مجبور والدین کی بڑی جیت: اسکول مافیا کی من مانیوں پر سندھ ہائیکورٹ کا بڑا حکم

ایک بہت اہم قانونی پیش رفت جواسکول کی من مانیوں کے خلاف سندھ کے لاکھوں والدین کے لیے مشعلِ راہ بن سکتی ہے۔ وہ سندھ ہائی کورٹ کا 9 اپریل 2026 کو ہونے والا فیصلہ ہے

کیا آپ کا اسکول بھی آپ سے جون اور جولائی کی فیس ایڈوانس مانگ رہا ہے؟ تو یہ خبر آپ کے لیے ہے!

کراچی کے ایک نڈر والد، وقاص خلیل نے ثابت کر دیا کہ اگر والدین متحد ہو کر اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھائیں تو بڑے سے بڑا ادارہ بھی قانون کے سامنے جھکنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ سندھ ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ، جسٹس محمد سلیم جیسر اور جسٹس نثار احمد بھنبھرو نے ایک تاریخی حکم نامے میں نہ صرف بچے کو نویں جماعت کے امتحانات میں بیٹھنے کی اجازت دی بلکہ اسکولوں کی غیر قانونی فیس وصولی کے خلاف سخت موقف اختیار کیا۔

قصہ کیا ہے؟ : دی اسمارٹ اسکول کلفٹن کیمپس نے والدین سے جون اور جولائی کی فیسیں ایڈوانس میں طلب کیں، جو کہ ڈائریکٹوریٹ آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز کے واضح سرکلر (نمبر: 3541) کی کھلم کھلا خلاف ورزی تھی۔ جب ڈائریکٹوریٹ نے اسکول کے خلاف کوئی ایکشن نہ لیا، تو والد نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔

عدالت نے والدین کو مخاطب کرتے ہوئے واضح کیا کہ:

1. بچے کا مستقبل مقدم ہے: کسی بھی بچے کو فیس کے تنازع پر امتحان سے نہیں روکا جا سکتا۔
2. سرکلر کی پاسداری لازمی ہے: اسکول انتظامیہ سرکاری قوانین سے بالاتر نہیں ہے۔
3. انتظامیہ کی نااہلی: عدالت نے ڈائریکٹوریٹ کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان اٹھایا جو والدین کو ریلیف فراہم کرنے میں ناکام رہا۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر اسکول اب بھی باز نہ آئے تو والدین کیا کریں؟ عمومی طور پر اسکول مالکان ایسے عدالتی احکامات کے باوجود والدین کو ہراساں کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر آپ کے ساتھ بھی ایسا ہو رہا ہے، تو یہ اقدامات فوری اٹھائیں:

اگر اسکول انتظامیہ عدالتی فیصلے اور سرکاری سرکلر کو ردی کی ٹوکرئی میں ڈال دے اور اپنی ہٹ دھرمی برقرار رکھے، تو والدین کے پاس سب سے طاقتور ہتھیار موجود ہے:

رجسٹریشن کی منسوخی کی درخواست: والدین انفرادی یا اجتماعی طور پر ‘ڈائریکٹوریٹ آف انسپیکشن اینڈ رجسٹریشن آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز’ کو اسکول کی رجسٹریشن منسوخ (De-registration) کرنے کی باقاعدہ درخواست دے سکتے ہیں۔

بنیاد کیا ہوگی؟: اس درخواست میں موقف اپنائیں کہ اسکول مسلسل سرکاری احکامات (Circular No. 3541) کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور “سندھ پرائیویٹ تعلیمی ادارے (ریگولیشن اینڈ کنٹرول) آرڈیننس 2001” کے تحت وضع کردہ قواعد و ضوابط پر عمل کرنے میں ناکام رہا ہے۔

براہِ راست کارروائی: ڈائریکٹوریٹ کے پاس یہ قانونی اختیار ہے کہ وہ قواعد کی خلاف ورزی پر اسکول کا لائسنس معطل کر سکتا ہے، بھاری جرمانہ عائد کر سکتا ہے یا اسکول کو مکمل طور پر سیل (Seal) کرنے کا حکم دے سکتا ہے۔
لیکن عملی طور پر سرکاری ادارے اتنی حد تک نہیں جاتے کیونکہ کرپشن سرکار نے یہاں بھی اپنے سسٹم کا جادو جگایا ہوتا ہے اس لئے یہاں سے سنجیدہ کارروائی کی امید کرنا بھینس کے آگے بین بجانا ہے- اس کے باوجود آگے کے مراحل میں داخل ہونے کے لئے ڈائریکٹوریٹ میں شکایت کرنا لازمی ہے

والدین اب ڈرنا چھوڑ دیں! جب آپ کے پاس ہائیکورٹ کا فیصلہ موجود ہے، تو ڈائریکٹوریٹ کو مجبور کریں کہ وہ اسکول کے خلاف سخت ترین محکمانہ کارروائی کرے اور ان کی رجسٹریشن منسوخ کر کے ایک مثال قائم کرے۔

حق مانگنے سے نہیں، لڑنے سے ملتا ہے!

قانونی نوٹس کا استعمال: ہائیکورٹ کے اس حالیہ فیصلے اور ڈائریکٹوریٹ کے سرکلر کی کاپی اپنے اسکول کے پرنسپل کو دکھائیں اور تحریری طور پر مطلع کریں کہ ایڈوانس فیس مانگنا توہینِ عدالت کے زمرے میں آسکتا ہے۔

وزیر اعلیٰ شکایت سیل (CM House): اسکول کے خلاف فوری شکایت درج کروائیں۔ آپ 021-99202084 پر کال کر سکتے ہیں یا ان کے پورٹل پر آن لائن درخواست دے سکتے ہیں۔

سوشل میڈیا پاور: اسکول کے غیر قانونی مطالبے (لیٹر یا میسج) کا اسکرین شاٹ لیں اور متعلقہ حکام کو ٹیگ کر کے سوشل میڈیا پر وائرل کریں۔ عوامی دباؤ اکثر اسکولوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیتا ہے۔

پیرینٹس ایسوسی ایشن سے رابطہ:اکیلے لڑنے کے بجائے ‘اسٹوڈنٹس پیرینٹس فیڈریشن’ جیسے پلیٹ فارمز سے جڑیں تاکہ اجتماعی دباؤ بڑھایا جا سکے۔

قانونی کارروائی (Contempt of Court): اگر اسکول عدالتی فیصلے کے باوجود آپ کے بچے کو تنگ کرے، تو اپنے وکیل کے ذریعے ‘توہینِ عدالت’ کی درخواست دائر کریں، جس کے بعد اسکول انتظامیہ کو جیل یا بھاری جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یاد رکھیں! خاموشی اسکول مافیا کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ آپ کی ایک درخواست نہ صرف آپ کے بچے بلکہ ہزاروں دیگر بچوں کا مستقبل بچا سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں