3

این آئی سی وی ڈی میں ملازمین کی منتقلی کے معاملے پر سندھ ہائیکورٹ کا نوٹس

**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو)** — سندھ ہائیکورٹ کراچی نے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیزز (این آئی سی وی ڈی) میں ملازمین کے ساتھ مبینہ غیر قانونی اقدامات اور سروس رولز و ریگولیشنز کی خلاف ورزی کے معاملے پر نوٹس جاری کردیا۔

عدالت نے این آئی سی وی ڈی کے ملازمین کو مبینہ طور پر سندھ انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیزز (ایس آئی سی وی ڈی) منتقل کرنے کے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ایگزیکٹو ڈائریکٹر این آئی سی وی ڈی ڈاکٹر طاہر صغیر کو نوٹس جاری کیا ہے۔

عدالت نے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو **20 اکتوبر کو اپنا جواب جمع کرانے** کی ہدایت کی ہے۔

ملازمین کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ان کی منتقلی کے فیصلے میں مبینہ طور پر ادارے کے سروس رولز اور دیگر قواعد و ضوابط کو نظر انداز کیا گیا۔ معاملہ عدالت تک پہنچنے کے بعد این آئی سی وی ڈی کی انتظامی فیصلہ سازی، اختیارات کے استعمال اور قانونی تقاضوں کی پاسداری سے متعلق سوالات سامنے آئے ہیں۔

ملازمین کے مطابق اس نوعیت کے قانونی معاملات کے باعث سرکاری خزانے سے وکلا کی فیس اور دیگر قانونی اخراجات کی مد میں بھاری رقم خرچ ہونے کا خدشہ ہے۔ تاہم ان اخراجات کی حتمی رقم اور ذمہ داری کا تعین متعلقہ ریکارڈ اور قانونی کارروائی کی بنیاد پر ہی کیا جاسکتا ہے۔

اب عدالت میں این آئی سی وی ڈی کی جانب سے جمع کرائے جانے والے جواب سے یہ واضح ہوگا کہ ملازمین کی منتقلی کے فیصلے کے لیے انتظامیہ کی جانب سے کون سی قانونی اور انتظامی وجوہات پیش کی جاتی ہیں۔

### Human Angle

ملازمین کے سروس حقوق، شفاف انتظامی فیصلے اور قواعد و ضوابط کی پابندی نہ صرف ادارے کے ملازمین بلکہ سرکاری اداروں میں قانون کی حکمرانی اور عوامی وسائل کے مؤثر استعمال سے بھی براہِ راست جڑے ہوئے ہیں۔ ایسے معاملات میں شفافیت اور قانونی تقاضوں کی مکمل پاسداری ملازمین کے اعتماد اور ادارے کی انتظامی ساکھ کے لیے اہم ہے۔

### HRNW Support Appeal

Human Rights News Worldwide (HRNW) انسانی حقوق، شہری آزادیوں، انصاف اور انسانی وقار کے فروغ کے لیے کام کرتا ہے۔ **HRNW کی انسانی حقوق کی آواز کو مزید مؤثر بنانے کے لیے آپ کا تعاون اہم ہے۔**

**Support HRNW:**
[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)

**Disclaimer:** اس خبر میں بیان کردہ الزامات اور مؤقف دستیاب معلومات اور متعلقہ فریقین کے دعووں پر مبنی ہیں۔ عدالت کی جانب سے جاری نوٹس کسی حتمی فیصلے کا متبادل نہیں۔ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا قانونی حق حاصل ہے۔ HRNW حتمی عدالتی فیصلے کے بعد سامنے آنے والی صورتحال کو اسی تناظر میں رپورٹ کرے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں