلکہ شہریوں کے استحصال کی ایک واضح مثال بھی پیش کرتی ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ متعلقہ حکام، بالخصوص بلدیہ عظمیٰ کراچی اور اس کی قیادت، اس پورے نظام کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے رکھیں، وصول کی جانے والی رقم، اس کے استعمال، اور خدمات کی فراہمی کے طریقہ کار پر شفاف اور مدلل وضاحت پیش کریں تاکہ شہریوں کا اعتماد بحال ہو سکے اور یہ یقین دہانی کرائی جا سکے کہ ان سے وصول کیا جانے والا ہر روپیہ واقعی انہی کی فلاح و بہبود پر خرچ ہو رہا ہے۔

کراچی سمیت اپنے شہری حقوق کے لئے آواز اٹھائیں، حکومتوں سے حساب مانگیں کہ ان کی جیب سے نکلوایا جانے والا روپیہ ان پر خرچ ہو رہا ہے یا حکمرانوں اور بیوروکریسی کی عیاشیوں کی نذر ہو رہا ہے، یہ آپ کا قانونی، آئینی اور شہری حق ہے، آواز اٹھانے پر ہی حق ملنے کی امید ہوتی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں