4

عوام کو جلد ریلیف دیا جائے، ورنہ ملتان سے لانگ مارچ روانہ ہوگا: لیاقت بلوچ

**لاہور — (ایچ آراین ڈبلیو)**نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے حکومت سے عوام کو مہنگائی اور معاشی مشکلات سے ریلیف دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر عوام کو جلد ریلیف نہ دیا گیا تو جماعت اسلامی کا لانگ مارچ ملتان سے روانہ ہوگا۔

منصورہ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی کی احتجاجی تحریک کی تیاری مکمل ہے اور پٹرولیم لیوی کے خاتمے سمیت عوامی مطالبات پر حکومت کے ساتھ لامحدود مدت تک مذاکرات یا کمیٹی کا انتظار نہیں کیا جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی پٹرولیم لیوی کے خاتمے، بجلی کی قیمتوں میں کمی اور آزاد بجلی پیدا کرنے والے اداروں (آئی پی پیز) سے متعلق معاملات کے جائزے سمیت عوامی مسائل کے حل کا مطالبہ کر رہی ہے۔ جماعت اسلامی کی جانب سے پہلے بھی حکومت کو پٹرولیم لیوی ختم کرنے کے مطالبے سے آگاہ کیا گیا ہے۔

لیاقت بلوچ نے ملکی سیاسی اور انتظامی صورتحال پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق گڈ گورننس کے فقدان سے سیاست، معیشت اور قومی سلامتی کو مشکلات کا سامنا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ حالات کی ذمہ داری سول ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور خاندانی حکمرانی پر عائد ہوتی ہے اور ان عوامل سے پارلیمان اور جمہوری عمل متاثر ہوا ہے۔ ان کے مطابق انتخابات سے متعلق تنازعات نے بھی اسمبلیوں کی اہمیت کو متاثر کیا ہے۔

لیاقت بلوچ نے کہا کہ بیوروکریسی اور سرکاری اداروں کو عوامی مسائل کے حل کے لیے جواب دہ ہونا چاہیے، جبکہ وفاق اور صوبوں کو آئینی ذمہ داریوں پر مؤثر عمل درآمد کرنا چاہیے۔

انہوں نے قومی سطح پر سیاسی مکالمے اور اتفاقِ رائے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی ملک کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ایک قومی ایجنڈا رکھتی ہے اور تمام سیاسی قیادت کو قومی ڈائیلاگ میں شریک ہونے کی دعوت دیتی ہے۔

لیاقت بلوچ نے آزاد عدلیہ، کرپشن کے خاتمے، حکمرانوں کے اخراجات میں کمی اور بااختیار بلدیاتی نظام کے قیام پر بھی زور دیا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے مطالبات پر سنجیدہ پیش رفت نہ کی تو جماعت اسلامی اپنی احتجاجی تحریک آگے بڑھائے گی۔ جماعت اسلامی کی جانب سے اس سے قبل بھی پٹرولیم لیوی کے خلاف ملک گیر احتجاج اور لانگ مارچ کا اعلان کیا جاچکا ہے۔

### صومالیہ میں پاکستانی شہریوں کی ہلاکت

دوسری جانب حافظ نعیم الرحمان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر صومالیہ میں کارروائی کے دوران پاکستانی شہریوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

تازہ رپورٹس کے مطابق صومالیہ کے نیم خودمختار علاقے پنٹ لینڈ میں ہائی جیک کیے گئے آئل ٹینکر **MT Honour 25** کو بازیاب کرانے کی کارروائی کے دوران پانچ عملے کے ارکان ہلاک ہوئے، جن میں تین پاکستانی شہری بھی شامل تھے۔ رپورٹس کے مطابق چار دیگر افراد زخمی ہوئے۔

## انسانی حقوق اور عوامی مفاد

مہنگائی، ایندھن اور بجلی کی قیمتوں سے متعلق حکومتی پالیسیوں کے براہِ راست اثرات عام شہریوں، مزدوروں، طلبہ اور کاروباری طبقے پر پڑتے ہیں۔ پٹرولیم لیوی یا عوامی ریلیف سے متعلق فیصلوں میں شفاف اعداد و شمار، پارلیمانی نگرانی اور عوامی مفاد کو مدنظر رکھنا اہم ہے۔

اسی طرح سیاسی احتجاج آئینی و جمہوری عمل کا حصہ ہے، تاہم احتجاج کے دوران شہریوں کی نقل و حرکت، کاروبار، صحت اور امن و امان کے حقوق کا تحفظ بھی ضروری ہے۔ حکومت اور احتجاج کرنے والی جماعتوں کے درمیان مذاکرات میں عوامی مفاد اور قانون کی پاسداری کو بنیادی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔

صومالیہ میں پاکستانی شہریوں کی ہلاکت کے معاملے میں بھی متاثرہ خاندانوں کو بروقت معلومات، لاشوں کی واپسی اور زخمی افراد کے علاج و تحفظ کے لیے متعلقہ حکام کی مؤثر معاونت ضروری ہے۔

## HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

## Disclaimer

اس خبر میں لیاقت بلوچ، حافظ نعیم الرحمان اور جماعت اسلامی کی جانب سے دیے گئے سیاسی بیانات کو ان کے مؤقف کے طور پر منسوب کیا گیا ہے۔ ان کے سیاسی دعووں کو آزادانہ طور پر ثابت شدہ حقائق کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔ صومالیہ کے واقعے سے متعلق ہلاکتوں اور کارروائی کی تفصیلات دستیاب میڈیا اور حکام کی رپورٹس پر مبنی ہیں، جن میں مزید سرکاری تصدیق یا تفصیلات سامنے آنے کی صورت میں تبدیلی ممکن ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں