10

ایران کا آئندہ جنگ کی صورت میں پہلے سے زیادہ سخت ردعمل کا اعلان

**تہران (ایچ آراین ڈبلیو)،** ایران کے ایک اہم عہدیدار نے کہا ہے کہ اگر مستقبل میں دوبارہ جنگ ہوئی تو ایران **پہلے سے زیادہ سخت اور جارحانہ انداز** میں کارروائی کرے گا۔

ایرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز کے مطابق سپریم لیڈر کے دفتر میں سیاسی مشیر **بریگیڈیئر جنرل رسول سنائی راد** نے کہا ہے کہ ایران نے حالیہ جنگ کے دوران مضبوط مزاحمت کا مظاہرہ کیا اور آئندہ کسی ممکنہ جنگ کی صورت میں اس سے بھی زیادہ مضبوط اور جارحانہ انداز اپنایا جائے گا۔

رسول سنائی راد نے اپنے بیان میں کہا، **”ہم حالیہ جنگ میں ثابت قدم رہے اور ان شاء اللہ مستقبل میں ممکنہ جنگ کی صورت میں اس سے بھی زیادہ مضبوط اور جارحانہ انداز میں مقابلہ کریں گے۔”**

ایرانی عہدیدار نے اپنے بیان میں امریکا کا براہِ راست نام نہیں لیا، تاہم انہوں نے ایران کے **”دشمن”** پر الزام عائد کیا کہ وہ اقتصادی دباؤ کے ذریعے ایرانی معاشرے میں اندرونی اختلافات اور تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

ان کے مطابق دشمن کا مقصد اقتصادی مشکلات کو استعمال کرتے ہوئے ایران کے اندر **عوام اور ریاست کے درمیان فاصلے پیدا کرنا اور داخلی تقسیم کو بڑھانا** تھا، تاہم ان کے بقول یہ منصوبہ کامیاب نہیں ہوسکا۔

رسول سنائی راد نے مزید کہا کہ حالیہ جنگ کے دوران ایران نے دباؤ کے باوجود اپنی مزاحمت برقرار رکھی۔ ان کے مطابق مستقبل میں کسی بھی ممکنہ تنازع کی صورت میں ایران **پہلے سے زیادہ سخت ردعمل** دینے کے لیے تیار ہوگا۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور اس کے مخالفین کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ ایرانی قیادت کی جانب سے ممکنہ آئندہ جنگ کے حوالے سے سخت بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران کسی بھی نئے فوجی تصادم کی صورت میں اپنی **دفاعی اور جوابی حکمت عملی مزید سخت رکھنے** کا عندیہ دے رہا ہے۔

**انسانی حقوق اور امن کا پہلو:**
ایچ آراین ڈبلیو کے مطابق کسی بھی ممکنہ فوجی تصادم میں **شہریوں کے تحفظ، حقِ زندگی اور انسانی جانوں کے ضیاع سے بچاؤ** کو اولین ترجیح حاصل ہونی چاہیے۔ علاقائی کشیدگی میں اضافے کے بجائے سفارتی ذرائع سے تنازعات کا حل اور شہری آبادی کو جنگ کے ممکنہ اثرات سے محفوظ رکھنا عالمی برادری کی اہم ذمہ داری ہے۔

**Support HRNW:** انسانی حقوق، شہریوں کے تحفظ، امن، مزدوروں کے حقوق، عوامی مسائل اور قومی و بین الاقوامی امور سے متعلق آزاد اور ذمہ دار صحافت کے فروغ کے لیے **Human Rights News Worldwide (HRNW)** کو سپورٹ کریں۔

**ڈس کلیمر:** یہ خبر **ایرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز کی جانب سے رپورٹ کردہ بیان** اور فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر شائع کی گئی ہے۔ ایرانی عہدیدار کے دعووں اور “دشمن” سے متعلق الزامات کی آزادانہ تصدیق اس خبر میں نہیں کی گئی۔ متعلقہ فریقین کا مؤقف یا مزید مستند معلومات سامنے آنے پر خبر کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔ ایچ آراین ڈبلیو تمام فریقین کا مؤقف غیر جانب دارانہ اور ذمہ دارانہ انداز میں پیش کرنے کے اصول پر کاربند ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں