17

وفاقی آئینی عدالت کے 126 صفحات پر مشتمل رولز جاری، اہم قانونی معاملات واضح

**اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو)** — وفاقی آئینی عدالت کے 126 صفحات پر مشتمل رولز 2026 پبلک کردیئے گئے ہیں، جن میں توہین عدالت، نظرثانی درخواستوں، سزائے موت، ہیبیس کارپس، آرٹیکل 63A کے تحت اپیلوں، التوا، بینچوں کی تشکیل، زبانی دلائل اور وکلا سے متعلق مختلف قواعد وضع کیے گئے ہیں۔

رولز کے مطابق وفاقی آئینی عدالت توہین عدالت کا ازخود نوٹس لے سکتی ہے جبکہ کسی شخص کی جانب سے دائر درخواست پر بھی توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جاسکتی ہے۔

### نظرثانی درخواستوں سے متعلق اہم قواعد

رولز کے تحت نظرثانی درخواست حتی الامکان اسی بینچ کے سامنے مقرر کی جائے گی جس نے اصل فیصلہ یا حکم جاری کیا ہو۔ اگر اصل بینچ کا کوئی جج دستیاب نہ ہو تو ممکن حد تک اسی بینچ کے ایک یا زائد ججز پر مشتمل بینچ نظرثانی کی درخواست سنے گا۔

مزید برآں، نظرثانی کے فیصلے کے خلاف دوبارہ نظرثانی کی درخواست دائر نہیں کی جاسکے گی اور ایسی درخواست رجسٹری میں بھی قبول نہیں ہوگی۔

بے بنیاد یا بدنیتی پر مبنی نظرثانی درخواست پر کم از کم 25 ہزار روپے اخراجات عائد کیے جاسکتے ہیں، جبکہ درخواست گزار کو سماعت سے قبل 50 ہزار روپے زرِ ضمانت جمع کرانا ہوگا، جو درخواست مسترد یا بے بنیاد قرار پانے کی صورت میں ضبط ہوسکتا ہے۔

### سزائے موت پر عملدرآمد سے متعلق اہم اصول

رولز کے مطابق سزائے موت سے متعلق نظرثانی درخواست دائر ہونے پر رجسٹرار متعلقہ حکومت کو فوری طور پر آگاہ کرے گا اور درخواست کے فیصلے تک سزائے موت پر عملدرآمد **خودکار طور پر معطل** رہے گا، جس کے لیے عدالت کے الگ حکم کی ضرورت نہیں ہوگی۔

تاہم اگر اپیل، نظرثانی اور رحم کی درخواست سمیت تمام قانونی چارہ جوئی مکمل ہوچکی ہو تو خودکار معطلی کا یہ اصول لاگو نہیں ہوگا۔

### ہیبیس کارپس اور زیرِ حراست افراد

رولز کے مطابق رِٹ آف ہیبیس کارپس کی درخواست رجسٹری یا برانچ رجسٹری میں دائر کی جاسکے گی۔ زیرِ حراست شخص کا حلف نامہ درخواست کے ساتھ منسلک کرنا ہوگا، جبکہ حراست کے باعث حلف نامہ دینا ممکن نہ ہو تو حقائق سے واقف کسی دوسرے شخص کا حلف نامہ جمع کرایا جاسکے گا۔

آرٹیکل 175E کی شق 3 کے تحت ہیبیس کارپس درخواست سات دن کے اندر سماعت کے لیے مقرر کی جائے گی اور ایسی درخواست یا متعلقہ فوجداری کارروائی پر عدالتی فیس عائد نہیں ہوگی۔

### آئینی تشریح اور مقدمات کا ریکارڈ

وفاقی آئینی عدالت آئین کی تشریح سے متعلق اہم قانونی سوال سامنے آنے کی صورت میں کسی دوسری عدالت میں زیرِ سماعت مقدمے کا ریکارڈ طلب کرسکے گی۔ ریکارڈ موصول ہونے کے بعد رجسٹرار اسے مناسب احکامات کے لیے عدالت کے سامنے پیش کرے گا۔

عدالت فریقین کو سننے کے بعد مناسب حکم جاری کرسکے گی اور ضرورت کے مطابق مصدقہ نقل یا مزید ہدایات کے ساتھ ریکارڈ متعلقہ عدالت کو واپس بھیج سکتی ہے۔

### آرٹیکل 63A کے تحت اپیل

رولز کے مطابق الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف آرٹیکل 63A کے تحت وفاقی آئینی عدالت میں 30 دن کے اندر اپیل دائر کی جاسکے گی، جبکہ ایسی اپیل کا فیصلہ دائر ہونے کے 90 دن کے اندر کرنے کا اصول مقرر کیا گیا ہے۔

### التوا اور عدالتی کارروائی

قواعد کے تحت التوا کو معمول کا حق قرار نہیں دیا گیا۔ مبہم، غیر ضروری یا کارروائی میں تاخیر کے مقصد سے دائر درخواست مسترد کی جاسکتی ہے۔ مناسب وجہ کے بغیر التوا طلب کرنے کی صورت میں عدالت کارروائی جاری رکھ سکتی ہے، جبکہ حقیقی ہنگامی یا ناقابلِ اجتناب حالات میں التوا منظور کیا جاسکتا ہے۔

قصوروار فریق، وکیل یا ایڈووکیٹ آن ریکارڈ پر تلافیاتی اخراجات بھی عائد کیے جاسکتے ہیں۔

### بینچ اور وکلا سے متعلق قواعد

رولز کے مطابق ہر مقدمہ، معاملہ یا اپیل کم از کم دو ججز پر مشتمل بینچ سنے گا۔ اہمیت، پیچیدگی یا عوامی اہمیت کے پیش نظر چیف جسٹس کسی بھی مرحلے پر بڑا بینچ تشکیل دے سکتے ہیں۔

وکلا کے لیے سینئر ایڈووکیٹس، ایڈووکیٹس اور ایڈووکیٹس آن ریکارڈ کے الگ الگ رول برقرار رکھے جائیں گے۔ وکیل کے طور پر انرولمنٹ کے لیے کم از کم سات سال ہائی کورٹ کا ایڈووکیٹ رہنے کی شرط بھی بیان کی گئی ہے، جبکہ سینئر ایڈووکیٹ کے لیے انرولمنٹ فیس ایک لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے۔

عدالت میں ہر فریق کو عمومی مقدمات میں زبانی دلائل کے لیے 10 منٹ جبکہ اہم قانونی سوال والے مقدمات میں عموماً 30 منٹ کا وقت دیا جائے گا، البتہ عدالت کی اجازت سے اس میں تبدیلی ہوسکتی ہے۔

## انسانی حقوق اور عوامی مفاد

وفاقی آئینی عدالت کے نئے قواعد کا تعلق شہریوں کے بنیادی حقوق، منصفانہ سماعت، قانونی چارہ جوئی اور حراست کے خلاف قانونی تحفظ سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔ خصوصاً سزائے موت سے متعلق نظرثانی کے دوران خودکار معطلی اور ہیبیس کارپس درخواستوں کی بروقت سماعت کے قواعد انصاف تک رسائی اور قانونی تحفظ کے حوالے سے اہم ہیں۔

## HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، آزادیٔ اظہار، عوامی مفاد اور ذمہ دار صحافت کے فروغ کے لیے **Human Rights News Worldwide (HRNW)** کو آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔ آپ کی معاونت عوامی مفاد پر مبنی صحافت اور انسانی حقوق سے متعلق آگاہی کے تسلسل میں مددگار ہوسکتی ہے۔

**HRNW Support:**
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

## Disclaimer

یہ خبر وفاقی آئینی عدالت کے جاری کردہ قواعد اور دستیاب معتبر خبر رساں رپورٹ کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ قانونی قواعد کی تشریح یا ان کے عملی اطلاق سے متعلق حتمی رائے متعلقہ عدالت یا ماہر قانون کا دائرہ اختیار ہے۔ خبر میں شامل معلومات کو عمومی آگاہی کے مقصد کے لیے پیش کیا گیا ہے اور اسے قانونی مشورہ تصور نہ کیا جائے۔

**اصل خبر:**
[ایکسپریس نیوز — وفاقی آئینی عدالت کے رولز جاری](https://www.express.pk/story/2835712/rules-for-the-federal-constitutional-court-issued-key-legal-matters-clarified-2835712/?utm_source=chatgpt.com)

اپنا تبصرہ بھیجیں