اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو):** ڈاکٹر عظمیٰ خان، نورین خان اور ڈاکٹر فیصل سلطان نے پریس کانفرنس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی پمز منتقلی، صحت اور مبینہ قیدِ تنہائی سے متعلق تفصیلات بیان کیں۔
ڈاکٹر عظمیٰ خان کے مطابق انہیں اور ڈاکٹر فیصل سلطان کو رات تقریباً ساڑھے 8 بجے اڈیالہ جیل بلایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ رات 12 بج کر 40 منٹ پر ڈاکٹر فیصل سلطان کو الگ لے جایا گیا، جبکہ تقریباً 10 سے 15 منٹ بعد انہیں بھی پولیس کی ایک گاڑی میں منتقل کیا گیا۔
ڈاکٹر عظمیٰ کے مطابق انہیں بتایا گیا تھا کہ عمران خان کو **شفا انٹرنیشنل ہسپتال** منتقل کیا جائے گا، تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ انہیں **پمز اسپتال** لے جایا گیا ہے۔
### مبینہ قیدِ تنہائی اور صحت سے متعلق شکایات
ڈاکٹر عظمیٰ خان نے دعویٰ کیا کہ ملاقات کے دوران عمران خان نے مبینہ قیدِ تنہائی، ذہنی دباؤ اور طبی سہولیات سے متعلق شکایات کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق عمران خان نے بتایا کہ انہیں تقریباً **10 ماہ سے قیدِ تنہائی** میں رکھا گیا ہے جبکہ ٹی وی اور پڑھنے کے مواد تک رسائی بھی محدود رہی۔
انہوں نے بتایا کہ پمز میں عمران خان کا بلڈ پریشر چیک کیا گیا اور آنکھ کا انجکشن بھی لگایا گیا۔ ڈاکٹرز کے مطابق بلڈ پریشر کا مسئلہ انزائٹی سے منسلک ہوسکتا ہے جبکہ قیدِ تنہائی ختم کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔
### شفا انٹرنیشنل منتقلی کا معاملہ
ڈاکٹر عظمیٰ کے مطابق عمران خان شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیے جانے کی بات سن کر مطمئن ہوتے رہے، تاہم انہیں وہاں منتقل نہیں کیا گیا۔
ڈاکٹر فیصل سلطان نے بھی بتایا کہ وہ شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں موجود تھے جبکہ عمران خان کو پمز لے جایا گیا۔
**ڈسکلیمر:** خبر میں بیان کردہ طبی صورتحال، قیدِ تنہائی اور منتقلی سے متعلق تفصیلات پریس کانفرنس میں دیے گئے بیانات پر مبنی ہیں۔ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق اور حتمی طبی صورتحال کا تعین متعلقہ سرکاری و طبی ریکارڈ سے ہوگا۔


