**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو)** — سندھ میں نئے صوبوں یا انتظامی تقسیم کی بحث کے درمیان کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر **عامر نواز وڑائچ** کا بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا ہے، جس میں انہوں نے سندھ کی تقسیم کی مخالفت کرتے ہوئے سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔
عامر نواز وڑائچ نے اپنی تقریر میں کہا کہ **”ڈی جی آئی ایس پی آر ہو یا اس کا باپ ہو، کوئی سندھ کی تقسیم نہیں کر سکتا۔”** ان کا کہنا تھا کہ وکلا سندھ کی وحدت کے معاملے پر خاموش نہیں رہیں گے۔
کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے سندھ کی تقسیم اور کسی بھی نئے صوبے کے قیام کی مخالفت کا مؤقف سامنے آ چکا ہے، جبکہ بار کے صدر کی جانب سے اس حوالے سے عوام اور وکلا کے ساتھ کھڑے رہنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
یہ معاملہ ایسے وقت میں شدت اختیار کر گیا ہے جب ملک میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام پر سیاسی بحث جاری ہے۔ **ایم کیو ایم پاکستان** کے رہنماؤں کی جانب سے نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کی حمایت کی گئی ہے، جبکہ پیپلز پارٹی کی قیادت سندھ کی تقسیم کے امکان کو مسترد کر رہی ہے۔
سندھ کے صوبائی وزیر **سعید غنی** نے بھی حالیہ دنوں میں کہا کہ سندھ میں نیا صوبہ نہیں بنے گا اور یہ معاملہ صوبائی اسمبلیوں کا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ **مراد علی شاہ** اس سے قبل بھی نئے صوبوں کے قیام سے متعلق بحث کو مسترد کرتے ہوئے واضح کر چکے ہیں کہ سندھ کی تقسیم قبول نہیں کی جائے گی۔
دوسری جانب پاکستان بار کونسل نے ملک میں نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے آئینی طریقہ کار، پارلیمانی عمل اور قومی اتفاقِ رائے کو ضروری قرار دیا ہے۔
سندھ کی تقسیم کے معاملے پر سیاسی جماعتوں، وکلا اور مختلف سماجی و فکری حلقوں کے درمیان بحث مزید شدت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔
**Support HRNW:**
انسانی حقوق، آئینی شعور، انصاف اور عوامی مسائل کی ذمہ دارانہ صحافت کے لیے HRNW کو سپورٹ کریں۔
[Support HRNW](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
**Disclaimer:**
یہ خبر دستیاب میڈیا رپورٹس، عوامی بیانات اور متعلقہ ذرائع کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ کسی بھی سیاسی یا عوامی شخصیت سے منسوب بیان کی حتمی حیثیت اصل ویڈیو یا سرکاری بیان سے مشروط ہے۔ HRNW کسی سیاسی جماعت یا مؤقف کی توثیق نہیں کرتا۔


