20

کیا پولیس آپ کا موبائل فون چیک کر سکتی ہے؟ | آرٹیکل 14 کیا کہتا ہے؟

پاکستان کے آئین نے ہر شہری کو ایک ایسا بنیادی حق دیا ہے جو نہ صرف اس کی ذاتی عزت بلکہ اس کے گھر، اس کی نجی زندگی اور اس کے وقار کی بھی حفاظت کرتا ہے، اور یہ حق آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 14 میں درج ہے، جس کے مطابق انسان کی عزت و وقار اور گھر کی حرمت، قانون کے مطابق، ناقابلِ پامالی قرار دی گئی ہے۔ یہ محض ایک آئینی شق نہیں بلکہ ہر پاکستانی شہری کے لیے ایک مضبوط ڈھال کی حیثیت رکھتی ہے، چاہے وہ مزدور ہو، طالب علم ہو، صحافی ہو، وکیل ہو، ڈاکٹر ہو، خاتون ہو یا کوئی سرکاری ملازم، آئین نے ہر ایک کی عزت، پرائیویسی اور گھر کے احترام کو یکساں تحفظ فراہم کیا ہے۔

عملی زندگی میں اکثر یہ دیکھا جاتا ہے کہ پولیس شہریوں کی نجی زندگی میں بلاجواز مداخلت کرتی ہے۔ کسی ناکے پر روک کر جامہ تلاشی کے علاوہ موبائل فون کھول کر ذاتی ڈیٹا چیک کرنا بھی دراصل شہری کی پرائیویسی میں مداخلت کے زمرے میں آتا ہے اور یہ عمل آرٹیکل 14 کی صریح خلاف ورزی تصور کیا جاتا ہے۔ البتہ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے یہ فرق ملحوظ رکھنا ضروری ہے کہ اگر پولیس کسی درج شدہ مقدمے کی باقاعدہ تفتیش کر رہی ہو اور قانون اسے ڈیجیٹل شواہد حاصل کرنے کا اختیار دیتا ہو تو مخصوص حالات میں، بالخصوص عدالتی اجازت کے تحت، موبائل فون قبضے میں لینا یا اس کا فرانزک معائنہ قانونی حیثیت رکھتا ہے۔ لیکن محض ناکے پر روک کر، بغیر کسی قانونی جواز کے، زبردستی موبائل کھلوانا یا کسی کی ذاتی چیٹس، تصاویر اور ڈیٹا دیکھنا آئینی تحفظات اور شہری حقوق کی روشنی میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔

اگر کوئی سرکاری اہلکار اس بنیادی حق کو پامال کرے تو قانون اس کے خلاف کارروائی کے کئی راستے فراہم کرتا ہے۔ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 166 اس صورت میں لاگو ہو سکتی ہے جب کوئی سرکاری ملازم جان بوجھ کر قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کسی کو نقصان پہنچانے کی نیت سے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرے، جبکہ دفعہ 220 اس وقت زیرِ غور آتی ہے جب کوئی سرکاری ملازم بدنیتی سے اپنے قانونی اختیارات کا غلط استعمال کر کے کسی کو نقصان پہنچائے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص کسی کے گھر میں غیر قانونی طور پر داخل ہو تو دفعہ 448 کے تحت ایک سال تک قید اور جرمانہ ہو سکتا ہے، اور اگر یہ داخلہ تشدد یا حملے کی نیت سے ہو تو دفعہ 452 کے تحت سزا سات سال تک بڑھ سکتی ہے۔ اگر کسی شہری کو غیر قانونی حراست میں رکھ کر تشدد کیا جائے یا اعتراف جرم کے لیے دباؤ ڈالا جائے تو دفعہ 348 کے تحت تین سال تک قید کی سزا مقرر ہے، اور اگر کسی خاتون کی عزت، پرائیویسی یا حیا کو مجروح کیا جائے تو دفعہ 509 کے تحت بھی قانونی کارروائی ممکن ہے۔ مزید یہ کہ کسی پولیس اہلکار کے خلاف پولیس آرڈر 2002 کے تحت متعلقہ ایس ایس پی یا ڈی پی او کو تحریری درخواست بھی دی جا سکتی ہے، اور اگر یہ عمل کسی سرکاری اہلکار کی جانب سے ہو تو فوجداری مقدمے کے ساتھ ساتھ محکمانہ کارروائی، معطلی، برطرفی اور عدالت میں جوابدہی کا امکان بھی رہتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اگر کسی شہری کے ساتھ ایسا کوئی واقعہ پیش آئے تو وہ ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کر کے آرٹیکل 14 کے تحت اپنے بنیادی حقوق کے تحفظ کی استدعا کر سکتا ہے، کیونکہ آئین صرف حکمرانوں کے لیے نہیں بلکہ ہر پاکستانی کے لیے ہے۔

کسی بھی قوم کی اصل طاقت اس کے ہتھیاروں یا عمارتوں میں نہیں بلکہ اس کے شہریوں کی عزت میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ جب ایک غریب، ایک مزدور، ایک عورت، ایک بزرگ اور ایک عام شہری اپنے وقار کے ساتھ زندگی گزار سکے، تبھی کوئی ریاست حقیقی معنوں میں آئینی ریاست کہلانے کی حقدار ٹھہرتی ہے۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے آئینی حقوق سے آگاہ رہیں، دوسروں کے حقوق کا احترام کریں اور قانون کی حکمرانی کو مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کریں، کیونکہ عزت مانگی نہیں جاتی بلکہ آئین اسے تحفظ دیتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں