8

سپریم کورٹ ججز کی تنخواہیں اور مراعات وفاقی آئینی عدالت کے ججز کے برابر کردی گئیں

اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو)، وفاقی حکومت کی سفارش پر صدر مملکت آصف علی زرداری کی جانب سے سمری کی منظوری کے بعد سپریم کورٹ کے ججز کی تنخواہیں اور مراعات وفاقی آئینی عدالت کے ججز کے برابر کردی گئی ہیں، جبکہ ہائی کورٹ کے ججز کی بنیادی تنخواہوں میں بھی اضافہ کردیا گیا ہے۔

اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافے کا اطلاق 10 دسمبر 2025 سے کردیا گیا ہے، جبکہ گزشتہ مدت کا مالی فائدہ بھی سپریم کورٹ کے ججز کو دیا جائے گا اور اضافے کے بقایا جات بھی ادا کیے جائیں گے۔

نئی منظوری کے تحت چیف جسٹس پاکستان کی ماہانہ بنیادی تنخواہ 15 لاکھ 50 ہزار روپے مقرر کردی گئی ہے، جبکہ سپریم کورٹ کے دیگر ججز کی ماہانہ بنیادی تنخواہ 15 لاکھ روپے ہوگی۔ سپریم کورٹ ججز کی بنیادی تنخواہ 11 لاکھ روپے سے بڑھا کر 15 لاکھ روپے کردی گئی ہے۔

سپریم کورٹ ججز کے جوڈیشل الاؤنس میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ جوڈیشل الاؤنس 11 لاکھ 61 ہزار 163 روپے سے بڑھا کر 15 لاکھ روپے ماہانہ مقرر کردیا گیا، جس کے تحت الاؤنس میں تقریباً 3 لاکھ 39 ہزار روپے ماہانہ اضافہ ہوا ہے۔

ججز کے پنشن پیکج میں بھی تبدیلیاں

سپریم کورٹ ججز کے پنشن پیکج میں بھی اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ پنشن سے متعلق شق میں 70 سال کی حد بڑھا کر 75 سال جبکہ ایک دوسری متعلقہ شق میں 85 سال کی حد بڑھا کر 90 سال کردی گئی ہے۔

سپریم کورٹ کے ججز کے لیے ماہانہ ایک لاکھ 50 ہزار روپے میڈیکل الاؤنس بھی مقرر کردیا گیا ہے۔

ہائی کورٹ ججز کی تنخواہوں میں بھی اضافہ

ہائی کورٹ کے ججز کی بنیادی تنخواہوں میں بھی اضافہ کیا گیا ہے، جس کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا۔

نئی منظوری کے تحت ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی ماہانہ بنیادی تنخواہ 12 لاکھ 54 ہزار روپے جبکہ دیگر ہائی کورٹ ججز کی ماہانہ بنیادی تنخواہ 12 لاکھ 5 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔

ہائی کورٹ ججز کی بنیادی تنخواہ 10 لاکھ 95 ہزار روپے سے بڑھا کر 12 لاکھ 5 ہزار روپے کردی گئی، جس کے تحت ماہانہ بنیادی تنخواہ میں ایک لاکھ 10 ہزار روپے کا اضافہ ہوا ہے۔

چیف جسٹس کے لیے نئی سہولت

نئی پالیسی کے تحت دو سال سے زائد عرصہ چیف جسٹس رہنے والے ججز کے لیے بھی نئی سہولت متعارف کرائی گئی ہے۔ ریٹائرمنٹ یا اعلیٰ عدالت میں ترقی کی صورت میں انہیں گاڑی رعایتی قیمت پر خریدنے کی اجازت ہوگی۔

اس کے علاوہ ریٹائرڈ ججز کو وفاقی حکومت کے ثالثی معاملات میں فیس وصول کرنے کی اجازت بھی دی جاسکے گی۔

انسانی حقوق اور عوامی مفاد کا پہلو:
ایچ آراین ڈبلیو کے مطابق اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ ایک اہم عوامی اور مالی معاملہ ہے، کیونکہ اس کے اثرات قومی خزانے اور سرکاری اخراجات پر مرتب ہوتے ہیں۔ ایسے فیصلوں میں عدلیہ کی آزادی اور ججز کے مناسب مالی تحفظ کے ساتھ ساتھ عوامی وسائل کے شفاف، ذمہ دارانہ اور منصفانہ استعمال کو بھی یقینی بنانا ضروری ہے۔

Support HRNW: انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی، عدالتی آزادی، مزدوروں کے حقوق، عوامی مسائل اور قومی امور سے متعلق آزاد اور ذمہ دار صحافت کے فروغ کے لیے Human Rights News Worldwide (HRNW) کو سپورٹ کریں۔

ڈس کلیمر: یہ خبر فراہم کردہ معلومات اور صدر مملکت کی جانب سے سمری کی منظوری سے متعلق تفصیلات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ تنخواہوں، الاؤنسز، پنشن اور دیگر مراعات سے متعلق حتمی قانونی و انتظامی نوٹیفکیشن اور مکمل تفصیلات سامنے آنے پر خبر کو اپ ڈیٹ کیا جا سکتا ہے۔ ایچ آراین ڈبلیو مالی اور سرکاری معاملات سے متعلق معلومات کو دستیاب سرکاری تفصیلات کی بنیاد پر ذمہ دارانہ اور غیر جانب دارانہ انداز میں پیش کرتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں