**اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو)** — اسپیشل کورٹ (سنٹرل) راولپنڈی نے **92 نرسوں کو مبینہ جعلی تجربہ سرٹیفکیٹس کے ذریعے سعودی عرب بھیجنے** کے مقدمے میں دو ملزمان کو مجموعی طور پر **41 سال قید** اور مالی جرمانوں کی سزا سنا دی، جبکہ عدالت نے متاثرہ نرسوں کے لیے **92 لاکھ روپے معاوضے** کی ادائیگی کا بھی حکم دیا ہے۔
ایف آئی اے اسلام آباد زون کے مطابق اسپیشل کورٹ (سنٹرل) راولپنڈی کے جج **عبدالرحمٰن محمد عارف** نے مقدمہ نمبر **103/2024** میں پاکستان پینل کوڈ، ایمیگریشن آرڈیننس 1979 اور پریونشن آف کرپشن ایکٹ 1947 کی متعلقہ دفعات کے تحت فیصلہ سنایا۔
مقدمہ 92 نرسوں کو مبینہ جعلی تجربہ سرٹیفکیٹس کی بنیاد پر سعودی عرب بھیجنے سے متعلق تھا، جہاں پہنچنے کے تقریباً ایک ماہ بعد انہیں واپس ڈی پورٹ کر دیا گیا تھا۔ ایف آئی اے کے مطابق مقدمے کی پیش رفت سے متعلق رپورٹس باقاعدگی سے وزیراعظم آفس کو بھی ارسال کی جاتی رہیں۔
### ملزم غلام ذوالفقار علی عرف میاں ذوالفقار
عدالت نے غلام ذوالفقار علی کو مختلف دفعات کے تحت سزائیں سنائیں، جن میں **دفعہ 420، 468 اور 471 پی پی سی** کے تحت سات، سات سال جبکہ **ایمیگریشن آرڈیننس 1979 کی دفعات 18 اور 22** کے تحت دس، دس سال سخت قید شامل ہے۔ عدالت کے مطابق تمام سزائیں بیک وقت جاری ہوں گی۔
عدالت نے **دفعہ 544-A ضابطہ فوجداری** کے تحت ملزم کو 92 متاثرہ نرسوں کو فی کس **ایک لاکھ روپے**، یعنی مجموعی طور پر **92 لاکھ روپے معاوضہ** ادا کرنے کا بھی حکم دیا۔ یہ رقم ڈائریکٹر ایف آئی اے اسلام آباد کے ذریعے متاثرہ نرسوں میں تقسیم کی جائے گی۔
### ملزم غلام فرید
دوسرے ملزم **غلام فرید ولد محمد صادق** کو ایمیگریشن آرڈیننس 1979 کی دفعہ 18 کے تحت **تین سال سخت قید اور دو لاکھ روپے جرمانے** کی سزا سنائی گئی۔
عدالت نے غلام فرید کو دفعہ 22 ایمیگریشن آرڈیننس 1979 اور دفعات 420، 468 اور 471 پی پی سی کے الزامات میں **شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری** کر دیا۔
ایف آئی اے کے مطابق دونوں ملزمان کو سزا سنائے جانے کے بعد **سنٹرل جیل راولپنڈی** منتقل کر دیا گیا ہے۔
ایف آئی اے اسلام آباد زون کے مطابق مقدمے کی تفتیش ڈائریکٹر ایف آئی اے اسلام آباد زون کی نگرانی میں ڈپٹی ڈائریکٹر **افضل خان نیازی** کی قیادت میں کی گئی، جبکہ تفتیشی افسران سب انسپکٹر **کاشف ریاض اعوان، سب انسپکٹر احتشام گونڈل** اور اے ڈی لیگل **صلاح الدین** نے شواہد اکٹھے کرنے اور چالان کی تیاری میں کردار ادا کیا۔
ایف آئی اے اسلام آباد زون نے کہا ہے کہ ایمیگریشن فراڈ اور انسانی اسمگلنگ میں مبینہ طور پر ملوث عناصر کے خلاف قانونی کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔
## Human Angle
بیرون ملک روزگار یا پیشہ ورانہ مواقع کے حصول کے لیے جانے والے افراد کو جعلی دستاویزات اور غیر قانونی امیگریشن نیٹ ورکس کے باعث مالی، پیشہ ورانہ اور انسانی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ 92 نرسوں کے معاملے میں عدالت کی جانب سے متاثرین کے لیے معاوضے کا حکم متاثرہ افراد کے مالی ازالے کے قانونی پہلو کو اجاگر کرتا ہے۔
## HRNW Support Appeal
Human Rights News Worldwide (HRNW) انسانی حقوق، شہری آزادیوں، انصاف اور انسانی وقار کے فروغ کے لیے کام کرتا ہے۔ آپ کا تعاون HRNW کو عوامی آگاہی اور انسانی حقوق کے مشن کو دنیا بھر میں جاری رکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
**اہم نوٹ / ڈسکلیمر:** یہ رپورٹ ایف آئی اے کی فراہم کردہ معلومات اور عدالت کے بیان کردہ فیصلے کی تفصیلات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ سزاؤں اور بریت سے متعلق حتمی قانونی حیثیت عدالتی ریکارڈ اور قابلِ اطلاق اپیل کے قانونی عمل کے تابع ہے۔


