6

میر رضا علی کیس: انصاف کہاں کھو گیا؟

کبھی کبھی کسی انسان کی موت صرف ایک موت نہیں ہوتی۔ وہ ایک ایسا سوال بن جاتی ہے جو ریاست، پولیس، تفتیشی نظام اور معاشرے کے ضمیر کے سامنے کھڑا ہوجاتا ہے۔ میر رضا علی کا معاملہ بھی شاید ایسا ہی ایک سوال ہے۔ ایک 25 سالہ نوجوان، آئی بی اے کا گریجویٹ، ’’وافلکس‘‘ کا بانی، اپنے مستقبل کے خوابوں کے ساتھ زندگی گزار رہا تھا۔ 28 جولائی کی رات وہ کراچی کے علاقے پی ای سی ایچ ایس میں واقع اپنے گھر سے لاپتہ ہوا اور اگلے ہی روز گلستانِ جوہر سے اس کی لاش برآمد ہوئی۔

ایک خاندان کے لیے اس لمحے کا تصور بھی شاید ممکن نہیں کہ جس بیٹے کو رات گھر سے نکلتے دیکھا ہو، اگلے دن اس کی لاش ملے۔ لیکن اس سے بھی زیادہ اذیت ناک صورت حال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب موت کی حقیقت جاننے کے بجائے سوالات کے جواب تلاش کرنے والے اہل خانہ کو خود یہ ثابت کرنا پڑے کہ ان کا بیٹا خودکشی نہیں، قتل کا شکار ہوا ہے۔

ابتدائی طور پر اس واقعے کو خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔ خاندان نے اس مؤقف کو پہلے دن ہی مسترد کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قتل ہے۔ پھر دوسرا پوسٹ مارٹم ہوا اور تشدد کے شواہد سامنے آئے، تیزاب کے آثار ملے اور مقدمے میں قتل کی دفعات شامل ہوئیں۔

یہاں سے ایک عام شہری کے ذہن میں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: اگر ایک خاندان شروع ہی سے قتل کا دعویٰ کررہا تھا تو اس کی بات سننے میں اتنی دیر کیوں لگی؟ اور اگر بعد کی تحقیقات نے تشدد کے شواہد سامنے لا دیے تو ابتدائی تفتیش میں اتنی بڑی غلطی کیسے ہوئی؟

پھر تفتیشی ٹیمیں بدلتی رہیں۔ ایک، دو، تین نہیں بلکہ پانچ سے زائد مرتبہ تفتیشی ٹیم کی تبدیلی کی اطلاعات سامنے آئیں۔ ہر تبدیلی کے ساتھ ایک ہی سوال مزید گہرا ہوتا گیا کہ آخر اس کیس میں ایسا کیا ہے جس کے باعث تحقیقات مسلسل ایک نئے ہاتھ میں منتقل ہوتی رہیں؟

پوسٹ مارٹم رپورٹس میں تضاد نے بھی خاندان کے شکوک کو کم کرنے کے بجائے مزید بڑھا دیا۔ ایک مقتول خاندان کے لیے اس سے زیادہ تکلیف دہ بات کیا ہوسکتی ہے کہ وہ اپنے پیارے کی موت کا سبب جاننے کے لیے رپورٹوں کے درمیان تضاد دیکھتا رہے اور ہر نئے مرحلے پر ایک نیا سوال اس کے سامنے کھڑا ہوجائے؟

اب سندھ حکومت نے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دے دیا ہے۔ حکومت کے مطابق مقصد شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنانا ہے۔ کمیشن کی سربراہی سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عمر سیال کریں گے اور اسے 30 دن میں رپورٹ پیش کرنا ہوگی۔

بظاہر یہ ایک ایسا قدم ہے جس سے کسی بھی متاثرہ خاندان کو اطمینان ہونا چاہیے۔ لیکن میر رضا علی کا خاندان اس فیصلے سے مطمئن نہیں۔ خاندان کا کہنا ہے کہ اسے کمیشن کے قیام سے پہلے اعتماد میں نہیں لیا گیا اور کمیشن کے ٹی او آرز تک سے آگاہ نہیں کیا گیا۔ خاندان پہلے ہی وزیراعلیٰ سندھ کو خط لکھ کر جے آئی ٹی بنانے کا مطالبہ کرچکا تھا۔

یہاں اصل مسئلہ جوڈیشل کمیشن یا جے آئی ٹی میں سے کسی ایک کے انتخاب سے کہیں بڑا ہے۔

اصل مسئلہ **اعتماد** ہے۔

اگر حکومت سمجھتی ہے کہ جوڈیشل کمیشن ہی انصاف کا بہترین راستہ ہے تو خاندان کو اس عمل کا حصہ بنانے میں کیا قباحت تھی؟ اگر حکومت شفافیت چاہتی تھی تو کمیشن کے دائرہ کار پر خاندان سے مشاورت کیوں نہ کی گئی؟ اور اگر خاندان کو پہلے ہی تحقیقات پر تحفظات تھے تو کیا ان تحفظات کو دور کیے بغیر بنایا گیا کمیشن واقعی وہ اعتماد پیدا کرسکتا ہے جس کی ایسے مقدمے میں سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے؟

انصاف صرف عدالت کے فیصلے کا نام نہیں۔ انصاف اس عمل کا نام بھی ہے جس کے دوران متاثرہ شخص کے خاندان کو یہ یقین ہو کہ ریاست اس کے ساتھ کھڑی ہے۔ ایک ماں، باپ، بہن یا بھائی جب اپنے مقتول عزیز کے لیے انصاف مانگتا ہے تو وہ صرف قانونی کارروائی نہیں مانگ رہا ہوتا، وہ یہ یقین مانگ رہا ہوتا ہے کہ ریاست اس کے دکھ کو سمجھ رہی ہے۔

میر رضا علی کے خاندان کے لیے شاید سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ کمیشن بنے گا یا جے آئی ٹی۔ ان کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ ان کے بیٹے کے ساتھ آخر ہوا کیا تھا؟

وہ گھر سے کیسے نکلا؟

وہ گلستانِ جوہر کیسے پہنچا؟

اس کے جسم پر تشدد کے نشانات کیسے آئے؟

تیزاب کے آثار کہاں سے آئے؟

ابتدائی طور پر موت کو خودکشی قرار دینے کی کوشش کیوں ہوئی؟

پوسٹ مارٹم رپورٹس میں تضاد کیوں پیدا ہوا؟

اور آخر وہ کون لوگ ہیں جو اس واقعے کے ذمہ دار ہیں؟

ان سوالات کے جواب صرف میر رضا علی کے خاندان کو نہیں چاہییں۔ یہ سوال اس معاشرے کو بھی درپیش ہیں جہاں ایک نوجوان کی زندگی ختم ہوجاتی ہے، مگر اس کے بعد انصاف کی تلاش برسوں جاری رہتی ہے۔

ہم اکثر کہتے ہیں کہ قانون سب کے لیے برابر ہے۔ لیکن قانون کی برابری کا اصل امتحان تب ہوتا ہے جب کوئی طاقتور ملزم سامنے نہ ہو، جب مقتول خود اپنی کہانی سنانے کے لیے زندہ نہ ہو اور جب اس کے خاندان کی آواز ہی اس کا واحد سہارا ہو۔

میر رضا علی اب اپنی بات خود نہیں کہہ سکتا۔ اس کی طرف سے صرف اس کے شواہد بول سکتے ہیں، اس کی پوسٹ مارٹم رپورٹس بول سکتی ہیں، فرانزک شواہد بول سکتے ہیں اور سب سے بڑھ کر ایک ایسی غیر جانبدارانہ تفتیش بول سکتی ہے جس پر کسی کو انگلی اٹھانے کا موقع نہ ملے۔

اسی لیے سندھ حکومت اور مقتول کے خاندان کے درمیان پیدا ہونے والا یہ اختلاف معمولی نہیں۔ یہ اس بات کا امتحان ہے کہ ریاست اپنے شہری کے خاندان کا اعتماد کیسے حاصل کرتی ہے۔

خاندان نے سندھ ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے اور جوڈیشل کمیشن کے خلاف درخواست دائر کردی ہے۔ عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 31 اگست تک جواب طلب کیا ہے۔

31 اگست کو عدالت میں صرف ایک مقدمے کی سماعت نہیں ہوگی۔ وہاں ایک خاندان کے اس سوال کی گونج بھی سنائی دے گی کہ **ہمیں انصاف کون دے گا؟**

اور شاید اس سوال کا جواب صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کمیشن دے گا یا جے آئی ٹی۔

اصل جواب یہ ہونا چاہیے کہ **جو بھی تحقیقات کرے، وہ اتنی شفاف، غیر جانبدار اور قابلِ اعتماد ہوں کہ میر رضا علی کے خاندان کو آخرکار یہ محسوس ہو کہ ریاست نے ان کے بیٹے کو بھلایا نہیں۔**

کیونکہ انصاف میں تاخیر یقیناً تکلیف دہ ہے، مگر انصاف کے عمل پر اعتماد ختم ہوجانا اس سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔

میر رضا علی واپس نہیں آسکتا۔ کوئی کمیشن، کوئی جے آئی ٹی اور کوئی عدالتی فیصلہ اس خاندان کا بیٹا واپس نہیں لا سکتا۔ لیکن ایک شفاف تحقیقات، ایک غیر جانب دار فیصلہ اور ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا شاید اس خاندان کو یہ یقین ضرور دلا سکے کہ ان کے بیٹے کی موت بے معنی نہیں گئی۔

یہ صرف میر رضا علی کے خاندان کا مقدمہ نہیں۔

یہ ہمارے نظامِ انصاف کا امتحان ہے۔

اور سوال آج بھی وہی ہے:

**میر رضا علی کے قتل کا راز کب کھلے گا، اور انصاف آخر کہاں کھو گیا؟**

اپنا تبصرہ بھیجیں