9

پنکی کیس: اگر یہ بولی تو کون بے نقاب ہوگا؟

کراچی… ایک ایسا شہر جہاں روشنیوں کے ساتھ اندھیرے بھی بستے ہیں۔ جہاں دن کے وقت ٹریفک، کاروبار اور ہجوم نظر آتا ہے، مگر رات کے سائے میں ایک ایسی دنیا جاگتی ہے جس کے کردار عام انسانوں جیسے دکھائی دیتے ہیں، لیکن ان کے پیچھے طاقت، پیسہ، خوف، رشوت، منشیات اور تباہی کی پوری کہانی چھپی ہوتی ہے۔

اور انہی کرداروں میں ایک نام حالیہ دنوں میں پورے پاکستان میں موضوعِ بحث بنا…
“انمول عرف پنکی”…
جسے سوشل میڈیا نے “کوکین کوئن” کا نام دے دیا۔

ایک عام میٹرک پاس لڑکی…
جو گلشن اقبال کے ایک فلیٹ سے نکل کر کراچی اور لاہور کے پوش علاقوں تک منشیات کے ایک مبینہ نیٹ ورک کی علامت بن گئی۔

کہانی صرف ایک خاتون کی نہیں…
یہ کہانی اس نظام کی بھی ہے جہاں سوال صرف یہ نہیں کہ منشیات کون بیچ رہا تھا…
بلکہ یہ بھی کہ اتنے سال تک کون دیکھتا رہا؟
کون خاموش رہا؟
اور کون فائدہ اٹھاتا رہا؟

ڈسٹرکٹ سٹی پولیس کراچی کے مطابق انمول عرف پنکی کو ایک مشترکہ کارروائی میں گرفتار کیا گیا۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ وہ کراچی میں کوکین اور دیگر مہلک نشہ آور اشیاء کی سپلائی کے ایک منظم نیٹ ورک کو چلا رہی تھی۔

پریس ریلیز کے مطابق اس کے قبضے سے کروڑوں روپے مالیت کی کوکین، کیمیکلز اور اسلحہ برآمد کیا گیا۔
پولیس نے یہ بھی کہا کہ وہ کلفٹن، ڈیفنس اور دیگر پوش علاقوں میں آن لائن آرڈرز کے ذریعے مخصوص رائیڈرز سے منشیات سپلائی کرتی تھی۔

سب سے حیران کن بات؟
پولیس کے مطابق وہ خواتین رائیڈرز کا استعمال بھی کرتی تھی تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو شک نہ ہو۔

پریس ریلیز میں دعویٰ کیا گیا کہ اس کے خریداروں میں طلبہ و طالبات سے لے کر “بڑی شخصیات” تک شامل تھیں۔

یہاں ایک سوال جنم لیتا ہے…
اگر یہ سب کچھ اتنے بڑے پیمانے پر ہو رہا تھا تو کیا واقعی کسی کو خبر نہیں تھی؟

کیونکہ یہ کوئی گلی محلے کا چھوٹا سا دھندا نہیں تھا۔
یہ مبینہ طور پر ایک ایسا نیٹ ورک تھا جس میں آن لائن آرڈرز، مخصوص ڈیلیوری سسٹم، پوش علاقوں تک رسائی، لاکھوں روپے یومیہ کی سپلائی، اور مختلف شہروں میں روابط شامل تھے۔

پولیس ریکارڈ کے مطابق انمول پر 2021 اور 2022 کے دوران مختلف مقدمات درج ہوئے۔
کہا گیا کہ وہ کئی کیسز میں مفرور بھی رہی۔

لیکن پھر سوال وہی…
اگر ایک شخص اتنے مقدمات میں مطلوب ہو، تو پھر وہ سالوں تک آزاد کیسے رہتا ہے؟

یہاں سے کہانی میں داخل ہوتے ہیں ریٹائرڈ ایس ایس پی انویسٹی گیشن نیاز احمد کھوسہ۔
ان کی ایک تحریر نے اس کیس کو صرف ایک گرفتاری نہیں رہنے دیا…
بلکہ اسے پورے سسٹم کے احتساب کا سوال بنا دیا۔

کھوسہ صاحب کے مطابق پنکی کراچی کے ابو الحسن اصفہانی روڈ، گلشن اقبال کے علاقے کی رہائشی تھی۔
ایک عام متوسط گھرانے کی لڑکی…
جس نے ابتدا میں خود منشیات استعمال کرنا شروع کیں۔

کہا جاتا ہے کہ شراب کے بعد اس نے کوکین ملا کر استعمال کرنا شروع کیا…
اور پھر یہی تجربہ مبینہ طور پر اس کے “بزنس ماڈل” میں تبدیل ہو گیا۔

اسی دوران اس کی ملاقات رانا اکرم نامی شخص سے ہوئی…
جو مبینہ طور پر منشیات کے دھندے سے وابستہ تھا۔
بعد میں دونوں نے شادی کر لی۔

یہیں سے ایک نئی دنیا شروع ہوئی۔

کھوسہ صاحب کے مطابق پنکی نے اپنے شوہر اور بھائیوں کے ساتھ مل کر ایک ایسا نیٹ ورک بنایا جو کئی سال تک قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظروں سے بچا رہا۔

لیکن اصل سوال صرف نیٹ ورک کا نہیں…
اصل سوال اس “تحفظ” کا ہے جس کا تذکرہ بار بار مختلف رپورٹس میں سامنے آتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ جب بھی گرفتاری کا خطرہ ہوتا…
ڈیل ہو جاتی۔
لاکھوں، کروڑوں میں رقم دی جاتی…
اور راستہ صاف ہو جاتا۔

یہ الزام اگر سچ ہے تو پھر یہ صرف ایک منشیات فروش کی کہانی نہیں رہتی…
یہ قانون کے محافظوں پر بھی سوال بن جاتی ہے۔

کھوسہ صاحب نے اپنی تحریر میں ایک اور حیران کن دعویٰ کیا۔
ان کے مطابق پنکی نے کراچی چھوڑ کر لاہور منتقل ہونے کا فیصلہ کیا کیونکہ وہاں “کام کرنا آسان تھا”۔

اور پھر وہ لاہور میں ایک پوش علاقے میں رہ کر اپنا نیٹ ورک چلاتی رہی۔

یہاں کہانی فلمی موڑ لیتی ہے۔

دعویٰ کیا گیا کہ لاہور پولیس کے ایک ڈی ایس پی نے اسے گرفتار کیا…
لیکن بعد میں دونوں نے شادی کر لی۔ ڈی ایس پی اس کی ڈھال بن گیا اور اس نے بھی اس ناجائز دولت بنگلے کوٹھیاں‌ خریدیں

سوشل میڈیا پر اس دعوے نے طوفان کھڑا کر دیا۔

لوگ سوال پوچھنے لگے…
اگر یہ سب درست ہے تو پھر اداروں کے اندر کیا ہو رہا ہے؟
کیا ایک مطلوب خاتون واقعی اتنی طاقتور ہو سکتی ہے؟
یا پھر اصل طاقت کہیں اور موجود تھی؟

پھر ایک اور نام سامنے آیا…
آئی بی۔

کھوسہ صاحب کے مطابق انمول کی گرفتاری میں ایک خفیہ ادارے نے اہم کردار ادا کیا۔

یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ کراچی پولیس کے کچھ افسران پہلے سے اس نیٹ ورک کے بارے میں جانتے تھے، لیکن مؤثر کارروائی نہ ہو سکی۔

اب یہاں سے کہانی صرف “پنکی” کی نہیں رہتی۔
یہ پورے سسٹم کے تضادات کی کہانی بن جاتی ہے۔

ایک طرف ادارے کہتے ہیں کہ وہ منشیات کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں…
دوسری طرف سوشل میڈیا، صحافی، اور سابق افسران یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آخر اتنے بڑے نیٹ ورک برسوں تک چلتے کیسے رہے؟

کراچی کے ایک سینئر کرائم رپورٹر نذیر شاہ نے تو یہاں تک کہا کہ اگر اس کیس میں جے آئی ٹی بنی…
اور اگر پنکی نے بولنا شروع کیا…
تو ایسے نام سامنے آسکتے ہیں جن پر لوگ یقین نہیں کریں گے۔

یہ جملہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا۔

“اگر یہ بولی… تو دنیا حیران رہ جائے گی…”

لیکن اسی کے ساتھ ایک اور خوف بھی سامنے آیا۔

کچھ لوگوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کیس کمزور پڑ جائے…
یا ملزمہ بیرون ملک چلی جائے…
یا پھر معاملہ وقت کے ساتھ خاموش ہو جائے۔

پاکستان میں عوام ایسے کئی کیسز پہلے بھی دیکھ چکی ہے۔
جہاں ابتدائی شور بہت ہوتا ہے…
پھر آہستہ آہستہ سب خاموش ہو جاتا ہے۔

اس کیس میں ایک اور دلچسپ پہلو وہ تھا جس نے سوشل میڈیا کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔

عدالت میں پیشی کے دوران پنکی کو ہتھکڑی نہیں لگائی گئی۔ لوگوں نے شدید تنقید کی۔

لیکن قانونی ماہرین نے وضاحت کی کہ پاکستان پریزن رولز کے مطابق خواتین کو ہتھکڑی لگانے پر پابندی ہے۔

یعنی جذبات اپنی جگہ… قانون اپنی جگہ۔

مگر سوشل میڈیا صرف قانون نہیں دیکھتا…وہ تصاویر دیکھتا ہے…تاثرات بناتا ہے… اور پھر اپنی عدالت لگا دیتا ہے۔

اسی دوران ایک اور سوشل میڈیا پوسٹ نے پورے معاملے کو مزید سنسنی خیز بنا دیا۔

اس پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ایک خاتون سینیٹر کی بیٹی اور ایک سابق وفاقی وزیر کے بیٹے کی مبینہ ہلاکت کے بعد یہ کیس سنجیدہ ہوا۔

اس دعوے کی سرکاری تصدیق موجود نہیں…
مگر سوشل میڈیا پر لاکھوں لوگ اسے شیئر کرتے رہے۔

یہی آج کا پاکستان ہے۔
جہاں حقیقت، افواہ، الزام، خبر اور تجزیہ… سب ایک دوسرے میں گھل جاتے ہیں۔

لیکن ان سب شور کے درمیان ایک تلخ حقیقت پھر بھی موجود ہے۔

منشیات صرف امیروں کا مسئلہ نہیں۔
یہ غریب بستیوں کو بھی تباہ کرتی ہے۔
یہ نوجوانوں کو کھوکھلا کرتی ہے۔
یہ خاندان برباد کرتی ہے۔

فرق صرف اتنا ہے کہ غریب کی موت خبر نہیں بنتی…
اور امیر کا اسکینڈل ہیڈلائن بن جاتا ہے۔

اسی لیے ایک سوشل میڈیا صارف نے لکھا:
“یہ مسئلہ منشیات فروشی کا نہیں… گھٹیا مال سپلائی ہونے کا ہے… ورنہ گلی محلوں میں روز مرتے ہیروئنچی کسی کو نظر نہیں آتے۔”

یہ جملہ تلخ ضرور ہے…
مگر شاید ہمارے معاشرے کی حقیقت بھی یہی ہے۔

آج سوال صرف پنکی کا نہیں۔
سوال پورے سسٹم کا ہے۔

اگر ایک مبینہ نیٹ ورک کراچی سے لاہور تک چل سکتا ہے…
اگر پولیس، ایکسائز، اے این ایف اور دیگر ادارے برسوں تک کچھ نہ کر سکیں…
اگر گرفتاریوں کے باوجود لوگ واپس باہر آ جائیں…
اگر رشوت کے الزامات گردش کرتے رہیں…
تو پھر عوام اعتماد کس پر کرے؟

کیا واقعی منشیات کے خلاف جنگ لڑی جا رہی ہے؟
یا صرف چہرے بدلتے ہیں اور کھیل جاری رہتا ہے؟

اور شاید سب سے بڑا سوال یہ ہے…
کہ اگر کل کوئی نئی “پنکی” سامنے آ جائے…
تو کیا نظام اسے روک پائے گا؟

یا پھر چند سال بعد ہم ایک اور وائرل ویڈیو، ایک اور پریس ریلیز، اور ایک اور سنسنی خیز کہانی سن رہے ہوں گے؟

کراچی اب بھی ویسا ہی ہے۔
روشنیوں والا شہر…
جہاں رات کے اندھیرے میں کئی راز زندہ رہتے ہیں۔

اور ان رازوں میں ایک نام آج سب سے زیادہ گونج رہا ہے…

“انمول عرف پنکی…”

اپنا تبصرہ بھیجیں