**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو)** — سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے **ناظم آباد کے مختلف رہائشی علاقوں میں مبینہ غیر قانونی کمرشل عمارتوں کی تعمیرات** کے خلاف درخواست کی سماعت کی۔
سماعت کے دوران جسٹس **عدنان الکریم میمن** نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کے لیے **مکمل میکنزم موجود ہے اور افسران و عملہ بھی دستیاب ہے، پھر کارروائی کیوں نہیں کی جا رہی؟**
درخواست گزار کے وکیل **ظہیر احمد** نے عدالت کو بتایا کہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف ایس بی سی اے کو متعدد درخواستیں دی گئیں، تاہم مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔
وکیل کے مطابق بعض عمارتوں کے حوالے سے سرکاری کاغذات میں انہیں **سیل شدہ** ظاہر کیا گیا ہے، لیکن اس کے باوجود مبینہ غیر قانونی تعمیراتی سرگرمیاں جاری ہیں۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ **ایس بی سی اے صرف کاغذی کارروائی تک محدود ہے جبکہ زمینی سطح پر غیر قانونی تعمیرات تیزی سے جاری ہیں۔** ان کے مطابق رہائشی علاقوں میں مجموعی طور پر **34 مبینہ غیر قانونی کمرشل عمارتیں** تعمیر کی جا رہی ہیں۔
جسٹس عدنان الکریم میمن نے ریمارکس دیے کہ ایس بی سی اے کا اپنا عدالتی فورم بھی موجود ہے اور سوال اٹھایا کہ جب غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کا باقاعدہ میکنزم موجود ہے تو سندھ ہائیکورٹ کس طرح براہِ راست کارروائی کا حکم دے سکتی ہے۔
عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ **ایک مرتبہ پھر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے رجوع کرے** اور متعلقہ فورم سے قانونی کارروائی حاصل کرے۔
**Support HRNW:**
شہری حقوق، قانون کی حکمرانی، شفافیت اور عوامی مفاد کے مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے HRNW کو سپورٹ کریں۔
[Support HRNW](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
**Disclaimer:**
یہ خبر عدالت میں ہونے والی کارروائی اور وکیلِ درخواست گزار کے مؤقف کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ غیر قانونی تعمیرات سے متعلق الزامات حتمی عدالتی فیصلے سے مشروط ہیں۔


