5

مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاری کے جواب میں بین الاقوامی پابندیوں کا اعلان

لندن/پیرس(ایچ آراین ڈبلیو)برطانیہ نے آسٹریلیا، کینیڈا، فرانس اور ناروے کے وزرائے خارجہ کے ساتھ مل کر مغربی کنارہ میں اسرائیلی آباد کاری سے منسلک افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

پانچوں ممالک نے منگل کے روز جاری مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند آباد کار اپنے حامیوں کی پشت پناہی سے فلسطینیوں پر حملے اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بیان میں خبردار کیا گیا کہ اگر اسرائیل کی حکومت زمینی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات نہیں کرتی تو مزید کارروائی کی جا سکتی ہے۔

ادھر فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو نے اعلان کیا کہ اسرائیلی وزیر خزانہ بتسلئیل سموٹرچ، آباد کار تنظیموں کے چار رہنماؤں اور تشدد میں ملوث 21 آباد کاروں کے فرانس میں داخلے پر پابندی عائد کی جا رہی ہے۔ پیرس کے مطابق یہ اقدامات برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور ناروے کے ساتھ ہم آہنگی میں کیے گئے ہیں۔

برطانوی حکومت کی جانب سے جاری نوٹس میں بتایا گیا کہ عالمی انسانی حقوق کے پابندیوں کے نظام کے تحت سات نئی درجہ بندیاں شامل کی گئی ہیں، جن میں مغربی کنارے کے آباد کاروں سے وابستہ افراد اور ادارے شامل ہیں۔ لندن نے پہلی بار برطانوی کمپنیوں کے لیے سرکاری رہنمائی بھی اپ ڈیٹ کی ہے تاکہ واضح طور پر ایسی اقتصادی یا مالی سرگرمیوں سے اجتناب کی ہدایت دی جا سکے جن کا تعلق اسرائیلی بستیوں سے ہو، جنہیں برطانیہ بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی سمجھتا ہے۔

برطانیہ نے دو ریاستی حل کی حمایت برقرار رکھنے اور فلسطینی اتھارٹی اور غزہ کے لیے اضافی امداد کا اعلان بھی کیا، جس میں غزہ میں بارودی سرنگیں ہٹانے کے لیے 10 لاکھ پاؤنڈ اور 2026 کے دوران فلسطینی اتھارٹی کے لیے کم از کم ایک کروڑ پاؤنڈ کی مالی و تکنیکی معاونت شامل ہے۔

دریں اثنا اقوام متحدہ کی ایک سرکاری تحقیقاتی کمیٹی نے رپورٹ کیا کہ مغربی کنارے میں آباد کاروں کے حملوں میں اسرائیلی حکام براہِ راست ملوث رہے، جبکہ سیکیورٹی فورسز نے حملہ آوروں کو تحفظ فراہم کیا۔ رپورٹ کے مطابق عدالتی اور قانون نافذ کرنے والے نظام کی کمزوریاں اور مالی و فوجی مدد ان حملوں کے لیے سازگار ماحول کا باعث بنیں۔

یہ اقدامات مغربی کنارے میں آباد کاری کے مسلسل پھیلاؤ اور آباد کاروں کے تشدد میں اضافے کے تناظر میں سامنے آئے ہیں۔ واضح رہے کہ حماس کے 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کے بعد سے مغربی کنارے میں تشدد کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا، اور فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق اس عرصے میں کم از کم 1080 فلسطینی اسرائیلی فوجیوں یا آباد کاروں کی فائرنگ سے جاں بحق ہو چکے ہیں۔

اس کے علاوہ اسرائیل نے حالیہ مہینوں میں مغربی کنارے میں 12 مربع کلومیٹر رقبے پر ہزاروں رہائشی یونٹس کی تعمیر کے لیے E1 منصوبہ منظور کیا، جسے ماہرین مستقبل کی کسی بھی فلسطینی ریاست کے زمینی رابطے کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں