7

بھارت کے نیوکلیئر پلانٹ سے منسلک فائلیں لیک ہونے کا دعویٰ، سائبر سیکیورٹی اور اہم تنصیبات کے تحفظ پر تشویش

**نئی دہلی / عالمی (ایچ آر این ڈبلیو)** – ایک رینسم ویئر گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بھارت کے بڑے نیوکلیئر پاور منصوبوں میں سے ایک سے منسلک ہزاروں حساس فائلیں آن لائن جاری کر دی ہیں، جس کے بعد اہم تنصیبات کی سائبر سیکیورٹی اور ڈیٹا تحفظ کے حوالے سے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق **”ورلڈ لیکس”** نامی سائبر گروپ نے ڈارک ویب پر بڑی تعداد میں دستاویزات اپلوڈ کرنے کا دعویٰ کیا اور کہا کہ یہ مواد **ریلائنس گروپ** سے حاصل کیا گیا ہے، جو جنوبی بھارتی ریاست تمل ناڈو میں واقع **کودان کولم نیوکلیئر پاور پلانٹ** سے منسلک ایک ٹھیکیدار ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ریلائنس گروپ نے ڈیٹا سینٹر فراہم کرنے والی تھرڈ پارٹی کمپنی **یوٹا (Yotta)** کے سرورز پر محفوظ ڈیٹا میں جزوی سیکیورٹی خلاف ورزی کی تصدیق کی ہے۔ کمپنی نے بتایا کہ بھارتی حکومت کو اس معاملے سے آگاہ کر دیا گیا ہے، تاہم متاثر ہونے والی معلومات کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

رائٹرز نے مبینہ طور پر لیک ہونے والے مواد کا جائزہ لیا، جس میں 2016 سے 2025 کے وسط تک کے ریکارڈ شامل ہونے کا دعویٰ کیا گیا، تاہم اس مواد کی آزادانہ تصدیق نہیں کی جا سکی۔

مبینہ لیک میں سہولیات کے نقشے، سپلائرز کی معلومات، معائنہ رپورٹس، اجلاسوں کے ریکارڈ، آلات کے جائزے اور انشورنس سے متعلق دستاویزات شامل ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق تقریباً **19 ہزار فائلیں** انتہائی حساس قرار دی جا رہی ہیں، جو مبینہ طور پر آن لائن جاری کیے گئے تقریباً **858 ہزار دستاویزات** کے بڑے ذخیرے کا حصہ ہیں۔

### **انسانی حقوق کا زاویہ**

**ایچ آر این ڈبلیو (HRNW)** اس بات پر زور دیتا ہے کہ جدید دور میں **سائبر سیکیورٹی، عوامی تحفظ، اہم تنصیبات کا تحفظ، اور معلومات کی سلامتی** انسانی سلامتی کے اہم پہلو بن چکے ہیں۔

نیوکلیئر تنصیبات سے متعلق معلومات کا تحفظ نہ صرف قومی سلامتی بلکہ عوام کے **زندگی کے حق، محفوظ ماحول کے حق، اور اجتماعی تحفظ** سے بھی جڑا ہوا ہے۔ اگر کسی سائبر حملے یا ڈیٹا لیک کی تصدیق ہوتی ہے تو متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ شفاف تحقیقات کریں، متاثرہ نظام کو محفوظ بنائیں، اور مستقبل کے خطرات کو کم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔

ماہرین کے مطابق نیوکلیئر اور دیگر حساس تنصیبات کو بڑھتے ہوئے سائبر خطرات سے بچانے کے لیے بین الاقوامی تعاون، مضبوط سیکیورٹی نظام، اور ذمہ دارانہ معلوماتی حکمتِ عملی ناگزیر ہے۔

### 🤝 **دنیا کی نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز ایجنسی ایچ آر این ڈبلیو (HRNW) کو سپورٹ کریں**

👉 [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)

### ⚠️ **اہم ہدایت (Important Note)**

یہ خبر دستیاب میڈیا رپورٹس، سائبر گروپ کے دعووں اور کمپنی کے ابتدائی بیان کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ مبینہ لیک ہونے والے ڈیٹا اور اس کی مکمل نوعیت کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔ HRNW کسی بھی سائبر گروپ کے دعووں کی خود سے تصدیق نہیں کرتا۔ **ایچ آر این ڈبلیو (HRNW)** کا مقصد سائبر سیکیورٹی، انسانی تحفظ، معلوماتی حقوق اور عوامی آگاہی سے متعلق ذمہ دارانہ رپورٹنگ فراہم کرنا ہے۔ یہ خبر **HRNW (hrnww.com)** پر پہلے شائع شدہ مواد سے منسلک نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں