**شکارپور — (ایچ آراین ڈبلیو)**شکارپور پولیس نے سیاہ کاری کے الزام میں باپ اور بیٹے کے قتل کے مقدمے میں بروقت کارروائی کرتے ہوئے دو مرکزی ملزمان کو گرفتار کرنے اور آلۂ قتل برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایس ایس پی شکارپور محمد کلیم کے مطابق تھانہ نبی شاہ وگھن پولیس نے رتودیرو-جیکب آباد روڈ پر کارروائی کرتے ہوئے قتل میں مبینہ طور پر ملوث دو ملزمان مختیار احمد جعفری اور بابل خان جعفری کو گرفتار کیا۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان پر غلام حسین جعفری اور اس کے بیٹے عبدالستار کو مبینہ طور پر پرانے سیاہ کاری کے الزام پر قتل کرنے کا الزام ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کے قبضے سے آلۂ قتل بھی برآمد کرلیا گیا ہے۔
ایس ایس پی شکارپور کے مطابق واقعے کا مقدمہ مقتول کی بھانجی سکینہ کی فریاد پر تھانہ نبی شاہ وگھن میں درج کیا گیا۔ واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی ایس پی گڑھی یاسین وسیم رضا کی سربراہی میں خصوصی پولیس ٹیم تشکیل دی گئی تھی۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ خصوصی ٹیم نے قلیل وقت میں کارروائی کرتے ہوئے مقدمے میں نامزد مرکزی ملزمان کو گرفتار کرلیا، جبکہ واقعے سے متعلق مزید تفتیش جاری ہے۔
ایس ایس پی محمد کلیم نے ملزمان کی گرفتاری پر پولیس ٹیم کو شاباش دیتے ہوئے کہا کہ مقدمے میں قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی اور شواہد کی بنیاد پر ذمہ دار افراد کو عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
## انسانی حقوق اور عوامی مفاد
سیاہ کاری کے نام پر تشدد اور قتل انسانی جان کے بنیادی حق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ کسی بھی شخص پر الزام کی بنیاد پر اسے سزا دینے کا اختیار صرف قانون اور عدالت کو حاصل ہے۔ ایسے مقدمات میں شفاف تفتیش، شواہد کا تحفظ اور ملزمان کو قانونی طریقہ کار کے مطابق عدالت میں پیش کرنا ضروری ہے۔
متاثرہ خاندان اور گواہوں کو تحفظ فراہم کرنا بھی اہم ہے تاکہ وہ کسی دباؤ یا خطرے کے بغیر قانونی کارروائی میں حصہ لے سکیں۔ معاشرے میں غیرت یا سیاہ کاری کے نام پر تشدد کے خاتمے کے لیے قانون کی بالادستی اور مؤثر احتساب ضروری ہے۔
## HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
## Disclaimer
یہ خبر شکارپور پولیس کے جاری کردہ بیان کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ گرفتار ملزمان کے خلاف قتل کے الزامات ابھی عدالتی کارروائی کے مرحلے میں ہیں اور انہیں جرم ثابت ہونے تک بے گناہ تصور کیا جاتا ہے۔ پولیس کی جانب سے آلۂ قتل اور دیگر شواہد کی برآمدگی کے دعووں کی حتمی قانونی حیثیت عدالت میں طے ہوگی۔


