4

ملیر سٹی میں کارروائی، ایک کلو سے زائد چرس برآمد، مبینہ منشیات فروش گرفتار

**کراچی: (ایچ آراین ڈبلیو)**ضلع ملیر پولیس کے مطابق ملیر سٹی پولیس نے منشیات فروشی کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ایک مبینہ منشیات فروش کو گرفتار کرکے اس کے قبضے سے **1025 گرام چرس** برآمد کرلی۔

پولیس کے مطابق کارروائی مخبرِ خاص کی اطلاع پر **بکرا پیڑی، پیر محفوظ روڈ کے قریب، ملیر سٹی** میں کی گئی، جہاں سے مبینہ طور پر منشیات فروشی میں ملوث ملزم **احمر خان ولد عبدالستار** کو گرفتار کیا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم کے قبضے سے 1025 گرام چرس برآمد ہوئی، جس کے بعد اس کے خلاف تھانہ ملیر سٹی میں مقدمہ الزام نمبر **769/2026** بجرم دفعہ **9(1)3-C** درج کرلیا گیا۔

ترجمان ضلع ملیر پولیس کے مطابق ملزم کا سابقہ کریمنل ریکارڈ چیک کرنے پر مختلف تھانوں میں اس کے خلاف **7 مقدمات** درج ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

پولیس کے مطابق ملزم کے خلاف تھانہ ملیر سٹی اور تھانہ سعودآباد میں دفعہ **381-A، 381-A/34، 23-1-A، 353، 324، 186 اور 34** سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم کو مزید تفتیش کے لیے تفتیشی حکام کے حوالے کردیا گیا ہے، جبکہ منشیات کے ممکنہ نیٹ ورک اور ملزم کے دیگر جرائم سے متعلق مزید تفتیش جاری ہے۔

## انسانی حقوق اور عوامی مفاد

منشیات کی فروخت اور استعمال معاشرے، بالخصوص نوجوانوں، کے لیے ایک اہم عوامی مسئلہ ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے منشیات کے خلاف کارروائیوں کے ساتھ ساتھ منصفانہ تفتیش، شواہد کی قانونی حیثیت اور گرفتار افراد کے بنیادی قانونی حقوق کا تحفظ بھی ضروری ہے۔

گرفتار ملزم کو قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیے جانے، قانونی نمائندگی اور منصفانہ سماعت کا حق حاصل ہے۔ کسی بھی الزام یا سابقہ مقدمے میں جرم کا حتمی تعین عدالت کرے گی۔

## HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، عوامی مفاد اور آزاد صحافت کے لیے ہماری کوششوں کو جاری رکھنے میں آپ کا تعاون اہم ہے۔ HRNW کی معاونت کے لیے:

**https://www.hrnww.com/?page_id=1083**

## Disclaimer

یہ خبر ضلع ملیر پولیس کراچی کے جاری کردہ بیان کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ منشیات کی برآمدگی، ملزم کے سابقہ کریمنل ریکارڈ اور اس کے خلاف درج مقدمات سے متعلق معلومات پولیس کے مؤقف پر مبنی ہیں۔ کسی بھی ملزم کے جرم یا بے گناہی کا حتمی فیصلہ عدالت کرے گی۔ HRNW ان دعووں کی آزادانہ عدالتی تصدیق کا دعویٰ نہیں کرتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں