12

سندھ ہائیکورٹ نے پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کی تحفظ اور مقدمہ خارج کرنے کی درخواست نمٹا دی

**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو)** – سندھ ہائیکورٹ نے پسند کی شادی کرنے والے ایک جوڑے کی جانب سے تحفظ فراہم کرنے اور اغوا کے مقدمے کو خارج کرنے کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے مقدمہ خارج کرنے کی استدعا مسترد کر دی، تاہم درخواست نمٹا دی۔

سماعت کے دوران درخواست گزار لڑکی کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ لڑکی نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے اور شادی کے بعد اس کے گھر والے مبینہ طور پر **کاروکاری کے نام پر دھمکیاں دے رہے ہیں**۔

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ لڑکے کے خلاف **تھانہ ٹنڈو باگو میں اغوا کا مقدمہ درج کیا گیا ہے جو جھوٹا ہے**۔ درخواست گزاروں نے عدالت سے تحفظ فراہم کرنے اور مقدمہ ختم کرنے کی استدعا کی تھی۔

دوسری جانب لڑکی کے والدین کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ سرکاری ریکارڈ کے مطابق لڑکی کی عمر **18 سال سے کم** ہے، جبکہ **سندھ چائلڈ میرج رسٹرینٹ ایکٹ** کے تحت کم عمری کی شادی جرم ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ معاملے کی تحقیقات ابھی جاری ہیں اور عبوری چالان بھی جمع کروایا جا چکا ہے۔

سندھ ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے کہ **لڑکی کی عمر اور نکاح کی قانونی حیثیت سے متعلق تنازعات آئینی درخواست میں طے نہیں کیے جا سکتے**۔ عدالت کے مطابق نکاح کی حیثیت اور فوجداری ذمہ داری کا تعین ٹرائل کورٹ شواہد کی بنیاد پر کرے گی۔

عدالت نے مزید کہا کہ وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے کے مطابق **کم عمری کی شادی جرم ہونے کے باوجود ازخود قابل تنسیخ قرار نہیں پاتی**۔

عدالت نے سرکاری حکام کو ہدایت کی کہ وہ کسی بھی فریق کو ہراساں کرنے سے گریز کریں، تاہم اگر کسی فریق کو جان یا آزادی کو خطرہ لاحق ہو تو اسے مناسب تحفظ فراہم کیا جائے۔

🤝 **دنیا کی نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز ایجنسی HRNW کو سپورٹ کریں**
👉 [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)

⚠️ **اہم ہدایت (Important Note)**
یہ خبر عدالتی کارروائی اور دستیاب عدالتی ریکارڈ پر مبنی ہے۔ HRNW (hrnww.com) فریقین کے مؤقف یا الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں کرتا۔ کسی بھی شخص کی قانونی حیثیت کا تعین عدالت کے حتمی فیصلے کے ذریعے کیا جاتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں