**واشنگٹن (ایچ آراین ڈبلیو):** امریکی صدر **ڈونلڈ ٹرمپ** نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ طے پانے والے ایک معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے، جس کے بعد امریکہ ممکنہ طور پر **آبنائے ہرمز** کے معاملات کو کنٹرول کرے گا۔
فوکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ “ممکنہ طور پر آبنائے ہرمز کو چلائے گا”۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے پاس اب محدود صلاحیتیں باقی رہ گئی ہیں۔
ٹرمپ نے امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے ایران میں مبینہ فوجی اہداف پر کیے گئے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے ایران کو “شدید نقصان” پہنچایا ہے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران کا فوجی سامان، فضائی دفاعی نظام اور دیگر صلاحیتیں متاثر ہوئی ہیں، جبکہ ان کے مطابق ایران دباؤ میں پیچھے ہٹ رہا ہے۔
دوسری جانب برطانیہ میں ایرانی سفارت خانے نے اس سے قبل ایک بیان میں کہا تھا کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں ایک عارضی محفوظ بحری راہداری قائم کی ہے جو تکنیکی اور فوجی رکاوٹوں سے پاک ہے۔
ایرانی سفارت خانے کے مطابق امریکی فوجی کارروائیوں کے باعث یہ اہم بحری گزرگاہ اب ایک “انتہائی خطرناک علاقے” میں تبدیل ہو چکی ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شامل ہے، جہاں سے عالمی تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ خطے میں بڑھتی کشیدگی عالمی تجارت، توانائی کی قیمتوں اور بحری سلامتی پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
—
### 🤝 **دنیا کی نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز ایجنسی HRNW کو سپورٹ کریں**
عالمی امن، انسانی حقوق، شفاف معلومات اور ذمہ دار صحافت کے فروغ کے لیے HRNW کا ساتھ دیں۔
👉 **[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)**
—
### ⚠️ **ڈسکلیمر**
یہ خبر دستیاب میڈیا رپورٹس اور متعلقہ فریقین کے بیانات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ تمام دعووں کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔ HRNW غیرجانبدارانہ، ذمہ دار اور حقائق پر مبنی صحافت کے اصولوں پر عمل کرتا ہے۔


