4

پاکستان امن چاہتا ہے، افغانستان کو کراس بارڈر دہشتگردی روکنا ہوگی: طلال چوہدری

**اسلام آباد — (ایچ آراین ڈبلیو)**وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان امن اور مستحکم افغانستان کا خواہاں ہے، تاہم ان کے بقول افغانستان کو اپنی سرزمین سے پاکستان کے خلاف ہونے والی مبینہ کراس بارڈر دہشت گردی روکنے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔

اسلام آباد میں انٹرنیشنل پارلیمنٹیرینز کانگریس کے زیراہتمام افغانستان کی صورتحال پر منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ افغانستان میں امن اور پاکستان میں امن ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان مستقل کشیدگی پاکستان کی پالیسی نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان طویل عرصے سے پرامن اور مستحکم افغانستان کی بات کرتا آیا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان خود دہشت گردی سے متاثر ہوا ہے اور بعض دہشت گرد گروہ افغانستان میں موجود مبینہ ٹھکانوں سے پاکستان میں کارروائیاں کرتے ہیں۔

وزیر مملکت نے کہا کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان سمیت کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ سمیت مختلف اداروں کی رپورٹس میں بھی افغانستان میں بعض دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور مبینہ محفوظ ٹھکانوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ تاہم ان دعوؤں اور مختلف گروہوں سے متعلق تفصیلات کی آزادانہ تصدیق ہر معاملے میں ضروری ہے۔

طلال چوہدری نے کہا کہ پاکستان افغان عوام کے ساتھ انسانی بنیادوں پر تعلقات رکھتا ہے، تاہم وہ ان عناصر کی سرگرمیوں کے خلاف ہے جو مبینہ طور پر افغانستان سے پاکستان میں دہشت گردی کرتے ہیں۔

انہوں نے پاک افغان سرحد کو خطے کے امن کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ سرحدی سکیورٹی صرف ایک ملک کی ذمہ داری نہیں۔ ان کے مطابق دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیوں اور مبینہ کراس بارڈر دہشت گردی میں اضافے کے باعث مؤثر سرحدی انتظام اور باہمی تعاون ضروری ہے۔

وزیر مملکت نے کہا کہ پاکستان نے کئی دہائیوں تک افغان مہاجرین کی میزبانی کی ہے اور پاکستان کی خواہش ہے کہ افغانستان میں تمام طبقات کی نمائندگی ہو۔ ان کے مطابق پاکستان اپنے ہمسایوں کے ساتھ مستقل کشیدگی نہیں چاہتا اور افغانستان میں امن کا خواہاں ہے۔

## انسانی حقوق اور عوامی مفاد

پاکستان اور افغانستان کے درمیان امن و سلامتی کا معاملہ دونوں ممالک کے شہریوں کی جان و مال، نقل و حرکت اور معاشی سرگرمیوں سے براہ راست متعلق ہے۔ سرحدی دہشت گردی کے الزامات کی شفاف تحقیقات، شہریوں کے تحفظ اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اہم ہے۔

اسی طرح افغان عوام کے انسانی حقوق اور بنیادی ضروریات کا تحفظ بھی علاقائی امن کے لیے اہم پہلو ہے۔ دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں، مذاکرات اور قانونی طریقہ کار کو ترجیح دینا شہریوں کے وسیع تر مفاد میں ہے۔

## HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

## Disclaimer

اس خبر میں دہشت گردی اور افغان سرزمین سے متعلق دعوے پاکستانی وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور دیگر پاکستانی حکام کے مؤقف کے طور پر بیان کیے گئے ہیں۔ ان دعوؤں کو آزادانہ طور پر ثابت شدہ حقائق کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔ افغانستان کی جانب سے کسی بھی متعلقہ مؤقف یا تردید کو شامل کرنے کی صورت میں اسے بھی واضح طور پر منسوب کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں