**اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو)** — پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرائے گئے جواب میں کہا ہے کہ پاکستان میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کرنے کے لیے فی الحال کوئی مخصوص قانون موجود نہیں، اس لیے پی ٹی اے اپنے موجودہ قانونی اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے عمر کی تصدیق کا نظام قائم نہیں کرسکتی۔
پی ٹی اے نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کو ریگولیٹ کرنے سے متعلق کیس میں اپنا تفصیلی جواب عدالت میں جمع کرایا۔ اتھارٹی کے مطابق بچوں کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک نیا قانونی اور پالیسی فریم ورک درکار ہے۔
پی ٹی اے کے مطابق غیر قانونی آن لائن مواد کو بلاک کرنے کے اس کے موجودہ اختیارات محدود اور عبوری نوعیت کے ہیں، جبکہ **PECA ترمیمی قانون 2025** کے تحت سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کا عمل بھی جاری ہے۔
### آن لائن مواد کے خلاف کارروائی
پی ٹی اے کے جمع کرائے گئے جواب کے مطابق اتھارٹی نے اب تک **17 لاکھ 89 ہزار سے زائد** غیر قانونی آن لائن لنکس اور یو آر ایل کا جائزہ لیا، جن میں سے **15 لاکھ 77 ہزار سے زائد** کو بلاک کیا گیا۔ جواب کے مطابق آن لائن مواد کے خلاف مجموعی بلاکنگ کی شرح 88.20 فیصد رہی۔
پی ٹی اے کے مطابق ٹک ٹاک، یوٹیوب، فیس بک، انسٹاگرام اور ایکس سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر قابلِ اعتراض یا غیر قانونی مواد کے خلاف کارروائی کی گئی۔ اتھارٹی نے بتایا کہ اخلاق باختہ مواد سے متعلق 10 لاکھ 66 ہزار سے زائد، اسلام مخالف مواد سے متعلق 2 لاکھ 3 ہزار سے زائد اور ملکی سلامتی کے خلاف 46 ہزار سے زائد لنکس بلاک کیے گئے۔
### عمر کی تصدیق کے نظام سے متعلق مؤقف
پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی جانب سے مقامی قوانین کی تعمیل اور شکایات کے ازالے کے لیے مقامی افسران کی تعیناتی سے متعلق درخواستوں پر اسے مطلوبہ تعاون نہیں ملا۔
اتھارٹی نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ بعض تکنیکی حدود، خصوصاً HTTPS انکرپشن، کی وجہ سے کسی ویب سائٹ پر موجود انفرادی مواد کو الگ سے بلاک کرنا مشکل ہوتا ہے اور بعض صورتوں میں پوری ویب سائٹ کو بند کرنا پڑتا ہے۔
### بچوں کے تحفظ کے اقدامات
پی ٹی اے کے مطابق بچوں کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے یونیسیف، ٹک ٹاک، میٹا اور جی ایس ایم اے کے ساتھ آگاہی مہمات بھی جاری ہیں۔
بچوں پر آن لائن مظالم اور استحصال کی رپورٹس کے لیے ٹول فری ہیلپ لائن **1121** فعال ہونے کا بھی بتایا گیا ہے، جبکہ انسٹاگرام پر پاکستانی صارفین کے لیے بچوں کے تحفظ سے متعلق حفاظتی فیچر متعارف کرایا گیا ہے۔
پی ٹی اے نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ اس کے قانونی دائرہ اختیار سے باہر مانگی گئی ریلیف کی حد تک درخواست خارج کی جائے۔ وزارت اطلاعات و نشریات، وزارت داخلہ اور نیشنل کمیشن آن رائٹس آف چائلڈ نے بھی عدالت میں اپنے جوابات جمع کرائے ہیں۔
## انسانی حقوق اور عوامی مفاد
بچوں کو سائبر بُلنگ، ہراسانی، نامناسب مواد، آن لائن استحصال اور دیگر ڈیجیٹل خطرات سے تحفظ دینا بنیادی انسانی حقوق اور بچوں کے تحفظ کے اصولوں سے متعلق اہم معاملہ ہے۔ دوسری جانب عمر کی تصدیق کے کسی بھی نظام میں بچوں کی پرائیویسی، ذاتی معلومات کے تحفظ، والدین کے حقوق اور قانونی اختیار کی حدود کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں بھی کم عمر بچوں کے لیے آن لائن تحفظ، عمر کی مؤثر تصدیق اور جامع قانونی و ریگولیٹری فریم ورک کی ضرورت پر توجہ دلائی گئی ہے۔
## HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، بچوں کے تحفظ، آزادیٔ اظہار، عوامی مفاد اور ذمہ دار صحافت کے فروغ کے لیے **Human Rights News Worldwide (HRNW)** کو آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔ آپ کی معاونت عوامی مفاد پر مبنی صحافت کے تسلسل میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔
**HRNW Support:**
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
## Disclaimer
یہ خبر پی ٹی اے کے اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرائے گئے جواب اور دستیاب عدالتی و خبر رساں معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ پی ٹی اے کا مؤقف اس کے اپنے جواب کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال، عمر کی تصدیق اور ریگولیٹری نظام سے متعلق حتمی قانونی یا پالیسی فیصلہ متعلقہ ریاستی اداروں اور عدالت کے دائرہ اختیار میں ہے۔
**اصل خبر:**
[ایکسپریس نیوز — کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا قانون موجود نہیں](https://www.express.pk/story/2835726/no-law-banning-social-media-use-by-minors-exists-in-pakistan-pta-tells-court-2835726?utm_source=chatgpt.com)


