15

مدرسے کے طالب علم سے بدفعلی کے ملزم کی ضمانت مسترد

**اسلام آباد — (ایچ آراین ڈبلیو)**سپریم کورٹ نے مدرسے کے طالب علم سے مبینہ بدفعلی کے مقدمے میں نامزد ملزم زین علی کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی۔

جسٹس جمال خان مندوخیل کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران ملزم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ مدعی کی جانب سے غلط مقدمہ درج کرایا گیا ہے۔ وکیل نے عدالت کو بتایا کہ یہ ایک چھوٹا مدرسہ ہے جہاں اس نوعیت کا واقعہ پیش آنا ممکن نہیں۔

جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ اگر ایسا عمل مدرسے میں کیا گیا ہے تو یہ معاملہ مزید سنگین نوعیت اختیار کرجاتا ہے۔

سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کے خلاف فردِ جرم عائد ہوچکی ہے۔ اس پر جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ اگر ملزم بے قصور ہے تو وہ اپنا مؤقف ٹرائل کے دوران ثابت کرسکتا ہے۔

عدالت نے دلائل سننے کے بعد ملزم زین علی کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی۔ ملزم کے خلاف تھانہ ٹیکسلا میں مقدمہ درج ہے۔

## انسانی حقوق اور عوامی مفاد

تعلیمی اور مذہبی اداروں میں زیرِ تعلیم بچوں کا تحفظ ریاست، اداروں اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ایسے مقدمات میں متاثرہ بچے کی شناخت اور نجی معلومات کو محفوظ رکھنا، اسے قانونی و نفسیاتی معاونت فراہم کرنا اور شفاف تحقیقات یقینی بنانا ضروری ہے۔

ساتھ ہی ملزم کو بھی منصفانہ ٹرائل اور قانونی حقوق حاصل ہیں۔ جرم ثابت ہونے تک کسی شخص کو حتمی طور پر مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا، جبکہ عدالت کا فیصلہ مقدمے کے قانونی شواہد اور عدالتی کارروائی کی بنیاد پر ہوتا ہے۔

## HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، بچوں کے تحفظ اور عوامی مسائل کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

## Disclaimer

یہ خبر عدالتی کارروائی اور دستیاب معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ ملزم کے خلاف عائد الزامات کو حتمی جرم قرار نہیں دیا گیا۔ مقدمے کے حتمی حقائق ٹرائل اور عدالتی فیصلے کے بعد واضح ہوں گے۔ نابالغ متاثرہ فرد کی شناخت اور نجی معلومات دانستہ طور پر شامل نہیں کی گئی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں