کراچی: سندھ ہائی کورٹ میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکولر ڈیزیزز (این آئی سی وی ڈی) کے سروس ریگولیشنز کے خلاف ایک اور درخواست دائر کردی گئی۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ سروس ریگولیشنز کی قانونی حیثیت مشکوک ہے، اس لیے ان میں کسی بھی قسم کی ترمیم یا نظرثانی سے قبل مکمل انکوائری ضروری ہے۔
وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مبینہ طور پر انہی ریگولیشنز کی بنیاد پر اربوں روپے کے غیر قانونی مالی معاملات کیے گئے، جن کی پہلے تحقیقات ہونی چاہئیں۔
عدالت نے معاملے پر حکم جاری کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ ضرورت پڑنے پر این آئی سی وی ڈی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو طلب کیا جا سکتا ہے جبکہ سندھ حکومت سے بھی جواب طلب کیا جاسکتا ہے۔


