کراچی: شہرِ قائد یا شہرِ مفاد؟

یہ سوال آج صرف ایک جملہ نہیں، بلکہ کروڑوں دلوں کی دھڑکن بن چکا ہے۔ روشنیوں کا شہر کہلانے والا کراچی آج اندھیروں، ملبوں، غیرقانونی عمارتوں اور بدانتظامی کی علامت کیوں بنتا جا رہا ہے؟ کیا واقعی یہاں انسانوں کی حکومت ہے، یا ایک ایسا بے رحم سسٹم مسلط ہے جو عوام کو صرف ریونیو اور رشوت کے اعداد و شمار میں ناپتا ہے؟

ویسے تو سندھ کا ہر سرکاری محکمہ کرپشن کی منہ بولتی تصویر ہے، کرپشن شتر بے مہار بن چکی ہے، وہ بورڈ آف ریونیو ہو یا اس کا ماتحت سب رجسٹرار آفس ہوں، کے ڈی اے ہو یا کے ایم سی، محکمہ خوراک ہو سندھ فوڈ اتھارٹی ، محکمہ ماحولیات ہو یا محکمہ جنگلات، محکمہ آب پاشی ہو یا محکمہ داخلہ، محکمہ خزانہ ہو یا محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات،
محکمہ قانون، پارلیمانی امور و فوجداری استغاثہ، محکمہ اطلاعات ہو یا محکمہ صنعت و تجارت ہو یا محکمہ کوآپریٹو ، محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول ہو یا محکمہ ورکس اینڈ سروسز ہو یا محکمہ توانائی یا محکمہ ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ، محکمہ انفارمیشن سائنس و ٹیکنالوجی ہو یا محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ و دیہی ترقی، محکمہ اسکول ایجوکیشن و خواندگی ہو یا محکمہ کالج ایجوکیشن ، محکمہ جامعات و تعلیمی بورڈز ہو یا محکمہ صحت، محکمہ بلدیات، ہاؤسنگ و ٹاؤن پلاننگ ہو یا محکمہ سماجی بہبود ، محکمہ ترقیٔ نسواں ہویا محکمہ اقلیتی امورسب کے سب کرپشن کی گنگا میں بے خوف و خطر اشنان کر رہے ہیں کیونکہ مبینہ طور پر ان کی سرپرست خود سندھ حکومت ہے جس نے کہا جاتا ہے کہ ایک ایسا سسٹم بنا دیا ہے کہ کسی بھی محکمہ میں آمدنی پیدا کرنے والا عہدہ لینے کا ریٹ مقرر کر نے اور ماہانہ رقم بھی مقرر کرکے انہیں کرپشن کرنے کی کھلی چھوٹ دے دی اس وجہ سے اب کھلے عام ہر محکمہ سندھ کی عوام کو دونوں ہاتھوں‌سے لوٹ رہا ہے اور یہ عوام بے بسی میں صرف اتنا ہی کہہ پاتی ہے کہ ٹھیک تم سے آخرت میں ہی حساب ہو گا

آج ہم بات کریں‌ گے سندھ کے ذیلی محکمہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے بارے میں جو محکمہ بلدیات کی ماتحتی میں کام کرتا ہے یا یہ کہہ لیجئے اس محکمہ کا کماؤ پوت ادارہ ہے خواہ کراچی ہو یا سندھ کا مکمل بیڑہ غرق ہی کیوں‌ نہ ہو جائے

ایک اندازہ ہے پچھلے دس سال میں صرف کراچی میں اس محکمہ کی کرپشن کی وجہ سے 85000 عمارتیں غیر قانونی منظور یا تعمیر کی گئی ہیں،کراچی سے ایس بی سی اے مبینہ طور پر دس سے بارہ ارب روپئے منتھلی اوپر پہنچاتا ھے

سولجر بازار کے علاقے میں 15 انمول زندگیوں کا قتل اس محکمہ کی کرپشن کا بدترین شاخسانہ ہے، اس کے علاوہ کراچی میں ایسے درجنوں واقعات ہوئے جن میں غیرمعیاری اور غیرقانونی تعمیرات ملبے کا ڈھیر بن گئیں اور آج تک کسی بھی ایس بی سی اے افسر کو قرار واقعی سزا نہ مل سکی اور یہی امر اس خبر کو تقویت پہنچاتا ہے کہ اس کرپشن میں باپ بیٹوں سے ملا ہے اور انہیں بچاتا ہے

گل پلازہ کا بدترین سانحہ کا اصل ذمہ دار بھی ایس بی سی اے ہے کیونکہ اس نے خلاف قانون پارکنگ کو چھت پر شفٹ کرنے کی منظوری دی اور 200 اضافی دکاںوں کی تعمیر پر کروڑوں روپے لے کر آنکھیں بند کر لیں

بلڈنگ بائی لاز کے مطابق:

* پارکنگ کی جگہ لازمی ہے
* فائر سیفٹی نظام ضروری ہے
* اضافی فلور یا کمرشل تبدیلی کیلئے باقاعدہ منظوری درکار ہے
* زمین کے زوننگ قوانین کی پابندی لازمی ہے

مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ رہائشی پلاٹس پر کمرشل پلازے، پارکنگ کی جگہوں پر دکانیں، اور دو منزلہ اجازت پر چھ یا آٹھ منزلہ عمارتیں عام ہیں۔

غیرقانونی تعمیرات کے خلاف ایس بی سی اے نے ایک ڈھونگ اپیلٹ کمیٹی قائم کر دی جس کا کام صرف خانہ پری کر کے غیرقانونی تعمیرات کی فائلیں بند کرنا ہے

ایس بی سی اے کی نام نہاد خصوصی عدالتیں قائم کی گئیں اور وہاں بھی یہ قانونی موشگافی چھوڑی گئی کہ غیرقانونی تعمیرات کے خلاف کیس صرف ادارہ دائر کر سکتا ہے اور یہ کہ غیرقانونی تعمیرات کے ذمہ دار افسر کے خلاف کوئی سزا یہاں تک کہ اسے شریک ملزم بنانے کی کوئی شق شامل نہیں کی

ایک کیس میں ضلع غربی کی عدالت نے ایک شہری کی طرف سے دائر کی گئی کمپلینٹ کو صرف اس وجہ سے مسترد کر دیا کہ یہ درخواست صرف ادارہ یعنی ایس بی سی اے دے سکتا ہے، جس کے خلاف اپیل اس ناچیز نے ہائی کورٹ میں داخل کی ہوئی ہے اور امید ہے کہ فیصلہ حق کی فتح کی صورت میں برآمد ہو گا

کراچی میں خدانخواستہ کسی طاقتور زلزلے کی صورت میں یہ غیرقانونی اور غیرمعیاری عمارتیں خس و خاشاک کی طرح ڈھیر ہو جائیں گی ، کراچی کا انفرا اسٹرکچر اور یوٹیلٹی بحران کی ذمہ دار بھی یہی غیرقانونی عمارتیں ہیں لیکن پاکستان کی مقتدر قوتیں کب تک اہل کراچی پر ہونے والی ظلم و ستم کا تماشہ دیکھیں گی

آخری سوال یہ ہے کہ کراچی کے شہری کب تک اپنے ہی شہر میں غیر محفوظ رہیں گے؟ کب تک مائیں اپنے بچوں کو اسکول بھیجتے وقت یہ دعا کریں گی کہ عمارت سلامت رہے؟ کب تک مزدور اپنے ہی تعمیر کردہ پلازے کے سائے سے خوفزدہ رہے گا؟

یہ صرف کرپشن کی کہانی نہیں—یہ ضمیر کی عدالت ہے۔ اگر آج بھی اصلاح نہ ہوئی تو کل کا ملبہ صرف اینٹوں کا نہیں ہوگا، بلکہ اجتماعی بے حسی کا ہوگا۔

کراچی پوچھ رہا ہے: کیا اس شہر پر انسانوں کی حکومت ہے یا کسی اور مخلوق کی؟

اپنا تبصرہ بھیجیں