پاکستان کی شریف حکومت نے پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ کا سلسلہ 15 دن سے موخر کر کے ہفتہ وار کر دیا تھا اور اس جمعہ 24 اپریل کو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 26 روپے فی لٹر کا من چاہا اضافہ کر دیا
حالانکہ پورے ہفتے عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کر رجحان نیچے کی طرف رہا لیکن صرف جمعرات اور جمعہ کے دوران امریکی صدر کے بعض بیانات اور آبنائے ہرمز پر کشیدگی کے باعث یہ قیمت 106 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کی شریف حکومت نے بدمعاش عوام پر 26 روپے فی لٹر کا شریفانہ چھتر رسید کیا
جس سے بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ شریف حکومت نے جنگ کو لوٹ مار کا ذریعہ بنالیا، پیٹرول پر لیوی میں 26 روپے 77 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد پیٹرولیم لیوی کی مجموعی شرح 107 روپے 38 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
سب سے پہلے ہم یہ بتائیں گے پٹرولیم قیمتوں کا گورکھ دھندا ہے کیاِ؟
پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اب عالمی مارکیٹ سے منسلک ہیں، لیکن اس کا “فارمولا” محض خام تیل کی قیمت تک محدود نہیں ہے۔ جب عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھتی ہیں تو اس کا اثر فوری طور پر عوام تک پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے، جس پر عوامی سطح پر شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔
### 1. پٹرول پاکستان پہنچنے کا وقت اور “فوری اضافہ” کی منطق کیا ہے
عالمی مارکیٹ سے پٹرولیم مصنوعات کی خریداری اور پاکستان میں صارفین تک پہنچنے کے عمل میں عموماً **25 سے 40 دن** لگتے ہیں۔ اس میں سمندری سفر، بندرگاہ پر آف لوڈنگ اور پھر ریفائنریز یا اسٹوریج تک رسائی شامل ہے۔
* **الہ دین کا چراغ یا قیمتوں کا تعین؟** پاکستان میں قیمتوں کا تعین “ماضی کی قیمت” (Historical Cost) پر نہیں بلکہ **”مستقبل کی متوقع قیمت”** (Replacement Cost) کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ حکومت کا استدلال یہ ہوتا ہے کہ اگر آج مہنگا پٹرول خریدا جائے گا تو اسے بیچ کر اتنے پیسے جمع ہونے چاہئیں کہ اگلی کھیپ خریدی جا سکے۔
* **ذخیرہ شدہ پٹرول پر اضافہ:** جب حکومت قیمت بڑھاتی ہے تو وہ ذخیرہ شدہ (Inventory) پٹرول پر بھی لاگو ہوتی ہے، جس سے کمپنیوں اور حکومت کو “انونٹری گین” ملتا ہے، جسے عوامی حلقے معاشی ناانصافی قرار دیتے ہیں۔
### 2. پٹرولیم لیوی اور حکومتی آمدنی کیا ہے ؟
پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (PDL) حکومت کے لیے ریونیو اکٹھا کرنے کا سب سے آسان ذریعہ بن چکا ہے۔ حکومتی موقف کے مطابق، لیوی میں حالیہ اضافہ آئی ایم ایف (IMF) کے اہداف کو پورا کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔
* **معاشی قتل یا ضرورت؟** معاشی ماہرین کے مطابق، جب حکومت براہِ راست ٹیکس جمع کرنے میں ناکام رہتی ہے، تو وہ پٹرول جیسے اشیاء پر ان ڈائریکٹ ٹیکس (لیوی) لگا دیتی ہے، جس کا بوجھ غریب اور امیر پر برابر پڑتا ہے، جو کہ سماجی انصاف کے خلاف ہے۔
### 3. قیمتوں کے تعین کا فارمولا
پاکستان میں پٹرول کی قیمت مندرجہ ذیل اجزاء پر مشتمل ہوتی ہے:
1. **Ex-Refinery Price:** خام تیل کی قیمت اور ریفائننگ کے اخراجات۔
2. **IFEM (Inland Freight Equalization Margin):** پورے ملک میں قیمت برابر رکھنے کے لیے ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات۔
3. **Distributor & Margin:** پٹرول پمپس اور آئل کمپنیوں کا منافع۔
4. **Petroleum Levy:** حکومت کا براہِ راست ٹیکس۔
### 4. اب ہم آتے ہیں حکومتی مراعات اور سادگی کا تضاد یعنی سادگی کا سادہ سا ڈھونگ”
عوام کا یہ سوال انتہائی جاندار ہے کہ ایک طرف عوام پر بوجھ ڈالا جا رہا ہے، دوسری طرف اشرافیہ اور افسر شاہی کو مفت پٹرول فراہم کیا جاتا ہے۔
* **پارلیمانی تنخواہیں:** اراکینِ پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں غیر معمولی اضافہ اور مراعات کا برقرار رہنا “کفایت شعاری مہم” پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ معاشی بحران میں جب عوام سے قربانی مانگی جاتی ہے، تو حکمران طبقے کی جانب سے ایسی ہی قربانی کا فقدان سماجی بے چینی پیدا کرتا ہے۔
آپ کو یہ سن کر حیرت ہو گی کی دنیا میں صرف دو ممالک سالانہ شرح آمدنی کے لحاظ سے پاکستان سے مہنگے ہیں اور دو قریب ہیں
صرف پٹرول کی قیمت دیکھنا کافی نہیں ہے، بلکہ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ ایک عام شہری کی آمدنی کا کتنا حصہ پٹرول خریدنے میں صرف ہوتا ہے۔ پاکستان میں فی کس آمدنی (Purchasing Power Parity) کے لحاظ سے پٹرول کی قیمت دنیا کے مہنگے ترین ممالک میں شمار ہوتی ہے۔
| ملک | حیثیت (بمقابلہ آمدنی) | وجہ |
| :— | :— | :— |
| **برونڈی / وسطی افریقہ** | پاکستان سے زیادہ مہنگا | انتہائی کم فی کس آمدنی اور درآمدی مشکلات |
| **ملاوی** | پاکستان سے زیادہ مہنگا | کرنسی کی گراوٹ اور لاجسٹک اخراجات |
| **افغانستان** | پاکستان کے قریب | غیر مستحکم معیشت اور ٹرانسپورٹ کے مسائل |
| **سری لنکا** | پاکستان کے قریب (گزشتہ بحران میں زیادہ تھا) | دیوالیہ پن کے بعد قیمتوں میں شدید اضافہ |
اگرچہ یورپ (مثلاً ناروے یا جرمنی) میں پٹرول کی قیمت پاکستان سے زیادہ ہے، لیکن وہاں کی **اوسط آمدنی** پاکستانی شہری سے 20 گنا زیادہ ہے، اس لیے وہاں کا شہری پٹرول زیادہ آسانی سے خرید سکتا ہے۔ پاکستان اس وقت “Cost of Living Crisis” (زندگی گزارنے کی مہنگائی کے بحران) میں دنیا کے سرفہرست ممالک میں شامل ہے۔
پاکستان میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ محض عالمی منڈی کی وجہ سے نہیں، بلکہ روپے کی قدر میں کمی اور حکومت کی جانب سے ٹیکس وصولی کے شارٹ کٹ (لیوی) کا نتیجہ ہے۔ جب تک مراعات یافتہ طبقے کا “مفت پٹرول” ختم نہیں ہوتا اور ٹیکس کا نظام منصفانہ نہیں بنتا، عوام پر یہ بوجھ بڑھتا رہے گا۔
ظلم کی سیاہ رات جب طویل ہو جائے تو خاموشی گناہ بن جاتی ہے! اے ارضِ پاک کے بسنے والو، ذرا غور تو کرو کہ تم پر حکمرانی کرنے والے کس طرح تمہاری رگوں سے خون کا آخری قطرہ نچوڑنے کے درپے ہیں۔ ابھی کل کی بات ہے جب عالمی منڈی میں قیمتیں گر رہی تھیں، جب دنیا سکھ کا سانس لے رہی تھی، عین اسی وقت تمہارے نصیبوں کے فیصلے کرنے والوں نے تمہاری جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کا منصوبہ تیار کیا۔ محض چند گھنٹوں کی سمندری ہلچل اور دور دیس بیٹھے کسی صدر کے ایک بیان کو ڈھال بنا کر تمہاری زندگیوں میں مہنگائی کا وہ زہر گھولا گیا جس کی مثال نہیں ملتی۔
کیا تم نے کبھی سوچا کہ جو پٹرول ابھی پاکستان کی سرحدوں میں داخل بھی نہیں ہوا، جو ابھی سمندروں کی لہروں پر تیر رہا ہے، اس کی قیمت کا بوجھ آج ہی تمہارے کندھوں پر کیوں لاد دیا گیا؟ یہ کون سا الہ دین کا چراغ ہے جو ایک دن میں عالمی منڈی کی تیزی کو تمہارے پٹرول پمپس تک پہنچا دیتا ہے، لیکن جب قیمتیں گرتی ہیں تو یہ چراغ بجھ کیوں جاتا ہے؟ یہ معاشی منطق نہیں، یہ سراسر لوٹ مار ہے! تمہارے خون پسینے کی کمائی کو ‘لیوی’ کے نام پر ہڑپ کیا جا رہا ہے تاکہ شاہانہ ایوانوں کے چراغ جلتے رہیں، تاکہ افسر شاہی کی گاڑیوں کے پہیے مفت پٹرول پر گھومتے رہیں، اور تم… تم اپنی موٹر سائیکل کی ٹنکی میں چند لیٹر پٹرول ڈلوانے کے لیے اپنی اولاد کی خوشیاں قربان کرتے رہو۔
حد تو یہ ہے کہ سادگی کا ڈھونگ رچانے والے اپنی تنخواہیں تو پانچ سو فیصد بڑھا لیتے ہیں، لیکن غریب کے چولہے کی آگ بجھانے کے لیے ان کے پاس صرف ٹیکسوں کا کوڑا ہے۔ پاکستان آج اپنی جی ڈی پی اور اوسط آمدنی کے لحاظ سے ان ممالک کی صف میں کھڑا کر دیا گیا ہے جہاں جینا ایک جرم بن چکا ہے۔ ہم سے زیادہ مہنگے وہ ممالک ہیں جو جنگ زدہ ہیں یا قحط کا شکار، تو کیا ہم بھی کسی نادیدہ جنگ کی زد میں ہیں؟ ہاں! یہ جنگ اشرافیہ نے غریب کے خلاف چھیڑ رکھی ہے۔
جس دن تم نے اپنی طاقت کو پہچان لیا، جس دن تم نے اپنی جھکی ہوئی گردنوں کو اٹھا کر جابر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر “کیوں؟” پوچھ لیا، اسی دن یہ استحصالی نظام ریت کی دیوار ثابت ہوگا۔ اپنی آواز کو ایک ایسی گونج بنا دو کہ ایوانوں کے در و دیوار لرز اٹھیں، کیونکہ سوال اٹھانا ہی انقلاب کی پہلی سیڑھی ہے۔ اپنے حق کے لیے لڑنا سیکھو، ورنہ تاریخ تمہیں صرف ایک مظلوم ہجوم کے طور پر یاد رکھے گی، ایک زندہ قوم کے طور پر نہیں۔ اب وقت ہے کہ خاموشی ٹوٹے اور سچائی کا سورج طلوع ہو!


