**کراچی (HRNW)** — سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ نے فلم **’’گھوسٹ اسکول‘‘** کو سندھ میں نمائش کی اجازت نہ دینے کے معاملے پر سندھ بورڈ آف فلم سینسرز کو **دو ہفتوں میں فیصلہ کرنے** کی ہدایت کردی۔
فلم سازوں کی جانب سے سندھ بورڈ آف فلم سینسرز کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست کی سماعت **جسٹس عدنان الکریم میمن** کی سربراہی میں ہوئی، جس میں سیکریٹری سندھ سینسر بورڈ عدالت میں پیش ہوئے۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ فلم کو وفاقی سطح پر ریلیز کی اجازت حاصل ہے، جبکہ **سینٹرل سینسر بورڈ اور پنجاب سینسر بورڈ بھی فلم کی نمائش کی اجازت دے چکے ہیں**۔
وکیل نے عدالت کو بتایا کہ صورتحال یہ ہے کہ فلم **کراچی کے کنٹونمنٹ علاقوں میں دکھائی جا سکتی ہے، لیکن سندھ حکومت کے زیر انتظام علاقوں میں اس کی نمائش کی اجازت نہیں دی جا رہی۔**
اس موقع پر عدالت نے سیکریٹری سندھ سینسر بورڈ سے استفسار کیا کہ فلم میں ایسی کیا چیز ہے جس کی بنیاد پر اسے نمائش کی اجازت نہیں دی جا رہی؟ عدالت نے سوالیہ انداز میں کہا، **’’کیا فلم میں کوئی جن ہیں جو اجازت نہیں دی جا رہی؟‘‘**
سیکریٹری سندھ سینسر بورڈ نے جواب دیا کہ وہ عدالت میں اس حوالے سے تفصیلات نہیں بتا سکتے کیونکہ فلم کو سینسر کرنے کا فیصلہ بورڈ کا اختیار ہے۔
جسٹس عدنان الکریم میمن نے ریمارکس دیے کہ **عدالت سے حقائق چھپائے نہیں جا سکتے اور تمام وجوہات عدالت کے سامنے بیان کرنا ہوں گی۔** عدالت نے کہا کہ تمام فریق عدالت کی معاونت کے لیے آتے ہیں اور اگر اسباب چھپائے گئے تو عدالت درخواست منظور کرنے پر غور کرسکتی ہے۔
سیکریٹری سندھ سینسر بورڈ نے کہا کہ وہ کوئی چیز چھپا نہیں رہے اور انہیں جواب جمع کرانے کے لیے مہلت دی جائے۔
درخواست گزار کے وکیل **معیز بیگ ایڈووکیٹ** نے مؤقف اختیار کیا کہ سندھ موشن پکچرز ایکٹ 2011 کے تحت کسی فلم کو سینسر سرٹیفکیٹ سے انکار صرف مخصوص قانونی بنیادوں پر کیا جاسکتا ہے۔
وکیل کے مطابق مذہب، قومی سلامتی، بین الاقوامی تعلقات یا اخلاقیات کے خلاف مواد فلم کی نمائش روکنے کی قانونی وجوہات میں شامل ہیں، تاہم سندھ سینسر بورڈ کا فیصلہ قانون میں درج کسی بنیاد کے تحت نہیں آتا۔
انہوں نے کہا کہ فلم میں **گھوسٹ اسکولز کے مسئلے کو اجاگر** کیا گیا ہے اور فلم کو برطانیہ میں ہونے والے **ایشین فلم فیسٹیول میں بہترین ہدایت کاری کا ایوارڈ** بھی مل چکا ہے۔
وکیل نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ فلم سازوں کو نہ کوئی **شوکاز نوٹس جاری کیا گیا اور نہ ہی اپنا مؤقف پیش کرنے کا مناسب موقع دیا گیا۔**
عدالت نے سندھ سینسر بورڈ کو ہدایت کی کہ وہ نظرثانی کی درخواست پر تمام فریقین کو سننے کے بعد **دو ہفتوں کے اندر قانون کے مطابق فیصلہ** کرے۔
**Support HRNW:**
اظہارِ رائے، فنونِ لطیفہ، شہری آزادیوں، قانون کی حکمرانی اور ذمہ دارانہ صحافت کے فروغ کے لیے HRNW کو سپورٹ کریں۔
[Support HRNW](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
**Disclaimer:**
یہ خبر سندھ ہائی کورٹ میں ہونے والی عدالتی کارروائی اور وکلا کے دلائل کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ فلم کی نمائش سے متعلق حتمی فیصلہ متعلقہ سینسر بورڈ کے قانونی عمل کے بعد سامنے آئے گا۔


