6

بنگلہ دیش میں طلبہ تحریک کی کامیابی کے بعد، اب کیا مودی کی باری؟

کیا تاریخ خود کو دہرا رہی ہے؟ کیا جس طرح بنگلہ دیش میں ایک طاقتور حکومت عوامی احتجاج کے سامنے نہ ٹھہر سکی، ویسا ہی کوئی منظر اب بھارت میں بھی بنتا دکھائی دے رہا ہے؟ کیا نریندر مودی، جو ایک دہائی سے زائد عرصے سے بھارتی سیاست کے سب سے طاقتور رہنما ہیں، اب اپنے سیاسی کیریئر کے سب سے بڑے امتحان سے گزر رہے ہیں؟ یہ سوالات محض جذباتی نعرے نہیں بلکہ حقائق، رپورٹس اور موجودہ سیاسی حالات کی بنیاد پر جنم لے رہے ہیں، جن کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

بنگلہ دیش میں طلبہ تحریک نے ایک ایسی حکومت کو شدید بحران سے دوچار کیا جو برسوں سے مضبوط سمجھی جاتی تھی۔ اس واقعے نے پورے جنوبی ایشیا میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ کیا عوامی دباؤ، نوجوانوں کی تحریکیں اور آزادیِ اظہار کے مطالبات خطے کی سیاست کا رخ بدل سکتے ہیں۔ اسی پس منظر میں بھارت میں پیش آنے والے کئی واقعات نے بھی مبصرین کی توجہ حاصل کی ہے۔

بھارتی جریدے *دی وائر* کی ایک رپورٹ کے مطابق 2025 کے دوران صحافیوں کو تشدد، گرفتاریوں، قانونی دباؤ اور سنسرشپ جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ہزاروں صحافی مختلف نوعیت کی ہراسانی کا شکار ہوئے، متعدد صحافیوں اور ایک سوشل میڈیا انفلوئنسر کی ہلاکت رپورٹ ہوئی، جبکہ آزادیِ اظہار سے متعلق مقدمات میں درجنوں افراد گرفتار کیے گئے۔ اسی رپورٹ میں گجرات میں آزادیِ اظہار سے متعلق خلاف ورزیوں کے متعدد واقعات ریکارڈ کیے جانے کا ذکر بھی ملتا ہے، جبکہ حکومت پر تنقید کرنے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائیوں، دباؤ اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کیے جانے جیسے اقدامات بھی رپورٹ ہوئے۔ یہ وہی خدشات ہیں جن پر عالمی صحافتی اور انسانی حقوق کی کئی تنظیمیں گزشتہ برسوں سے تشویش کا اظہار کرتی رہی ہیں۔ رپورٹ میں 2023 میں بی بی سی کے بھارتی دفاتر پر ہونے والی ٹیکس کارروائی کا بھی حوالہ دیا گیا، جسے بعض مبصرین میڈیا پر دباؤ کی مثال قرار دیتے ہیں، جبکہ بھارتی حکومت اس نوعیت کی کارروائیوں کو قانونی عمل قرار دیتی رہی ہے۔

بھارت میں حالیہ مہینوں کے دوران کئی شہروں میں طلبہ، نوجوانوں اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے مختلف معاملات پر احتجاج دیکھنے میں آیا ہے۔ روزگار، مہنگائی، امتحانی نظام، ریاستی پالیسیوں، اظہارِ رائے اور بعض حکومتی فیصلوں پر اختلافات نے سیاسی ماحول کو مزید کشیدہ بنا دیا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں حکومت پر جمہوری اداروں کو کمزور کرنے کے الزامات عائد کرتی ہیں، جبکہ حکومت ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کرتی ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور ملک میں جمہوری نظام مکمل طور پر فعال ہے۔ یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ عام انتخابات کے بعد اگرچہ مودی مسلسل اقتدار میں ہیں، لیکن ان کی جماعت کو پہلے جیسی فیصلہ کن پارلیمانی برتری حاصل نہیں رہی، جس کے باعث سیاسی تجزیہ کار نئی سیاسی صف بندیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

تاریخ بتاتی ہے کہ ہر ملک کے سیاسی حالات، آئینی نظام، عدلیہ، پارلیمنٹ، فوج، عوامی حمایت اور معاشی صورتحال مختلف ہوتی ہے۔ اسی لیے بنگلہ دیش اور بھارت کا براہِ راست موازنہ کرنا درست نہیں ہوگا۔ البتہ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اگر کسی بھی جمہوریت میں اختلافِ رائے، آزاد صحافت اور عوامی اعتماد کمزور ہونے لگے تو سیاسی دباؤ میں اضافہ ممکن ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والے بھارت کے لیے یہ وقت ایک اہم امتحان کا ہے۔

کیا حکومت آزادیِ اظہار کے بارے میں اٹھنے والے سوالات کا مؤثر جواب دے سکے گی؟ کیا نوجوانوں کا غصہ وقتی ہے یا یہ مستقبل کی سیاست کا رخ بدل سکتا ہے؟ اور سب سے اہم سوال یہ کہ کیا مودی کی قیادت اس دباؤ سے پہلے کی طرح نکل آئے گی، یا بھارت ایک نئے سیاسی دور میں داخل ہونے جا رہا ہے؟ اس کا فیصلہ آنے والے مہینوں اور بالآخر بھارتی عوام ہی کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں