کسی بھی نئی سرکاری اسکیم کا اعلان ہوتے ہی عوام کے ذہن میں سب سے پہلا سوال یہی جنم لیتا ہے: “اس میں ہمارا فائدہ کیا ہے؟” فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے حال ہی میں چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کے لیے **”ریٹیلر اسکیم ایپ”** کے نام سے ایک موبائل ایپلیکیشن متعارف کرائی ہے، جس کا مقصد یہ ہے کہ دکاندار اپنے موبائل فون کے ذریعے ہی رجسٹریشن، ٹیکس ادائیگی اور ریٹرن فائلنگ کا مکمل عمل مکمل کر سکیں۔ اس اعلان کے ساتھ ہی چھوٹے دکاندار موبائل ہاتھ میں لیے، ایک آنکھ سے ایپ دیکھ رہے ہیں اور دوسری آنکھ سے اس “گرین پلیٹ” کا سراب، جو کہتے ہیں دکان کے باہر لگتے ہی سارے جھنجھٹ ختم کر دے گی۔ مگر کیا واقعی ایسا ہے؟ آئیے ذرا تفصیل سے جائزہ لیتے ہیں۔
بات شروع ہوتی ہے ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے سے۔ دکاندار اپنے کاروبار کی بنیادی تفصیلات درج کرے گا — نہ کوئی لمبی چوڑی دستاویزات، نہ دفتروں کے چکر۔ فارم اتنا سادہ رکھا گیا ہے کہ ایک عام دکاندار بھی بغیر کسی مدد کے اسے پُر کر سکے۔ معلومات مکمل ہوتے ہی نظام خود بخود **PSID** یعنی ادائیگی کا ریفرنس نمبر بنا دیتا ہے۔ یہاں تک تو معاملہ سیدھا ہے۔ اصل امتحان اس کے بعد شروع ہوتا ہے۔
سوال یہ نہیں کہ ایپ کیسی ہے، سوال یہ ہے کہ جیب پر کیا گزرے گی۔ اسکیم میں کم از کم سالانہ **25 ہزار روپے** کی ادائیگی رکھی گئی ہے، اور آگے دکاندار کا اصل بوجھ اس کے ٹرن اوور اور اسکیم کی شرائط پر منحصر ہوگا۔ یعنی نمبر بنوا لینا کوئی کارنامہ نہیں — اصل کہانی ادائیگی، اور پھر ریٹرن فائل کرنے میں ہے۔ ایپ ڈاؤن لوڈ کرکے سکون سے بیٹھ جانے والے دکاندار شاید یہ بھول جائیں کہ یہ محض پہلا قدم ہے، منزل نہیں۔
جیسے ہی ریٹرن کامیابی سے جمع ہوگا اور رقم ادا ہوگی، دکاندار کو **ڈیجیٹل گرین پلیٹ** مل جائے گی — جس پر NTN، دکان کی تفصیلات اور ایک QR کوڈ موجود ہوگا۔ فزیکل پلیٹ کے شوقین حضرات کو البتہ تھوڑا صبر کرنا پڑے گا؛ متعلقہ دفتر سے یہ پلیٹ حاصل کرنے میں تقریباً **دو ہفتے** لگ سکتے ہیں۔ سو اگر کوئی سوچ رہا ہے کہ ریٹرن جمع کرواتے ہی پلیٹ دکان پر سج جائے گی، تو یہ خوش فہمی دور کر لیں۔
اب آتی ہے وہ بات جس کے لیے دراصل یہ سارا کالم لکھا جا رہا ہے۔ گرین پلیٹ کا سب سے بڑا “سیلنگ پوائنٹ” یہی ہے کہ اس کے حامل دکانداروں کو **پوائنٹ آف سیلز (POS)** کی شرط سے استثنیٰ مل جائے گا، اور معمول کی جانچ کے لیے ایف بی آر کا افسر بھی دروازے پر دستک نہیں دے گا۔ ظاہر ہے، یہی دو باتیں ہیں جو دکانداروں کی آنکھوں میں چمک لا رہی ہیں۔ حکومت کی نیت بھی یہی معلوم ہوتی ہے — گاجر اور لاٹھی، دونوں ایک ساتھ: ٹیکس دو، سہولت لو۔
مگر یہاں محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ گرین پلیٹ ملنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ دکان ہر قسم کی قانونی یا ٹیکس کارروائی سے بری الذمہ ہوگئی۔ یہ سہولت اسی اسکیم کی شرائط سے مشروط ہے — درست معلومات، بروقت ادائیگی، اور مسلسل ذمہ داری۔ ایک بار پلیٹ لگا کر بے فکر ہوجانے والے دکاندار شاید بعد میں مشکل میں پڑ جائیں۔
سوال یہ نہیں کہ ایف بی آر نے ایپ بنا دی، سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کا دکاندار طبقہ، جو دہائیوں سے ٹیکس نظام سے دور رہنے کا عادی ہے، اس بار خود کو رجسٹر کروانے پر آمادہ ہوگا؟ گرین پلیٹ کا لالچ کتنوں کو کھینچ لائے گا، اور کتنے اسے بھی محض ایک اور سرکاری تجربہ سمجھ کر نظرانداز کر دیں گے — اس کا فیصلہ آنے والے مہینوں میں ہوگا۔


