کراچی: ڈیڑھ سالہ معصوم ایزل کے مبینہ زیادتی اور قتل کے کیس میں بچی کی والدہ کا دردناک بیان سامنے آیا ہے۔
ایزل کی والدہ کے مطابق انہوں نے گرفتار ملزم کو پولیس لاک اپ میں دیکھا تو وہ مبینہ طور پر ہنس رہا تھا۔ والدہ نے اپنی معصوم بیٹی کے لیے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کے ذمہ دار کو قانون کے مطابق سخت ترین سزا دی جائے۔
پولیس نے کیس میں ایک نوجوان ملزم کو گرفتار کر رکھا ہے، جبکہ واقعے کے مختلف پہلوؤں سے متعلق مزید تفتیش اور قانونی کارروائی جاری ہے۔
ایزل کے اہلخانہ نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات مکمل کرکے ذمہ دار شخص کو قانون کے مطابق سزا دی جائے تاکہ انہیں انصاف مل سکے۔
انسانی حقوق کا پہلو:
بچوں کے خلاف جنسی تشدد اور قتل انتہائی سنگین جرائم ہیں۔ ایسے مقدمات میں متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی کے ساتھ ساتھ شفاف تحقیقات اور قانونی تقاضوں کی مکمل پاسداری ضروری ہے۔
ڈس کلیمر: ملزم کے خلاف الزامات تاحال زیرِ تفتیش ہیں اور اسے عدالت سے جرم ثابت ہونے تک قانوناً بے گناہ تصور کیا جاتا ہے۔ حتمی ذمہ داری اور سزا کا فیصلہ عدالت کرے گی۔


