پاکستان کے پیٹرولیم ڈویژن نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں صرف 27 دن کا پیٹرول اور محض 9 دن کی ایل پی جی باقی ہے۔ 70 فیصد ایندھن کے لیے ہم غیروں کے محتاج ہیں، لیکن ستم ظریفی دیکھیے! سیکرٹری پیٹرولیم فرماتے ہیں کہ پیٹرول کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ “ذخیرہ اندوزی” روکنے کے لیے کیا گیا۔
سوال یہ ہے کہ کیا عوام کی جیب پر ڈاکہ ڈالنا ہی واحد حل تھا؟ یا یہ عوام کو دال دلیا کی فکر میں اتنا الجھا دینے کی سازش ہے کہ وہ اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کے قابل ہی نہ رہیں؟
عالمی بینک (World Bank) اور مقامی معاشی ماہرین کی حالیہ رپورٹس کے مطابق، پاکستان میں خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی شرح 40% سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ:
9 کروڑ سے زائد پاکستانی اتنی رقم بھی نہیں کما پاتے کہ اپنے بچوں کو دو وقت کی متوازن غذا فراہم کر سکیں۔
حالیہ ایک سال میں مہنگائی کی شرح (CPI) 30% سے 40% کے درمیان رہنے کی وجہ سے مزید 1 کروڑ سے زائد لوگ خطِ غربت کی لکیر سے نیچے دھکیل دیے گئے ہیں۔
پاکستان میں خطِ غربت کا تعین صرف کیلوریز کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، لیکن موجودہ حالات میں:
خوراک کی غربت: آٹے کے ایک تھیلے کی قیمت اب ایک دیہاڑی دار مزدور کی تین دن کی کمائی کے برابر ہو چکی ہے۔
توانائی کی غربت: پیٹرول کی قیمت میں 55 روپے کا حالیہ اضافہ صرف سفر مہنگا نہیں کرتا، بلکہ یہ سبزی، دال اور دودھ کی قیمتوں کو آگ لگا دیتا ہے۔ جب پیٹرول بڑھتا ہے، تو غریب کی تھالی سے سالن غائب ہو جاتا ہے۔
تعلیمی و طبی غربت: جب آمدن کا 80% حصہ صرف آٹے اور بجلی کے بل میں چلا جائے، تو علاج اور تعلیم “عیاشی” بن جاتے ہیں۔
جس پیٹرول کی قیمت میں 55 روپے کا حالیہ اضافہ آپ کے بچوں کے منہ سے نوالہ چھین چکا ہے، وہی پیٹرول اس ملک کا ایک مخصوص طبقہ آج بھی ‘مفت’ ڈکار رہا ہے۔ رمضان کے اس مقدس مہینے میں جب ایک مزدور اپنی بائیک میں ایک لیٹر پیٹرول ڈلوانے سے پہلے سو بار سوچتا ہے، تب نظام کے بڑے مہرے عوامی ٹیکس کے پیسوں پر شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں۔
رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں جہاں عام شہری آٹے اور پیٹرول کی قیمتوں پر آنسو بہا رہا ہے، وہیں سرکاری خزانے سے مفت ایندھن کی فراہمی کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ آئیے ان مراعات پر ایک نظر ڈالیں جو عوامی ٹیکس کے پیسوں سے پوری کی جاتی ہیں:
• اعلیٰ عدلیہ: مروجہ قوانین کے مطابق، سپریم کورٹ کے جج کو ماہانہ 600 لیٹر اور ہائی کورٹ کے جج کو 500 لیٹر پیٹرول فراہم کیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی مراعات کا ایک حصہ تاحیات برقرار رہتا ہے۔ کیا معاشی بحران میں ان مراعات پر نظرِ ثانی وقت کی ضرورت نہیں؟
• سیاسی و انتظامی عہدیدار: وفاقی و صوبائی وزراء اور قائمہ کمیٹیوں کے سربراہان کو 300 سے 600 لیٹر تک ماہانہ پیٹرول کا کوٹہ میسر ہے۔ اس کے علاوہ سرکاری دوروں اور پروٹوکول کے نام پر خرچ ہونے والا ایندھن الگ بوجھ ہے۔
• افسر شاہی (بیوروکریسی): گریڈ 21 اور 22 کے اعلیٰ افسران کو ان کے عہدے کے مطابق 200 سے 500 لیٹر ماہانہ پیٹرول کی سہولت حاصل ہے۔ کیا موجودہ معاشی حالات میں یہ شاہانہ اخراجات ہمارا خزانہ برداشت کر سکتا ہے؟
• ریٹائرڈ اعلیٰ حکام: مختلف شعبوں کے ریٹائرڈ افسران کو ملنے والے ٹرانسپورٹ الاؤنسز اور مراعات کی سالانہ لاگت کروڑوں روپے بنتی ہے، جو کہ ایک غریب ملک کے لیے بڑا سوالیہ نشان ہے۔
چند چبھتے ہوئے سوالات:
1. عام آدمی پیٹرول کے ہر لیٹر پر 100 روپے سے بھی زائد ٹیکس اور لیوی دے رہا ہے، تو کیا حکمران طبقے نے اپنی مراعات میں ایک روپے کی بھی رضاکارانہ کٹوتی کی؟
2. جب معیشت وینٹی لیٹر پر ہو، تو کیا شاہانہ پروٹوکول اور لگژری گاڑیوں کے قافلے بند نہیں ہونے چاہئیں؟
3. قربانی کا ہر مطالبہ صرف غریب سے ہی کیوں؟ کیا پالیسی ساز اپنی غلطیوں کی قیمت خود ادا کریں گے؟
وقت کا تقاضا:
عوام اب صرف وعدوں سے بہلنے والے نہیں۔ اگر ملک کو معاشی دلدل سے نکالنا ہے تو شروعات “اوپر” سے کرنی ہوگی۔ مراعات یافتہ طبقے کو حاصل مفت پیٹرول، بجلی اور گیس کی سہولیات فوری ختم کر کے یہ پیسہ عام آدمی کے ریلیف پر خرچ ہونا چاہیے۔
حق مانگنا جرم نہیں، اصلاح کا مطالبہ ہمارا آئینی حق ہے!
یاد رکھیے! جس ملک میں انصاف کے علمبردار اور قانون کے محافظ مفت پیٹرول پر گھومیں اور غریب کا بچہ بھوک سے روئے، وہاں انقلاب دستک نہیں دیتا بلکہ وہ نظام خود بخود اپنی موت مر جاتا ہے۔


