تل ابیب(ایچ آراین ڈبلیو)اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف ایال زامیر نے کہا ہے کہ ضرورت پڑنے پر اسرائیلی فوج ایران پر ایک اور “سخت اور گہرا حملہ” کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
منگل کے روز شمالی علاقے کے دورے کے دوران ایال زامیر نے کہا کہ اگر حالات نے تقاضا کیا تو اسرائیلی فوج ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے ایرانی سرزمین کے اندر پہلے کیا گیا حملہ “مزید شدید اور وسیع تر کارروائی کے لیے پیش خیمہ” تھا۔
زامیر کے مطابق اسرائیلی فورسز اپنے خلاف خطرات کو روکنے اور ایران کے اندر “تیزی اور طاقت” کے ساتھ حملے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
دوسری جانب ایران نے کسی بھی نئے حملے کے خلاف سخت ردعمل کی وارننگ دیتے ہوئے اپنی مکمل تیاری کا اعلان کیا ہے۔ تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق ایرانی فوج کے بری دستوں کے کمانڈر علی جہانشاہی نے کہا کہ “ہمارے ہاتھ ٹریگر پر ہیں اور ہم کسی بھی ممکنہ خطرے کا فیصلہ کن جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ بری افواج ہائی الرٹ اور مکمل آپریشنل تیاری کی حالت میں ہیں اور آخری سانس تک ملک کے دفاع کے لیے تیار رہیں گی۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ تہران کے ساتھ معاہدہ اپنے حتمی مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ منگل کے روز جان ایف کینیڈی ہوائی اڈا پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ “چند دنوں میں ایران کے ساتھ معاہدے کے بارے میں واضح تصور سامنے آ سکتا ہے۔” انہوں نے کہا کہ ایرانی بندرگاہوں پر اقتصادی دباؤ عسکری آپشن سے بہتر ہے، جبکہ سابقہ جوہری معاہدے کو ایک بڑی ناکامی قرار دیا۔
یاد رہے کہ اسرائیل نے پیر کے روز اپریل میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد پہلی بار ایران میں اہداف کو نشانہ بنایا تھا۔ یہ کارروائی ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل داغے جانے کے بعد کی گئی، جسے تہران نے بیروت کے جنوبی مضافات میں اسرائیلی فضائی حملوں کا جواب قرار دیا تھا۔ ٹرمپ کی مداخلت کے بعد فائرنگ کا تبادلہ عارضی طور پر رک گیا، تاہم دونوں فریقین نے مستقبل میں کشیدگی دوبارہ بڑھنے کا امکان برقرار رکھا ہے۔
ماہرین کے مطابق اسرائیل اور ایران کے درمیان اپریل کے بعد یہ سب سے شدید براہِ راست محاذ آرائی ہے، جس نے واشنگٹن کی جانب سے تہران کے ساتھ جاری سفارتی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔


