5

ہم امن چاہتے ہیں، پانی کو بطور ہتھیار استعمال نہیں ہونے دیں گے: عطا تارڑ

**اسلام آباد — (ایچ آراین ڈبلیو)**وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے، تاہم پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے اہم ہے اور بین الاقوامی معاہدوں کی حیثیت یکطرفہ طور پر تبدیل نہیں کی جاسکتی۔

اسلام آباد میں انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز میں سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے تاریخی، قانونی اور تذویراتی پہلوؤں پر خصوصی رپورٹ کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ طے شدہ بین الاقوامی معاہدوں پر عمل درآمد متعلقہ فریقین کی ذمہ داری ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق اپنا مؤقف سفارتی سطح پر عالمی برادری کے سامنے پیش کیا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کا مؤقف ہے کہ معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل، ختم یا التوا میں نہیں رکھا جاسکتا۔

عطا تارڑ نے اگست 2026 میں دی ہیگ میں قائم کورٹ آف آربیٹریشن کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے پاکستان کے مؤقف کو تقویت دی ہے۔ عدالت نے 31 اگست 2026 کو قرار دیا تھا کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور نافذ ہے اور بھارت اس کے تحت اپنی ذمہ داریوں کا پابند ہے۔

تاہم بھارت نے مذکورہ ثالثی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے عدالت کے دائرۂ اختیار پر اعتراض کیا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان کے لیے دریائے سندھ کا پانی عوام، زراعت اور ملکی معیشت سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران بھی پانی کی اہمیت اور پاکستان کے مؤقف کو اجاگر کیا ہے۔

عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری جانی و مالی نقصان اٹھا چکا ہے اور اس معاملے پر بھی اپنا مؤقف سفارتی ذرائع اور عالمی فورمز کے ذریعے پیش کرتا رہے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدہ صرف پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی تقسیم کا انتظام نہیں بلکہ خطے میں تعاون اور استحکام کے لیے ایک اہم قانونی فریم ورک بھی ہے۔

تقریب میں سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر خان، آبی ماہرین اور انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز کے حکام بھی شریک ہوئے۔

## انسانی حقوق اور عوامی مفاد

پانی تک رسائی انسانی زندگی، خوراک، زراعت اور معیشت سے براہِ راست وابستہ ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی سے متعلق کسی بھی تنازع کا اثر دونوں ممالک کے عوام اور خطے کے ماحول و معیشت پر پڑ سکتا ہے۔

سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے اختلافات کو بین الاقوامی قانون، طے شدہ تنازعات کے حل کے طریقہ کار اور سفارتی ذرائع کے ذریعے حل کرنا شہریوں کے مفاد میں ہے۔ پانی کے وسائل سے متعلق فیصلوں میں شفافیت، پائیدار انتظام اور عام آبادی کے بنیادی مفادات کو مدنظر رکھنا بھی ضروری ہے۔

## HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

## Disclaimer

اس خبر میں وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ اور پاکستانی حکومت کا مؤقف واضح نسبت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ سندھ طاس معاہدے کی قانونی حیثیت سے متعلق ثالثی عدالت کے فیصلے اور بھارت کے اعتراضات کو بھی الگ الگ بیان کیا گیا ہے۔ سیاسی و سفارتی مؤقف کو کسی فریق کی جانب سے پیش کردہ دعوے کے طور پر سمجھا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں