**واشنگٹن / خلیج فارس (ایچ آراین ڈبلیو)** – امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کی دفاعی تنصیبات کے خلاف تقریباً 90 منٹ تک کارروائی کی، جس کے دوران گریٹر تنب جزیرے پر واقع ایران کے ساحلی دفاعی نظام کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا۔
سینٹ کام کے مطابق اس کارروائی کا مقصد ایران کی دفاعی صلاحیتوں کو محدود کرنا تھا، تاہم اس حوالے سے ایران کی جانب سے فوری طور پر سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا۔ اس واقعے نے خلیج فارس میں پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
**انسانی حقوق کا زاویہ:**
HRNW اس امر پر زور دیتا ہے کہ مسلح تنازعات یا فوجی کارروائیوں کے دوران بین الاقوامی انسانی قانون (International Humanitarian Law) اور شہری آبادی کے تحفظ کو ہر حال میں مقدم رکھا جانا چاہیے۔ کسی بھی فوجی کارروائی کے نتیجے میں اگر شہری انفراسٹرکچر، طبی سہولیات، یا عام شہری متاثر ہوتے ہیں تو یہ انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کے حوالے سے سنگین تشویش کا باعث بنتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیج فارس میں کشیدگی بڑھنے سے لاکھوں شہریوں کی سلامتی، علاقائی امن، عالمی تجارت، خوراک اور توانائی کی فراہمی، اور بنیادی انسانی حقوق متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں تمام فریقین پر زور دے رہی ہیں کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں، سفارتی ذرائع اختیار کریں، اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو اولین ترجیح دیں۔
—
### 🤝 **دنیا کی نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز ایجنسی HRNW کو سپورٹ کریں**
👉 [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)
—
### ⚠️ **اہم ہدایت (Important Note)**
یہ خبر مختلف عوامی ذرائع سے دستیاب معلومات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ HRNW کسی بھی فریق کے عسکری دعوؤں کی آزادانہ تصدیق کا دعویٰ نہیں کرتا۔ HRNW کا مقصد صرف انسانی حقوق، شہریوں کے تحفظ، بین الاقوامی انسانی قانون، اور عوامی آگاہی کو فروغ دینا ہے۔ یہ خبر **HRNW (hrnww.com)** پر پہلے شائع شدہ مواد سے منسلک نہیں ہے۔


