11

“کمانے والی گائے، بیرونی قرضوں کے وینٹی لیٹر پر! کراچی اور حیدرآباد کا اصل گنہگار کون؟”

یہ محض ایک سرکاری رپورٹ یا خشک اعداد و شمار کا پلندہ نہیں ہے، بلکہ یہ پاکستان کے سب سے بڑے معاشی انجن، کراچی، اور سندھ کے دوسرے بڑے شہر، حیدرآباد کے کروڑوں جیتے جاگتے انسانوں کی وہ داستانِ الم ہے جو وہ روز جیتے ہیں۔ یہ کہانی ہے ان مڈل کلاس باپوں کی جو دن رات خون پسینہ بہا کر ملک چلانے کے لیے ٹیکس دیتے ہیں لیکن شام کو ٹوٹی سڑکوں پر خوار ہو کر جب گھر لوٹتے ہیں تو ان کے بچے پینے کے صاف پانی کی ایک ایک بوند کو ترستے ہیں۔

وفاق کی بے رخی، صوبائی حکومت کی حد سے بڑھی ہوسِ اختیار اور بلدیاتی اداروں کی بے بسی نے مل کر ان شہروں کو ایک ایسے اندھے کنویں میں دھکیل دیا ہے، جہاں شہر کا کوئی مائی باپ نہیں رہا۔

اگر ہم گزشتہ 18 سالوں (2008 سے لے کر 2026 تک) کے صوبائی ترقیاتی بجٹ کی رنگین کتابیں اٹھا کر دیکھیں، تو ایک ہولناک تماشا سامنے آتا ہے۔ سندھ حکومت نے ان 18 سالوں میں صرف کراچی کے لوکل گورنمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کے نام پر مجموعی طور پر تقریباً 500 سے 800 ارب روپے سے زائد کی خطیر رقم مختص (Allocate) کی۔ جبکہ کہیں یہ رقم 3500 ارب سے بھی زیادہ بتائی جاتی ہے –

بہرکیف! ہر سال جون کے مہینے میں اسمبلی کے ٹھنڈے ہال میں بیٹھ کر جب وزیرِ اعلیٰ یہ اعلان کرتے ہیں کہ “ہم نے کراچی کے لیے اتنے ارب روپے رکھ دیے ہیں،” تو ٹی وی اسکرینوں پر سرخ پٹیاں چلتی ہیں اور اگلے دن اخبارات داد و تحسین کی سرخیاں لگاتے ہیں۔

لیکن کبھی کسی نے سوچا کہ اگر پچھلے 18 سالوں میں اتنی بڑی رقم واقعی اس شہر کی مٹی پر لگی ہوتی، تو کیا آج کراچی کو چند بسوں (BRT) کے لیے، کچرا اٹھانے کے لیے، یا سیوریج کے پائپ بدلنے کے لیے واشنگٹن میں بیٹھے ورلڈ بینک اور منیلا میں بیٹھے ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) کے آگے کشکول پھیلانا پڑتا؟

یہاں سے اس شہر کے ساتھ ہونے والا وہ المیہ شروع ہوتا ہے جس کا درد ہر شہری روز محسوس کرتا ہے:

بجٹ گیا کہاں؟ یہ کروڑوں شہریوں کے خون پسینے کی کمائی کا وہ ٹیکس تھا جو بجٹ کی کتابوں میں تو “کراچی کا حق” بن کر آیا، لیکن بیوروکریسی کے بند کمروں، سیاسی بندر بانٹ، ریلیز نہ ہونے کی پالیسیوں اور “کاغذی اسکیموں” کی نذر ہو کر غائب ہو گیا۔ شہر کی سڑکیں ٹوٹتی رہیں اور یہ اربوں روپے فائلوں کے پیٹ میں ہضم ہو گئے۔ ہر سال سندھ حکومت بجٹ میں کراچی کے لیے 85.5 ارب روپے جیسے بڑے اعداد و شمار کا لولی پاپ دیتی ہے۔ لیکن یہ پیسہ زمین پر کیوں نظر نہیں آتا؟ اس جادوگری کے تین بڑے راستے ہیں:

الف) تنخواہوں اور سیاسی بھرتیوں کا بوجھ (Current Expenditure)
صوبائی بجٹ کا 80 فیصد حصہ ترقیاتی کاموں پر نہیں، بلکہ غیر ترقیاتی اخراجات پر اڑ جاتا ہے۔ کے ایم سی، واٹر بورڈ اور دیگر اداروں میں برسوں سے کی جانے والی سیاسی اور من پسند بھرتیوں کی وجہ سے حاضر سروس اور ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کا حجم اتنا بڑا ہو چکا ہے کہ شہر کی ترقی کے لیے صرف اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر رقم بچتی ہے۔

ب) کاغذی منصوبے اور بجٹ کا “لیپس” ہونا
کاغذوں پر تو کراچی کے لیے رقم مختص (Allocate) کر دی جاتی ہے، لیکن بیوروکریسی جان بوجھ کر وہ رقم ریلیز (Release) نہیں کرتی۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سال کے آخر میں وہ بجٹ قانوناً “لیپس” ہو کر واپس صوبے کے پاس چلا جاتا ہے، یا پھر وہ فائلوں میں بننے والی سڑکوں اور “کاغذی اسکیموں” کی نذر ہو کر کرپشن کی گنگا میں بہہ جاتا ہے۔

ج) این ایف سی (NFC) ایوارڈ کی سیاست
وفاق کا موقف ہے کہ وہ ملک کا 60 فیصد ریونیو کمانے والے اس شہر کے حصے کا پیسہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبے کو دے دیتا ہے۔ لیکن سندھ حکومت اس رقم کو صوبائی پول میں ڈال کر اپنی سیاسی ترجیحات اور اندرونِ سندھ کے اضلاع پر خرچ کر دیتی ہے۔ اور جب وفاق گرین لائن یا کے فور جیسے منصوبوں میں براہِ راست مداخلت کرنا چاہتا ہے، تو صوبائی خودمختاری کا راگ الاپ کر سیاست شروع کر دی جاتی ہے۔ اس کھینچا تانی میں نقصان صرف کراچی اور حیدرآباد کے شہری کا ہوتا ہے۔

دہرا عذاب—قرضہ بھی ہمارا، بھگتیں گے بھی ہم: جب صوبائی بجٹ کا اپنا پیسہ کرپشن اور انتظامی عیاشیوں کی نذر ہو گیا، تو سندھ حکومت نے شہر کو چلانے کے لیے عالمی اداروں سے سود پر قرضے لینا شروع کر دیے۔ المیہ دیکھیے کہ جو ماس پروجیکٹس بیرونی قرضوں سے بن رہے ہیں، ان کا سود اور اصل رقم چکانے کا بوجھ بھی گھوم پھر کر اسی کراچی کے شہری پر پڑے گا۔

نسلوں کا سودا: کل جب ان عالمی بینکوں کا قرضہ واپس کرنے کا وقت آئے گا، تو وفاق اور صوبہ اسی کراچی کے تاجر، اسی مڈل کلاس ملازم پیشہ انسان، اور اسی پٹرول و بجلی کا بل دینے والے عام شہری کی جیب پر مزید ٹیکسز کا ڈاکا ڈالیں گے۔ یعنی ہمارا اپنا پیسہ بھی ہمیں نہ ملا، اور جو باہر سے ادھار لے کر لگایا جا رہا ہے، اس کی قیمت بھی ہماری آنے والی نسلیں کمر توڑ مہنگائی کی صورت میں ادا کریں گی۔

پیپلز پارٹی کی ہوس زر کی وجہ سے اختیارات کا اغوا: بلدیاتی اداروں کا قتلِ عام

ماضی کی یادیں آج کے شہریوں کے لیے کسی خواب جیسی ہیں۔ 2001 سے 2010 کے بلدیاتی نظام کے دوران کراچی سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ (CDGK) ایک طاقتور اور خود مختار ادارہ تھا۔ واٹر بورڈ، کے ڈی اے (KDA)، سالڈ ویسٹ، ماس ٹرانزٹ اور ماسٹر پلاننگ سب ایک ہی چھت تلے، ایک ہی میئر یا ناظمِ شہر کے اشارے پر کام کرتے تھے۔

پھر “سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ (SLGA)” کا قانون اور اس کی مختلف ترامیم آئیں، جنہوں نے ان تمام منافع بخش اور اہم ترین محکموں کو میئر کے ہاتھ سے چھین کر براہِ راست صوبائی کنٹرول میں لے لیا۔

اس منتقلی کے عوامی اور انتظامی نقصانات:

عوام سے جوابدہی کا خاتمہ:ماضی میں منتخب میئر یا ناظم کو دوبارہ عوام کے پاس ووٹ مانگنے جانا ہوتا تھا، اس لیے وہ گلیوں میں نظر آتا تھا۔ اب واٹر بورڈ (KWSC)، سالڈ ویسٹ (SSWMB) اور کے ڈی اے کے سربراہان وہ بیوروکریٹس ہیں جن کا جینا مرنا اس شہر کے ساتھ نہیں ہے۔ انہیں شہر کی بربادی سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ ان کا ریموٹ کنٹرول وزیرِ اعلیٰ ہاؤس کے پاس ہے۔

میئر صرف ایک علامتی عہدہ: کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (KMC) اور ٹاؤنز کو مالی طور پر مفلوج کر دیا گیا ہے۔ اشتہارات کا ٹیکس، پراپرٹی ٹیکس کا بڑا حصہ اور ترقیاتی فنڈز صوبائی حکومت خود ہڑپ کر جاتی ہے۔ اب حال یہ ہے کہ ٹاؤنز کو بائی پاس کر کے 13 ارب روپے کے سڑکوں کے منصوبوں پر پھر سے کے ایم سی اور صوبے کی کھینچا تانی چل رہی ہے، جبکہ عوام خوار ہو رہے ہیں۔

ترقیاتی کاموں کا تماشا: پہلے ایک ناظم کے پاس سڑک اور پانی دونوں کے محکمے ہوتے تھے، اس لیے سڑک بننے سے پہلے پائپ ڈال لیے جاتے تھے۔ اب تماشا یہ ہے کہ ٹاؤن یا کے ایم سی کروڑوں روپے سے سڑک بناتی ہے، اور اگلے ہی ہفتے صوبائی واٹر بورڈ پائپ لائن ڈالنے کے لیے اسے کھود ڈالتا ہے۔ اس تماشے میں اربوں روپے کا ٹیکس کا پیسہ مٹی میں مل جاتا ہے اور سڑکیں سالہا سال کھنڈر بنی رہتی ہیں۔

ایک بھیانک سچائی یہ ہے کہ کراچی اور حیدرآباد میں جو بھی میگا پروجیکٹ نظر آ رہا ہے، وہ سود پر لیے گئے قرضوں پر چل رہا ہے۔ چمکتی ہوئی چند بسیں اور کچھ سڑکیں تو مل رہی ہیں، لیکن ان کا سود ہماری آنے والی نسلوں کے گلے کا طوق بن رہا ہے۔

بیرونی قرضوں کے شکنجے میں جکڑے منصوبے:

CLICK پروجیکٹ: ورلڈ بینک کا یہ منصوبہ بلدیاتی اداروں کی کارکردگی بہتر کرنے کے نام پر آیا، لیکن اس کا بڑا حصہ بیوروکریسی کی گاڑیوں، مراعات اور ایڈمنسٹریشن کی نذر ہو رہا ہے۔
KWSSIP اور SWEEP: پانی کی لائنیں سدھارنے اور کچرا اٹھانے جیسے بنیادی کام، جو شہر کے اپنے ٹیکس سے ہونے چاہیے تھے، اب عالمی بینک کے کروڑوں ڈالر کے قرضے کے محتاج ہیں۔
BRT ریڈ اور یلو لائن: یونیورسٹی روڈ پر بننے والی ریڈ لائن (ایشیائی ترقیاتی بینک – ADB) اور کورنگی کی یلو لائن (ورلڈ بینک) کے اربوں روپے کے قرضوں پر بن رہی ہیں۔ مئی 2026 کی تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ ریڈ لائن اس قدر تاخیر کا شکار ہوئی کہ اب ہنگامی بنیادوں پر کام FWO کو سونپنا پڑا، جس سے منصوبے کی لاگت اور قرض کا بوجھ مزید بڑھ گیا۔
کے فور (K-IV) اور حب کینال: شہر کو پانی دینے کے یہ حیاتیاتی منصوبے بھی وفاق اور صوبے کی بیرونی فنڈنگ کی بھیک پر چل رہے ہیں۔

حیدرآباد کی پسماندگی:

حیدرآباد کی حالت تو کراچی سے بھی زیادہ پسماندہ ہے۔ وہاں گریٹر حیدرآباد واٹر سپلائی، فلڈ انفراسٹرکچر اور سڑکوں کی بحالی کے لیے صوبائی بجٹ کا اپنا پیسہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ وہاں سب کچھ ورلڈ بینک کے “سندھ ریزلیئنس پروجیکٹ” کے قرضے پر چھوڑ دیا گیا ہے، گویا حیدرآباد سندھ کا حصہ ہی نہ ہو۔

کراچی اور حیدرآباد کو ہمیشہ “کمانے والی گائے” یا “سونے کی چڑیا” سمجھ کر نچوڑا تو گیا، لیکن جب ان کی خوراک اور دیکھ بھال کی باری آئی تو انہیں لاوارث چھوڑ دیا گیا۔ روزمرہ کے انتظامی اخراجات اور بیوروکریسی کی عیاشی کے لیے تو بجٹ موجود ہے، لیکن شہریوں کو انسان سمجھ کر بنیادی سہولیات دینے کے لیے ورلڈ بینک کے سامنے کشکول اٹھا لیا جاتا ہے۔

جب تک آئین کے آرٹیکل 140-A پر اس کی روح کے مطابق عمل نہیں ہوتا، جب تک شہر کے محکمے اور وسائل دوبارہ میئر اور منتخب بلدیاتی نمائندوں کے ماتحت نہیں آتے، تب تک یہ شہر اسی طرح بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے سسکتے رہیں گے اور ہماری آنے والی نسلیں اس ظلم کا خمیازہ بھگتی رہیں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں