**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو)** — نجی تعلیمی ادارے **بیکن ہاؤس اسکول سسٹم** کی مبینہ من مانیوں اور فیسوں میں خلافِ قانون اضافے کے خلاف والدین نے **صوبائی محتسب سندھ** سے رجوع کرلیا۔
صوبائی محتسب سندھ **محمد سہیل راجپوت** کی زیرِ صدارت سماعت کے دوران والدین نے اسکول انتظامیہ کے خلاف متعدد شکایات پیش کیں۔ سماعت میں **اسپیشل سیکریٹری ایجوکیشن شازیہ قاضی، ڈی جی پرائیویٹ اسکولز محمد افضل اور ایڈیشنل ڈائریکٹر رفعیہ جاوید** بھی شریک ہوئے۔
والدین نے مؤقف اختیار کیا کہ اسکول انتظامیہ کی جانب سے ہر سال فیسوں میں مبینہ طور پر **من مانا اور خلافِ قانون اضافہ** کیا جاتا ہے، جس سے والدین پر مسلسل مالی بوجھ بڑھ رہا ہے۔
والدین نے مزید شکایت کی کہ بچوں کے **یونیفارم ہر دو سال بعد تبدیل** کیے جاتے ہیں، جبکہ کورس اور کتابیں مخصوص وینڈرز سے مہنگے داموں خریدنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
والدین کے مطابق ایک بچے کے اگلی جماعت میں جانے کے بعد اس کے چھوٹے بہن یا بھائی کو گزشتہ سال کا کورس استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی، جس کے باعث انہیں دوبارہ مہنگی کتابیں خریدنا پڑتی ہیں۔
صوبائی محتسب سندھ محمد سہیل راجپوت نے **ڈی جی پرائیویٹ اسکولز کو منگل تک رپورٹ پیش کرنے** کی ہدایت کردی۔
محمد سہیل راجپوت نے واضح کیا کہ **خلافِ قانون اقدامات کرنے والے نجی اسکولوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔**
سماعت کے دوران والدین کی شکایات اور نجی اسکولوں میں فیسوں و دیگر اخراجات سے متعلق قواعد پر عملدرآمد کا جائزہ بھی لیا گیا۔
**Support HRNW:**
تعلیم، بچوں کے حقوق، والدین کے مسائل اور عوامی مفاد کے معاملات کو اجاگر کرنے کے لیے HRNW کو سپورٹ کریں۔
[Support HRNW](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
**Disclaimer:**
یہ خبر سماعت کے دوران والدین کی جانب سے پیش کی گئی شکایات اور متعلقہ حکام کے بیانات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ بیکن ہاؤس اسکول سسٹم کے خلاف عائد الزامات کی حتمی حیثیت متعلقہ تحقیقات اور مجاز حکام کے فیصلے سے مشروط ہے۔


