**اسلام آباد — (ایچ آراین ڈبلیو)**وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کا سوال فی الحال قبل از وقت ہے، تاہم انہوں نے صوبے میں امن و امان اور گورننس کی صورتحال پر تنقید کی ہے۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گورننس کی ناکامی واضح ہے اور صوبائی حکومت دہشت گردی کی روک تھام میں مؤثر اقدامات نہیں کر سکی۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے تحت ہر سال دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے فنڈز دیے جاتے ہیں، اس کے باوجود کوہاٹ اور ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشت گردی کے بڑے واقعات پیش آئے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ صوبائی حکومت کو سیاسی سرگرمیوں کے بجائے ان علاقوں پر توجہ دینی چاہیے جہاں دہشت گردی کے واقعات میں شہریوں اور اہلکاروں کی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ ان کے مطابق صحت اور تعلیم سمیت صوبے کے مختلف شعبوں میں بھی حکومتی کارکردگی پر سوالات موجود ہیں۔
عطا تارڑ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے مجوزہ لانگ مارچ سے متعلق بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ سہیل آفریدی اتنی سیاسی قوت رکھتے ہیں کہ لانگ مارچ کر سکیں۔
خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے حوالے سے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر بات کرنا اس وقت قبل از وقت ہے۔ اس سے قبل وفاقی حکومت کے بعض دیگر ارکان کی جانب سے صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے آئینی امکانات پر بھی بیانات سامنے آ چکے ہیں۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے پی ٹی آئی کے احتجاج کو سیاسی و آئینی حق قرار دیتے ہوئے لانگ مارچ کے حوالے سے اپنی جماعت کا مؤقف پیش کیا تھا۔ بعد ازاں 27 ستمبر کے مجوزہ مارچ کی تاریخ تبدیل کرکے 4 اکتوبر کرنے کا اعلان بھی سامنے آیا۔
عطا تارڑ نے افغانستان پر بھی الزام عائد کیا کہ وہاں کی حکومت دہشت گردی کی حمایت کر رہی ہے اور کہا کہ پاکستان دہشت گردی کا جواب دے گا۔ ان کے مطابق تھری ایم پی او کے تحت نظر بندی قانون کے مطابق کی جارہی ہے۔ ان دعوؤں پر متعلقہ فریقین کا مؤقف الگ سے اہم ہے۔
## انسانی حقوق اور عوامی مفاد
خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال براہ راست شہریوں کے جان و مال، تعلیم، صحت اور روزمرہ زندگی کے حقوق سے متعلق ہے۔ دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے ساتھ ساتھ شہریوں کے آئینی حقوق، قانون کے مطابق کارروائی اور شفافیت کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
سیاسی احتجاج کے معاملے میں بھی پرامن اجتماع اور اظہارِ رائے کے آئینی حقوق کا احترام کیا جانا چاہیے، جبکہ عام شہریوں کی نقل و حرکت، کاروباری سرگرمیوں اور عوامی تحفظ کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
## HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
## Disclaimer
اس خبر میں وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ اور دیگر سیاسی فریقین کے بیانات کو ان کے متعلقہ مؤقف کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ کسی سیاسی جماعت یا حکومت کی کارکردگی سے متعلق دعووں کو آزادانہ طور پر ثابت شدہ حقائق کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔ گورنر راج یا ایمرجنسی سے متعلق کسی بھی اقدام کے لیے آئینی و قانونی تقاضے متعلقہ حکام کے فیصلوں اور سرکاری ریکارڈ سے طے ہوں گے۔


