میہڑ ٹرپل مرڈرکیس: “انصاف کی شکست، نظام کی فتح”، آگے کیا ہونا چاہیے؟


سندھ کی تاریخ کے سب سے زیادہ زیرِ بحث رہنے والے “تہرے قتل کیس” کا فیصلہ دادو کی ماڈل کورٹ نے سنا دیا اور تمام نامزد ملزمان بشمول سردار خان چانڈیو اور برہان خان چانڈیو جو برسراقتدار جماعت پیپلز پارٹی کے سابق اراکین اسمبلی بھی ہیں کو باعزت بری کر دیا-

یہ واقعہ 17 جنوری 2018 کو میہڑ (ضلع دادو) میں پیش آیا تھا۔ مسلح افراد نے فائرنگ کر کے اُمِ رباب چانڈیو کے والد مختار چانڈیو، دادا کرم اللہ چانڈیو اور چچا قابل چانڈیو کو ان کے گھر کے باہر قتل کر دیا تھا۔ اس وقت اُمِ رباب کی عمر بہت کم تھی، لیکن انہوں نے اس ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا اُمِ رباب نے اس تہرے قتل کا الزام علاقے کے بااثر سیاسی و قبائلی سرداروں پر لگایا۔ ایف آئی آر میں درج اہم نام سردار خان چانڈیو (سابق ایم پی اے، پیپلز پارٹی) برہان خان چانڈیو (سابق ایم پی اے، پیپلز پارٹی) ان کے علاوہ مرتضیٰ چانڈیو اور ذوالفقار چانڈیو بھی نامزد تھے

دلچسپ بات یہ ہےکہ یہ فیصلہ آنے کے بعد سوشل میڈیا پر باعزت ملزموں اور ان کے حواریوں کی جانب اندھا دھند فائرنگ کر کے جشن منانے کی متعدد ویڈیو وائرل ہوئیں لیکن سندھ حکومت اور مقامی پولیس کی جانب سے کوئی ایکشن نہیں لیا گیا کیونکہ قانون تو صرف غریب کے گلے کا پھندہ ہے، وڈیرے کے سب غلام ہیں

یہ کیس اس وقت پورے پاکستان میں مشہور ہوا جب اُمِ رباب چانڈیو نے ننگے پاؤں عدالتوں کے چکر لگانا شروع کیے۔ ان کا موقف تھا کہ سندھ کے سرداری نظام نے ان کے خاندان کو تباہ کیا ہے اور پولیس بااثر ملزمان کو گرفتار نہیں کر رہی سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی اس کیس کا نوٹس لیا تھا کئی سالوں تک یہ کیس دادو، حیدرآباد اور کراچی کی عدالتوں میں چلتا رہا

میہڑ کا تہرہ قتل کیس محض ایک فوجداری مقدمہ نہیں تھا، بلکہ یہ سندھ میں انصاف، طاقت اور کمزور طبقے کی جدوجہد کی علامت بن چکا تھا۔ چھ سال تک جاری رہنے والی اس قانونی جنگ کا انجام جب ملزمان کی بریت پر ہوا، تو یہ فیصلہ صرف ایک خاندان ہی نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے کئی تلخ سوالات چھوڑ گیا۔

اُمِ رباب چانڈیو کی جدوجہد پاکستان کی عدالتی تاریخ میں ایک منفرد مثال کے طور پر دیکھی جاتی ہے۔ ایک کم عمر لڑکی کا ننگے پاؤں عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹانا اس بات کی علامت تھا کہ وہ انصاف کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا نظام ایسے حوصلے کو انصاف دے سکا؟

عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ استغاثہ ملزمان کے خلاف ٹھوس اور ناقابلِ تردید شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا۔ بظاہر یہ ایک قانونی تقاضا ہے—کیونکہ فوجداری قانون میں شک کا فائدہ ہمیشہ ملزم کو دیا جاتا ہے۔ مگر یہاں اصل سوال استغاثہ کی کارکردگی پر اٹھتا ہے۔

یہ کیس شروع سے ہی کمزور تفتیش، تاخیر، اور شواہد کے غیر مؤثر انداز میں پیش کیے جانے جیسے مسائل کا شکار رہا۔ انسانی حقوق کے تناظر میں یہ خدشہ بارہا ظاہر کیا گیا کہ طاقتور سماجی و قبائلی ڈھانچوں کے باعث تفتیشی عمل آزاد اور غیر جانبدار نہیں رہ سکا۔ جب کسی معاشرے میں اثر و رسوخ رکھنے والے افراد کے خلاف مقدمہ ہو، تو تفتیشی افسران اور گواہان پر دباؤ کا خدشہ ایک حقیقت بن جاتا ہے۔

سندھ میں موجود روایتی سرداری و وڈیرہ نظام پر بھی طویل عرصے سے تنقید ہوتی رہی ہے۔ یہ نظام بعض اوقات انصاف کے عمل پر غیر محسوس مگر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔ ایسے ماحول میں کسی بھی سرکاری اہلکار کے لیے مکمل آزادی کے ساتھ کام کرنا ایک چیلنج بن جاتا ہے۔

عدالتیں، اپنے دائرہ کار کے مطابق، صرف پیش کیے گئے شواہد کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہیں۔ اگر شواہد کمزور ہوں یا مناسب طریقے سے جمع اور پیش نہ کیے گئے ہوں، تو عدالت کے پاس بریت کے سوا کوئی قانونی راستہ باقی نہیں رہتا۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں پورا نظام—پولیس، تفتیش اور استغاثہ—سوالات کی زد میں آتا ہے۔

یہ فیصلہ ایک بار پھر اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان میں انصاف کا حصول صرف عدالتوں تک محدود نہیں بلکہ اس سے پہلے کے تمام مراحل اس سے زیادہ اہم ہیں۔ اگر تفتیش شفاف، پیشہ ورانہ اور دباؤ سے آزاد نہ ہو، تو انصاف کا عمل ابتدا ہی میں کمزور ہو جاتا ہے۔

اب جبکہ ام رباب نے اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرنے کا اعلان کر دیا ہے ، اس لئے اعلی عدالت کو عدالتی توقیر بحال کرنے اور کمزور تفتیش کے خلاف ایک مثالی قدم اٹھانے کی ضرورت ہے

اس حساس اور ہائی پروفائل کیس کے تناظر میں یہ ایک مضبوط اور جائز مطالبہ سامنے آتا ہے کہ ہائی کورٹ اس کیس کو دوبارہ کھولنے جسے قانونی اصطلاح میں ریمانڈ بیک کہا جاتا ہے پر غور کرے۔ اگر واقعی شواہد کے ضائع ہونے، کمزور تفتیش یا ممکنہ دباؤ کے خدشات موجود ہیں، تو انصاف کے تقاضے یہی ہیں کہ معاملے کی نئی، غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کروائی جائیں۔

اس مقصد کے لیے یہ ضروری ہو سکتا ہے کہ تفتیش سندھ سے باہر کے تجربہ کار اور غیر جانبدار افسران کے سپرد کی جائے، یا کسی وفاقی تحقیقاتی ادارے—جیسے ایف آئی اے—کو شامل کیا جائے، تاکہ کسی بھی قسم کے مقامی دباؤ یا اثر و رسوخ سے بالاتر ہو کر حقائق سامنے لائے جا سکیں۔

ایسی پیش رفت نہ صرف اس کیس میں انصاف کے امکانات کو مضبوط کرے گی بلکہ عوام کے عدالتی نظام پر اعتماد کو بھی بحال کرنے میں مدد دے گی۔

یہ کیس اس بات کی یاد دہانی ہے کہ:

پولیس اور استغاثہ کو سیاسی اثر سے آزاد کرنا ہوگا
گواہوں کے تحفظ کا مؤثر نظام بنانا ہوگا
اور تفتیشی عمل کو جدید اور شفاف بنانا ہوگا

اگر یہ اصلاحات نہ کی گئیں، تو ایسے کیسز میں فیصلے چاہے کچھ بھی ہوں، عوام کا اعتماد بحال نہیں ہو سکے گا۔

اُمِ رباب چانڈیو کی ممکنہ اپیل اس بات کی امید دلاتی ہے کہ یہ جدوجہد ابھی ختم نہیں ہوئی۔ مگر اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ریاستی ادارے اس کیس کو ایک مثال کے طور پر دیکھیں اور تفتیشی نظام میں اصلاحات پر سنجیدگی سے غور کریں۔

یہ واقعہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ:

* کیا کمزور فریق واقعی طاقتور کے خلاف انصاف حاصل کر سکتا ہے؟
* کیا ہمارا تفتیشی نظام آزاد اور مؤثر ہے؟
* اور کیا ہم ایک ایسا معاشرہ بنا سکے ہیں جہاں انصاف صرف ایک خواب نہ ہو؟

ان سوالات کے جوابات ہی اس کیس کی اصل میراث ہوں گے—اور شاید اسی میں ایک بہتر، منصفانہ پاکستان کی بنیاد بھی پوشیدہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں