5

ڈی جی آئی ایس پی آر کا بھارتی دعوے پر ردعمل، آصف الیاس کو میڈیا کے سامنے پیش کردیا

**اسلام آباد: (ایچ آراین ڈبلیو)**ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے ایک پریس بریفنگ کے دوران مقبوضہ کشمیر میں ایک مبینہ کارروائی سے متعلق بھارتی دعوے پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ جس شخص کو بھارتی حکام نے پاکستانی فوجی قرار دے کر ہلاک کیے جانے کا دعویٰ کیا، وہ شخص زندہ ہے اور پاکستان میں موجود ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق بھارتی فوج نے 29 ستمبر کی رات مقبوضہ جموں و کشمیر میں ایک مشترکہ سرچ آپریشن سے متعلق اطلاع جاری کی تھی، جس کے بعد 30 ستمبر کو دعویٰ کیا گیا کہ کارروائی میں لشکر طیبہ سے وابستہ ایک شخص مارا گیا ہے، جس کی شناخت محمد آصف الیاس عرف ہاشم موسیٰ کے نام سے کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق بھارتی جانب سے مذکورہ شخص کو پاکستان سے تعلق رکھنے والا قرار دیتے ہوئے اس کی سروس سے متعلق تفصیلات بھی جاری کی گئیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں بھارتی دعوے پر ردعمل دیتے ہوئے محمد آصف الیاس کو میڈیا کے سامنے پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی فوج اور بعد ازاں بھارتی حکومت کی جانب سے جس شخص کو ہلاک قرار دیا گیا، وہی محمد آصف یہاں موجود ہے۔

محمد آصف نے میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے 2008 میں پاک فوج میں شمولیت اختیار کی اور 2023 میں ایس ایس جی سے ریٹائرمنٹ کے بعد ایک نجی سکیورٹی کمپنی میں کام کیا۔ ان کے مطابق وہ اس وقت راولپنڈی میں اپنے خاندان کے ساتھ رہائش پذیر ہیں۔

محمد آصف نے بتایا کہ دوستوں اور دیگر افراد نے فون کرکے انہیں آگاہ کیا کہ بھارت کی جانب سے ان کی ہلاکت کی خبریں نشر کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر بھی ایسی خبریں دیکھنے کے بعد انہیں متعدد فون کالز موصول ہوئیں، جن میں بھارت سے آنے والی کالز بھی شامل تھیں۔

ان کے مطابق انہوں نے متعدد نمبرز بلاک کیے اور اپنے سابق افسران کو صورتحال سے آگاہ کیا۔ محمد آصف نے کہا کہ وہ زندہ ہیں اور اپنے ملک کی خدمت کے لیے آئندہ بھی تیار ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ بھارتی فوج کے بعد بھارتی حکومت کی جانب سے بھی اس شخص کے حوالے سے تفصیلات جاری کی گئیں، تاہم دونوں بیانات میں مبینہ تضاد پایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی حکام نے محمد آصف کو ایک بڑے دہشت گرد کے طور پر پیش کیا اور ان کی شناخت سے متعلق دستاویزات بھی دکھائیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے بھارتی کارروائی اور اس سے متعلق دعووں پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ جس آپریشن کو کامیابی قرار دیا گیا، اس کے حوالے سے ٹائم لائن اور فراہم کردہ تفصیلات بھی قابلِ سوال ہیں۔

دوسری جانب، بھارت کی جانب سے مذکورہ کارروائی اور ہلاک کیے گئے شخص کی شناخت سے متعلق دعووں کی آزادانہ تصدیق دستیاب معلومات کی بنیاد پر نہیں ہوسکی۔

حالیہ دنوں میں کشمیر کے معاملے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان بیانات اور الزامات کا سلسلہ جاری رہا ہے۔ 30 ستمبر کو ڈان نے رپورٹ کیا کہ امریکا نے پاکستان کو کشمیر سے متعلق اپنی پالیسی میں کسی تبدیلی نہ ہونے کی یقین دہانی کرائی، جبکہ خطے کے تنازع کے پرامن حل پر بھی زور دیا گیا۔

## انسانی حقوق اور عوامی مفاد

کشمیر سے متعلق مسلح کارروائیوں، سکیورٹی آپریشنز اور متضاد سرکاری دعووں کا براہِ راست اثر عام شہریوں کی زندگی، سلامتی اور بنیادی انسانی حقوق پر پڑ سکتا ہے۔ ایسے معاملات میں فریقین کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کی آزادانہ اور قابلِ اعتماد تصدیق، شہریوں کے تحفظ اور شفاف معلومات کی فراہمی اہم ہے۔

انسانی حقوق کے نقطۂ نظر سے ضروری ہے کہ کسی بھی کارروائی کے دوران عام شہریوں کی جان و مال کے تحفظ، قانونی تقاضوں اور انسانی حقوق کے اصولوں کو مقدم رکھا جائے اور غیر مصدقہ معلومات کی بنیاد پر کسی فرد کے خلاف فیصلہ کن دعوے کرنے سے گریز کیا جائے۔

## HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، عوامی مفاد اور آزاد صحافت کے لیے ہماری کوششوں کو جاری رکھنے میں آپ کا تعاون اہم ہے۔ HRNW کی معاونت کے لیے:

**https://www.hrnww.com/?page_id=1083**

## Disclaimer

یہ خبر دستیاب میڈیا رپورٹس اور متعلقہ حکام کے بیانات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ بھارتی کارروائی اور محمد آصف الیاس کی شناخت سے متعلق دعوے متنازع ہیں اور تمام تفصیلات کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق ممکن نہیں ہوسکی۔ خبر میں بیان کردہ الزامات اور دعوے متعلقہ فریقین سے منسوب ہیں، HRNW ان کی آزادانہ تصدیق کا دعویٰ نہیں کرتا۔

**اصل ماخذ:** [ایکسپریس نیوز کی اصل خبر](https://www.express.pk/story/2835760/dg-ispr-to-hold-important-press-conference-today-2835760/?utm_source=chatgpt.com)

اپنا تبصرہ بھیجیں