اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو)، معروف ماہرِ معاشیات ایس اکبر زیدی نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی، جبکہ آئی ایم ایف پروگرامز پر مسلسل انحصار اس بات کا اظہار ہے کہ ملکی معیشت بدستور مشکلات کا شکار ہے۔
ایس اکبر زیدی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بتایا گیا تھا کہ بجٹ میں بعض اقدامات آئی ایم ایف کی اجازت سے کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق آئی ایم ایف اپنی شرائط پر قرض فراہم کرتا ہے اور پاکستان کا یہ 24واں پروگرام ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور آئی ایم ایف دونوں ایک دوسرے کے عادی ہوچکے ہیں اور اس مرتبہ آئی ایم ایف کی ڈیمانڈز پر زیادہ عمل کیا جارہا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی شرح نمو تقریباً 3 فیصد رہی جبکہ حکومت نے بنیادی طور پر کوئی بڑی معاشی اصلاحات پیش نہیں کیں۔
ایس اکبر زیدی نے کہا کہ پاکستان آئی ایم ایف کے کہنے پر بہت سی چیزیں مان لیتا ہے، تاہم زرعی آمدنی پر ٹیکس میں اضافہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ خطے میں پاکستان میں پیٹرول کی قیمت سب سے زیادہ ہے۔
ٹیکس نیٹ وسیع کرنے کی ضرورت
ماہرِ معاشیات نے ریٹیلرز پر ٹیکس عائد کرنے کے حکومتی اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جانا چاہیے اور ایسے افراد کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے جو اپنی آمدنی کے باوجود ٹیکس ادا نہیں کرتے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو زیادہ آمدنی رکھنے والے افراد سے ٹیکس وصول کرنا چاہیے، جبکہ موجودہ صورتحال میں جو لوگ پہلے ہی ٹیکس ادا کررہے ہیں ان پر مزید بوجھ ڈالا جارہا ہے۔
ایس اکبر زیدی کے مطابق پاکستان کی بیشتر آمدنی قرضوں کی واپسی میں خرچ ہورہی ہے، جبکہ شرح سود ساڑھے 10 سے 11 فیصد تک ہے اور بینک اس صورتحال میں سب سے زیادہ کما رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر قرض درست مقاصد کے لیے استعمال ہورہا ہو تو قرض لینا بذاتِ خود بری چیز نہیں، تاہم پاکستان میں قرض کا بڑا حصہ پرانے قرضوں کی ادائیگی کے لیے لیا جارہا ہے۔
صوبوں کو اختیارات دینے کی ضرورت
ایس اکبر زیدی نے کہا کہ پاکستان کی معیشت پھنس گئی ہے اور ترقی نہیں کررہی۔ ان کے مطابق 18ویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کے باعث صوبوں کی مالی حالت بہتر ہوئی ہے اور صوبائی معاملات میں اوپر سے احکامات دینے کے بجائے صوبوں کی رائے کو اہمیت دینی چاہیے۔
انہوں نے سرکلر ڈیٹ کو ایک سنگین مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بجلی کی قیمتیں بڑھتی جارہی ہیں، جس کے باعث لوگ سولر توانائی کی جانب منتقل ہورہے ہیں۔
ان کے مطابق پاکستان دنیا میں سولرائزیشن کے حوالے سے تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور اس شعبے کے لیے ایک جامع پالیسی سامنے آنی چاہیے تاکہ مستقبل کی ضروریات کے مطابق توانائی کے نظام کو بہتر بنایا جاسکے۔
آئی ایم ایف سے آزادی کے لیے طویل المدتی حکمت عملی ضروری
ایس اکبر زیدی نے کہا کہ پاکستان کو فوری طور پر آئی ایم ایف سے آزادی ملنے والی نہیں اور پاکستان اور آئی ایم ایف ساتھ ساتھ چلتے رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ایسی معاشی حکمت عملی تیار کرنے کی ضرورت ہے جو مستقبل میں آئی ایم ایف کے بغیر کام کرنے کے قابل ہو، تاہم یہ ایک مشکل عمل ہوگا۔
ان کے مطابق موجودہ حکومت کے پاس معیشت کے حوالے سے جامع اور واضح پالیسی موجود نہیں، جس کے باعث بنیادی معاشی مسائل بدستور برقرار ہیں۔
انسانی حقوق اور عوامی مفاد کا پہلو:
ایچ آراین ڈبلیو کے مطابق معاشی پالیسیوں، ٹیکسوں، قرضوں اور بجلی و ایندھن کی قیمتوں کے اثرات براہِ راست عام شہریوں کے معاشی حقوق، روزگار، معیارِ زندگی اور بنیادی ضروریات سے جڑے ہوتے ہیں۔ ضروری ہے کہ معاشی اصلاحات میں ٹیکس کا منصفانہ نظام، کم آمدنی والے طبقات کا تحفظ، شفافیت اور عوامی فلاح کو بنیادی اہمیت دی جائے۔
Support HRNW: انسانی حقوق، مزدوروں کے حقوق، عوامی مسائل، معاشی انصاف اور قومی امور سے متعلق آزاد اور ذمہ دار صحافت کے فروغ کے لیے Human Rights News Worldwide (HRNW) کو سپورٹ کریں۔
ڈس کلیمر: یہ خبر ماہرِ معاشیات ایس اکبر زیدی کے بیان اور فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ معاشی پالیسیوں، آئی ایم ایف پروگرام، ٹیکس اور ملکی معیشت سے متعلق بیان کردہ آرا مقرر کی ذاتی تجزیاتی رائے ہیں۔ ایچ آراین ڈبلیو ان آرا کو کسی حتمی معاشی حقیقت یا ادارہ جاتی مؤقف کے طور پر پیش نہیں کرتا۔ متعلقہ حکومتی یا دیگر فریقین کا مؤقف سامنے آنے پر اسے بھی شامل کیا جائے گا۔


