2026 کی ایران–اسرائیل جنگ نے مشرقِ وسطیٰ کی طاقت کے توازن کو جڑ سے ہلا کر رکھ دیا ہے اور اس جنگ نے ایک ایسی حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے جسے عرب دنیا برسوں سے نظر انداز کرتی آ رہی تھی۔ یہ محض ایک فوجی تصادم نہیں بلکہ اعتماد، حکمتِ عملی اور خودمختاری کی جنگ ہے، اور اس جنگ میں سب سے زیادہ دھچکا عرب ممالک کو لگا ہے جنہیں پہلی بار شدت سے یہ احساس ہوا ہے کہ ان کی سلامتی کے تصورات کس قدر کھوکھلے تھے۔ ایران کی پالیسی نے انہیں ششدر کر دیا، کیونکہ ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ایران امریکی اڈوں کو جواز بنا کر براہِ راست ان کی سرزمین کو نشانہ بنا سکتا ہے، مگر جب یہ حقیقت بن کر سامنے آئی تو عرب دنیا کو اپنی دہائیوں پر محیط پالیسیوں کی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ ایران نے جس انداز میں اس جنگ کو وسعت دی، اس نے واضح کر دیا کہ اب کوئی بھی ملک محفوظ نہیں جو اس کے خلاف استعمال ہو، اور یہی وہ نقطہ تھا جہاں عرب دنیا ایک تماشائی سے براہِ راست متاثرہ فریق بن گئی۔
اس جنگ کے دوران سامنے آنے والے اعداد و شمار نہ صرف عسکری شدت کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ ایک نفسیاتی برتری کو بھی واضح کرتے ہیں۔ سعودی عرب پر 400 سے زائد ڈرون اور میزائل حملے کیے گئے، قطر میں 200 سے زائد حملے ریکارڈ ہوئے، متحدہ عرب امارات کو 150 سے زائد خطرناک فضائی حملوں کا سامنا کرنا پڑا، اردن میں درجنوں خلاف ورزیاں ہوئیں جبکہ بحرین اور کویت میں ہائی الرٹ نافذ کرنا پڑا۔ یہ سب کچھ اس وقت ہوا جب یہ ممالک خود کو دنیا کے طاقتور ترین دفاعی نظاموں سے لیس سمجھتے تھے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ نظام نہ تو مکمل تحفظ فراہم کر سکے اور نہ ہی وہ خوف ختم کر سکے جو پہلی بار عرب عوام اور قیادت کے دلوں میں گھر کر گیا۔ ایران نے صرف میزائل نہیں چلائے بلکہ اس نے عرب دنیا کے اعتماد کو نشانہ بنایا، اور یہ حملہ شاید کسی بھی فوجی حملے سے زیادہ مؤثر ثابت ہوا۔
عرب ممالک کے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلو ان کی اپنی سرمایہ کاری اور وابستگیوں کا بے اثر ہو جانا تھا۔ دہائیوں سے انہوں نے امریکہ کو اپنا محافظ سمجھا، اس کے ساتھ دفاعی معاہدے کیے، اس کی معیشت میں بے پناہ سرمایہ ڈالا اور اپنی سلامتی کو اس کے ساتھ جوڑ دیا۔ سعودی عرب نے 700 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری امریکہ میں کر رکھی ہے، متحدہ عرب امارات کے اثاثے تقریباً 1 ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکے ہیں، قطر نے 450 سے 500 ارب ڈالر کے درمیان سرمایہ کاری کی ہے، کویت کے خودمختار فنڈز 300 سے 400 ارب ڈالر تک امریکی معیشت میں شامل ہیں جبکہ بحرین نے بھی اپنی حیثیت کے مطابق مالیاتی روابط قائم کیے ہوئے ہیں۔ اس طرح مجموعی طور پر خلیجی ممالک کی سرمایہ کاری 2.5 سے 3 ٹریلین ڈالر تک جا پہنچی ہے جو ایک ناقابلِ یقین رقم ہے۔ اس کے علاوہ دفاعی اخراجات، اسلحہ خریداری اور سیاسی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے مزید کھربوں روپے خرچ کیے گئے، یہاں تک کہ ٹرمپ دور میں تقریباً 3600 ارب روپے مالیت کے تحائف اور مراعات دی گئیں تاکہ امریکہ کے ساتھ تعلقات مزید مستحکم رہیں اور سیکیورٹی کی ضمانت حاصل ہو سکے۔
لیکن جب اصل امتحان آیا تو وہی امریکہ جسے عرب دنیا نے اپنا محافظ سمجھا تھا، مکمل طور پر ان کے ساتھ کھڑا نظر نہ آیا۔ ایران کے حملوں کے دوران عرب ممالک کو اپنی حفاظت خود کرنی پڑی، ان کے میزائل دفاعی نظام دباؤ کا شکار ہو گئے اور انہیں پہلی بار یہ احساس ہوا کہ سرمایہ کاری اور تعلقات سیکیورٹی کی مکمل ضمانت نہیں ہوتے۔ یہی وہ لمحہ تھا جب عرب دنیا کو یہ سوچنے پر مجبور ہونا پڑا کہ کیا انہوں نے اپنی سلامتی کے لیے غلط راستہ اختیار کیا تھا۔ ایران نے اس صورتحال میں نفسیاتی برتری حاصل کرتے ہوئے یہ پیغام دیا کہ وہ نہ صرف اسرائیل بلکہ پورے خطے میں امریکی اثر و رسوخ کو چیلنج کر سکتا ہے، اور اس پیغام نے عرب دنیا کے اندر خوف اور غیر یقینی کو بڑھا دیا۔
اس جنگ کا ایک اور اہم پہلو معاشی تباہی کا خدشہ ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز، جہاں سے روزانہ تقریباً 20 ملین بیرل تیل گزرتا ہے، مسلسل خطرے میں ہے۔ اس صورتحال نے عالمی منڈی کو غیر مستحکم کر دیا ہے، تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ پیدا ہوا ہے اور خلیجی ممالک کی معیشت جو بڑی حد تک تیل پر انحصار کرتی ہے، شدید دباؤ کا شکار ہو گئی ہے۔ اگر یہ جنگ طویل ہوتی ہے تو نہ صرف بڑے ترقیاتی منصوبے متاثر ہوں گے بلکہ سرمایہ کاری میں کمی، بیروزگاری میں اضافہ اور معاشی سست روی جیسے مسائل بھی سامنے آئیں گے۔ اس سب کے درمیان عرب ممالک کو یہ احساس ہو رہا ہے کہ وہ ایک ایسی جنگ میں پھنس گئے ہیں جس میں ان کا براہِ راست کوئی مفاد نہیں تھا بلکہ وہ صرف اپنی سرزمین پر موجود امریکی اڈوں کی وجہ سے اس کا حصہ بن گئے۔
یہی وہ نقطہ ہے جہاں عرب دنیا کے لیے ایک سخت مگر ضروری فیصلہ سامنے آتا ہے، اور وہ یہ کہ کیا انہیں اپنی سرزمین پر موجود امریکی فوجی اڈوں کو برقرار رکھنا چاہیے یا نہیں۔ اس وقت ان کے پاس ایک مضبوط جواز موجود ہے کہ وہ امریکہ سے یہ مطالبہ کریں کہ وہ اپنے اڈے خالی کرے، کیونکہ انہی اڈوں کی وجہ سے ایران نے انہیں نشانہ بنایا اور وہ بلاوجہ اس جنگ میں گھسیٹ لیے گئے۔ ان اڈوں کی موجودگی نے نہ صرف ان کی خودمختاری کو محدود کیا بلکہ ان کی معیشت کو بھی خطرے میں ڈال دیا، کیونکہ تیل اور گیس کی آمدنی جو ان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، اس جنگ کی وجہ سے شدید متاثر ہو رہی ہے۔ اگر عرب ممالک اس موقع پر جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لاتے ہیں تو وہ نہ صرف اپنی سلامتی کو بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ خطے میں ایک نئی طاقت کے طور پر بھی ابھر سکتے ہیں۔
اسی بدلتی ہوئی صورتحال میں پاکستان کے لیے ایک غیر معمولی موقع پیدا ہو رہا ہے، جو شاید دہائیوں میں ایک بار آتا ہے۔ پاکستان اس وقت معاشی مشکلات کا شکار ہے، آئی ایم ایف کے دباؤ میں ہے اور مالیاتی بحران سے نکلنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے، مگر اس کے باوجود اس کے پاس ایک ایسی طاقت موجود ہے جو اسے دنیا میں منفرد بناتی ہے اور وہ ہے اس کی عسکری صلاحیت۔ پاکستان دنیا کی تسلیم شدہ ساتویں ایٹمی قوت ہے، اس کی فوج تجربہ کار ہے اور اس کے دفاعی ادارے خطے میں ایک مضبوط حیثیت رکھتے ہیں۔ یہی وہ عنصر ہے جو اسے عرب دنیا کے لیے ایک قابلِ اعتماد شراکت دار بنا سکتا ہے۔ اگر پاکستان اس موقع کو سمجھداری سے استعمال کرے تو وہ عرب ممالک کا اعتماد حاصل کر سکتا ہے، اور اس اعتماد کو اپنی معاشی بحالی کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔
پاکستان کو چاہیے کہ وہ ایک متوازن حکمت عملی اپنائے جس میں وہ عرب ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون کو فروغ دے، انہیں سیکیورٹی کی یقین دہانی کرائے اور اس کے بدلے میں معاشی تعاون حاصل کرے تاکہ وہ آئی ایم ایف جیسے اداروں پر انحصار کم کر سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کو ایران کو بھی اعتماد میں لینا ہوگا، کیونکہ خطے میں استحکام اسی صورت ممکن ہے جب تمام بڑے کھلاڑی ایک دوسرے کے ساتھ توازن قائم کریں۔ اگر پاکستان اس نازک توازن کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو وہ نہ صرف اپنی معیشت کو سنبھال سکتا ہے بلکہ خطے میں ایک اہم اسٹریٹجک کردار بھی ادا کر سکتا ہے۔
یہ جنگ عرب دنیا کے لیے ایک ایسا موڑ ثابت ہو رہی ہے جہاں انہیں اپنی پالیسیوں، اتحادوں اور ترجیحات کا ازسرنو جائزہ لینا ہوگا۔ یہ اب صرف ہتھیاروں کی جنگ نہیں رہی بلکہ اعتماد، خودمختاری اور بقا کی جنگ بن چکی ہے۔ ایران نے اپنی حکمت عملی سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ طاقت صرف سرمایہ کاری یا اتحاد سے نہیں بلکہ خودمختاری اور عملی صلاحیت سے آتی ہے، اور یہی سبق عرب دنیا کے لیے سب سے اہم ہے۔ اگر وہ اس سبق کو سمجھنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ ایک مضبوط اور خودمختار مستقبل کی طرف بڑھ سکتے ہیں، ورنہ وہ ہمیشہ دوسروں کے فیصلوں کا شکار رہیں گے۔ اس تمام صورتحال میں پاکستان کے لیے یہ ایک سنہری موقع ہے کہ وہ اپنی کمزوریوں کو طاقت میں بدلتے ہوئے نہ صرف اپنی معیشت کو سنبھالے بلکہ خطے میں ایک کلیدی کردار ادا کرے، کیونکہ تاریخ ایسے مواقع بار بار نہیں دیتی۔


