**خضدار — (ایچ آراین ڈبلیو)**خضدار سے تعلق رکھنے والی اسما جتک نے اپنے والد عنایت اللہ جتک کے قتل کے معاملے میں شفاف تحقیقات، نامزد ملزمان کی گرفتاری اور اپنے خاندان کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اسما جتک کے مطابق ان کے اغوا سے شروع ہونے والے واقعات کے بعد ان کے خاندان کو مسلسل خوف اور عدم تحفظ کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے والد عنایت اللہ جتک کو بھی قتل کردیا گیا، جس کے بعد خاندان انصاف اور تحفظ کا منتظر ہے۔
انہوں نے بتایا کہ **8 اگست کو واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دی گئی تھی** جسے 15 روز میں اپنی رپورٹ پیش کرنا تھی، تاہم ان کے مطابق 51 روز گزرنے کے باوجود رپورٹ منظرعام پر نہیں لائی گئی اور خاندان کو تحقیقات کی پیش رفت سے بھی آگاہ نہیں کیا گیا۔
اسما جتک نے سوال اٹھایا کہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ میں تاخیر کی وجہ کیا ہے اور خاندان کو تحقیقات کے عمل میں اعتماد میں کیوں نہیں لیا جارہا۔
ان کے مطابق ان کے والد کے قتل کے بعد کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر طفیل بلوچ کا تبادلہ کردیا گیا، جبکہ ڈی آئی جی وزیر ناصر کی جانب سے عوامی سطح پر کیس میں متعدد افراد کی گرفتاری سے متعلق بتایا گیا تھا۔ اسما جتک کا کہنا ہے کہ بعد ازاں ان افسر کا بھی تبادلہ کردیا گیا۔
اسما جتک نے کہا کہ افسران کے مسلسل تبادلوں اور تحقیقات میں تاخیر سے خاندان کے خدشات اور عدم تحفظ میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق **ظہور جمالزئی** کی گرفتاری تاحال ایک اہم معاملہ ہے اور خاندان اس حوالے سے عملی پیش رفت کا منتظر ہے۔
انہوں نے کہا کہ خاندان صرف انصاف چاہتا ہے اور اپنے باقی اہل خانہ کے تحفظ کا مطالبہ کرتا ہے۔
### اسما جتک کے مطالبات
اسما جتک نے حکومت بلوچستان اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ:
* فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ فوری طور پر منظرعام پر لائی جائے۔
* خاندان کو تحقیقات کی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ کیا جائے۔
* ظہور جمالزئی سمیت تمام مطلوب افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
* کیس کی تحقیقات شفاف اور غیر جانب دارانہ انداز میں مکمل کی جائیں۔
* خاندان کو فوری اور مؤثر سکیورٹی فراہم کی جائے۔
* تحقیقات سے متعلق افسران کو غیر ضروری دباؤ سے محفوظ رکھتے ہوئے قانونی ذمہ داریاں ادا کرنے کا موقع دیا جائے۔
اسما جتک نے وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی سے اپیل کی کہ وہ معاملے کا فوری نوٹس لیں اور خاندان کو انصاف اور تحفظ کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات یقینی بنائیں۔
انہوں نے حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں، سول سوسائٹی اور ذرائع ابلاغ سے بھی اپیل کی کہ خاندان کی آواز کو نظرانداز نہ کیا جائے اور معاملے کی شفاف تحقیقات کو یقینی بنایا جائے۔
### پس منظر
دستیاب معلومات کے مطابق **5 اور 6 فروری 2025 کی درمیانی شب** اسما جتک کو خضدار میں ان کے گھر سے مبینہ طور پر اغوا کیا گیا تھا۔ اس واقعے کا مقدمہ ان کے بھائی حفیظ اللہ کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا، جس میں ظہور جمالزئی اور دیگر افراد کو نامزد کیا گیا۔
اہل خانہ کے مطابق رواں سال اگست میں اسما جتک کے والد عنایت اللہ جتک کو بھی قتل کردیا گیا۔ اسما جتک کا مؤقف ہے کہ والد کے قتل کے معاملے میں بھی ظہور جمالزئی سمیت بعض افراد سے متعلق تحقیقات اور گرفتاری کے اقدامات کی ضرورت ہے۔
## انسانی حقوق اور عوامی مفاد
کسی بھی شہری کے اغوا یا قتل کے معاملے میں متاثرہ خاندان کو انصاف، تحفظ اور تحقیقات سے متعلق بنیادی معلومات تک رسائی حاصل ہونا اہم ہے۔ ایسے مقدمات میں شفاف، غیر جانب دار اور قانون کے مطابق تحقیقات نہ صرف متاثرہ خاندان کے اعتماد کے لیے ضروری ہیں بلکہ انصاف کے نظام پر عوامی اعتماد برقرار رکھنے کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہیں۔
اگر کسی شخص کے خلاف اغوا یا قتل کے الزامات ہیں تو اس کی گرفتاری اور قانونی کارروائی شواہد اور قانون کے مطابق ہونی چاہیے، جبکہ کسی بھی نامزد شخص کو عدالت سے حتمی فیصلہ آنے تک مجرم قرار نہیں دیا جاسکتا۔
خاندان کی جانب سے تحفظ کے خدشات سامنے آنے کی صورت میں متعلقہ حکام کی ذمہ داری ہے کہ خطرے کا جائزہ لے کر مناسب قانونی اور حفاظتی اقدامات کریں۔
## HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
## Disclaimer
یہ خبر اسما جتک اور ان کے خاندان کی جانب سے بیان کیے گئے مؤقف اور فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ ظہور جمالزئی یا کسی دوسرے شخص کے خلاف بیان کردہ الزامات کو عدالتی طور پر ثابت شدہ حقائق تصور نہ کیا جائے۔ کسی بھی ملزم کے جرم یا بے گناہی کا حتمی تعین مجاز عدالت اور شفاف قانونی کارروائی کے ذریعے ہی ہوسکتا ہے۔ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ اور دیگر سرکاری ریکارڈ سامنے آنے کے بعد مزید حقائق واضح ہوسکتے ہیں۔


