30

خاموش چیخیں: پاکستان میں ہر گھنٹے ایک عورت زخمی — دنیا کب جاگے گی؟

کچھ درد ایسے ہوتے ہیں جو کبھی زبان تک نہیں پہنچتے۔ کچھ آنسو خاموشی سے بہہ کر تکیوں میں جذب ہو جاتے ہیں، اور کچھ چیخیں ایسی ہوتی ہیں جو چار دیواری کے اندر ہی دفن کر دی جاتی ہیں، کبھی باہر کی دنیا تک پہنچنے ہی نہیں پاتیں۔ لیکن اعداد و شمار کبھی جھوٹ نہیں بولتے، اور اس بار پاکستان سے سامنے آنے والے اعداد و شمار اتنے سنگین ہیں کہ انہیں نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔ غیر سرکاری تنظیم ساحل کی جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، سال 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران ملک بھر میں خواتین کے خلاف تشدد کے 3,172 واقعات رجسٹرڈ ہوئے۔ یہ محض ایک عدد نہیں، بلکہ 3,172 نامکمل خواب، 3,172 ٹوٹے ہوئے خاندان، اور 3,172 ایسی کہانیاں ہیں جن میں سے ہر ایک اپنے اندر ایک دنیا سموئے ہوئے ہے۔

رپورٹ کے مطابق ان چھ مہینوں میں 644 خواتین کو بے دردی سے قتل کیا گیا، 514 جسمانی تشدد کا نشانہ بنیں، 462 کو اغوا کیا گیا، 363 خواتین اتنی مایوسی اور کرب میں مبتلا ہوئیں کہ انہوں نے اپنی جان لینے کو ترجیح دی، 280 جنسی زیادتی کا شکار بنیں، اور 132 کو نام نہاد “غیرت” کے جھوٹے تصور کے نام پر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ یہ وہ اعداد ہیں جو کسی بھی مہذب معاشرے کے ماتھے پر سوالیہ نشان بن کر ابھرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر کب تک عورت کی جان اتنی سستی رہے گی کہ اسے چند سطروں کی خبر بنا کر بھلا دیا جائے؟

اس رپورٹ کا سب سے تکلیف دہ پہلو وہ اعداد و شمار ہیں جو کم عمر لڑکیوں سے متعلق ہیں۔ 334 کیسز میں متاثرہ خواتین کی عمریں اکیس سے تیس برس کے درمیان تھیں، جبکہ 306 واقعات میں گیارہ سے بیس سال کی عمر کی لڑکیاں تشدد کا نشانہ بنیں — وہ عمر جس میں ایک بچی کے ہاتھوں میں کتابیں، اسکول بیگ اور مستقبل کے خواب ہونے چاہئیں، نہ کہ خوف، زخم اور خاموشی۔ جب معاشرے کی سب سے کمزور اور معصوم کڑی ہی محفوظ نہ رہے، تو یہ صرف چند خاندانوں کا نہیں بلکہ پوری قوم کے ضمیر کا سوال بن جاتا ہے۔

اور سب سے زیادہ چونکا دینے والی حقیقت یہ ہے کہ ان واقعات میں سے 54 فیصد خواتین کے اپنے گھروں کے اندر پیش آئے۔ گھر، جسے دنیا بھر میں تحفظ، محبت اور سکون کی علامت سمجھا جاتا ہے، اگر وہی جگہ خوف اور اذیت کا مرکز بن جائے، تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ معاشرہ اپنی بنیادی ذمہ داری سے مکمل طور پر پیچھے ہٹ چکا ہے۔ چار دیواری کے اندر ہونے والا ظلم اکثر باہر کی دنیا تک نہیں پہنچتا، کیونکہ اسے “گھریلو معاملہ” کہہ کر خاموش کر دیا جاتا ہے، جبکہ حقیقت میں یہ ایک ایسا جرم ہوتا ہے جو ہر روز کسی نہ کسی گھر میں دہرایا جاتا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی سامنے آیا کہ ٹرانسجینڈر افراد کے خلاف تشدد کے 18 کیسز درج کیے گئے۔ یہ اعداد ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ انسانی حقوق کی جنگ صرف عورت اور مرد کی حدود میں محدود نہیں، بلکہ ہر اس انسان کے تحفظ، عزت اور برابری کا نام ہے جو معاشرے میں پسماندگی اور امتیاز کا سامنا کرتا ہے۔ جب تک ہم ہر کمزور طبقے کے تحفظ کو یقینی نہیں بناتے، ہم ایک مکمل اور منصفانہ معاشرہ تشکیل نہیں دے سکتے۔

سوال یہ نہیں کہ یہ اعداد کتنے بڑے ہیں، سوال یہ ہے کہ ہم بحیثیت قوم، بحیثیت معاشرہ اور بحیثیت انسان کب تک صرف اعداد و شمار گنتے رہیں گے؟ کیا ہر قتل کے بعد چند دن کا افسوس، چند ٹاک شوز اور چند سوشل میڈیا پوسٹس کافی ہیں؟ یا وقت آ گیا ہے کہ ہم ایک ایسا معاشرہ تعمیر کریں جہاں بیٹی بغیر خوف کے سڑک پر چل سکے، عورت اپنے حق کے لیے آواز اٹھا سکے، متاثرہ افراد کو حقیقی اور فوری انصاف ملے، اور ظلم کرنے والوں کو کسی رعایت کے بغیر قانون کے کٹہرے میں لایا جائے؟

خاموشی کبھی حل نہیں ہوتی۔ ہر گزرتا دن، ہر نظرانداز کیا گیا واقعہ، اور ہر دبائی گئی چیخ، ظالم کے حوصلے بڑھاتی ہے اور مظلوم کو مزید تنہا کرتی ہے۔ آواز اٹھانا، حقائق کو بے نقاب کرنا، آگاہی پھیلانا اور انصاف کے لیے کھڑا ہونا ہی وہ پہلا قدم ہے جو حقیقی تبدیلی کی بنیاد رکھتا ہے۔ آئیے، ایک ایسے پاکستان اور ایک ایسی دنیا کے لیے مل کر کام کریں جہاں ہر عورت — چاہے وہ کسی بھی عمر، طبقے یا پس منظر سے ہو — خود کو محفوظ، باعزت اور آزاد محسوس کرے۔ کیونکہ ایک محفوظ عورت ہی ایک مضبوط، مہذب اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔

میں اس حوالے سے ایچ آراین ڈبلیو کو خراج تحسین پیش کرنا چاہوں کا کہ ہیومن رائٹس نیوز ورلڈ وائیڈ (HRNW) انسانی حقوق، انصاف اور سماجی شعور کے فروغ کے لیے مسلسل آواز بلند کر رہا ہے، اور دنیا بھر کے انسانی حقوق کے علمبرداروں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اس جدوجہد میں ایچ آراین ڈبلیو ساتھ دیں، کیونکہ یہ جنگ صرف پاکستان کی نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے وقار اور مستقبل کی جنگ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں