11

سندھ ہائیکورٹ آئینی بینچ نے ذوالفقار آباد ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے کانٹریکٹ ملازم کی مستقل تقرری کی درخواست خارج کر دی

**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو)** – سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے **ذوالفقار آباد ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (ZDA)** کے ایک کانٹریکٹ ملازم کی مستقل تقرری سے متعلق درخواست ابتدائی مرحلے پر ہی ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کر دی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ **صرف طویل عرصے تک کانٹریکٹ پر کام کرنے کی بنیاد پر کسی ملازم کو مستقل ملازمت کا قانونی حق حاصل نہیں ہوتا۔**

سماعت کے دوران درخواست گزار **سجاد علی** کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے موکل نے **2015 سے 2024 تک ڈپٹی ڈائریکٹر کے طور پر کانٹریکٹ بنیادوں پر فرائض انجام دیے** اور انہیں کبھی بدعنوانی یا کسی محکمانہ کارروائی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ وزیر اعلیٰ سندھ نے بطور گورننگ باڈی چیئرمین ملازمین کو مستقل کرنے کی ہدایت کی تھی، تاہم متعلقہ حکام نے سندھ کابینہ کی ہدایات پر عمل نہیں کیا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ **2017 اور 2021 میں دیگر کانٹریکٹ ملازمین کو مستقل کیا جا چکا ہے۔**

عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار کا کانٹریکٹ معاہدہ **2024 میں مدت پوری ہونے کے بعد ختم ہو چکا ہے** اور کانٹریکٹ ملازمت ہمیشہ معاہدے کی شرائط کے تابع ہوتی ہے۔

جسٹس **عدنان الکریم میمن** نے ریمارکس دیے کہ معاہدے کی بنیاد پر مستقل تقرری کا کوئی قانونی حق پیدا نہیں ہوتا۔ مستقل تقرری کے لیے قانون یا مجاز اتھارٹی کی منظور شدہ پالیسی کا ہونا ضروری ہے۔

عدالت نے مزید کہا کہ **سندھ ریگولیرائزیشن آف ایڈہاک اینڈ کانٹریکٹ ایمپلائز ایکٹ** صرف ان ملازمین پر لاگو ہوتا ہے جو قانون میں مقرر کردہ تاریخ تک تعینات تھے، جبکہ درخواست گزار اس قانونی دائرہ کار میں شامل نہیں آتا۔

🤝 **دنیا کی نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز ایجنسی HRNW کو سپورٹ کریں**
👉 [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)

⚠️ **اہم ہدایت (Important Note)**
یہ خبر عدالتی کارروائی اور دستیاب عدالتی ریکارڈ پر مبنی ہے۔ HRNW (hrnww.com) فریقین کے مؤقف یا قانونی دلائل کی آزادانہ تصدیق نہیں کرتا۔ حتمی قانونی حیثیت عدالت کے فیصلے کے مطابق ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں