واشنگٹن (ایچ آراین ڈبلیو):** امریکا نے ایران پر اقتصادی دباؤ مزید بڑھاتے ہوئے نئی پابندیاں عائد کردی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق تازہ کارروائی میں ایران کے **شیڈو بینکنگ نیٹ ورک** کو ہدف بنایا گیا ہے، جس کے ذریعے مبینہ طور پر تیل اور دیگر برآمدات سے حاصل ہونے والی رقوم کی منتقلی اور ایران واپسی میں مدد فراہم کی جاتی ہے۔ ([U.S. Department of the Treasury][1])
امریکی کارروائی میں ایرانی بینکوں سے منسلک فرنٹ کمپنیوں، ایکسچینج ہاؤسز اور مالیاتی سہولت کاروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ ایسے نیٹ ورکس پابندیوں سے بچنے اور بین الاقوامی مالیاتی نظام کے ذریعے رقوم منتقل کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ ([U.S. Department of the Treasury][1])
امریکی وزیر خزانہ **اسکاٹ بیسنٹ** نے ایران کے مالیاتی نیٹ ورک کے خلاف دباؤ جاری رکھنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی غیر قانونی مالی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے لیے کارروائیاں مزید سخت کی جائیں گی۔ امریکی محکمہ خزانہ پہلے بھی ایران کے شیڈو بینکنگ اور تیل سے متعلق مالیاتی نیٹ ورکس کے خلاف متعدد پابندیاں عائد کرچکا ہے۔ ([U.S. Department of the Treasury][2])
**HRNW نوٹ:** امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف پابندیوں کی مہم میں ایرانی تیل کی آمدنی، مالیاتی سہولت کاروں، فرنٹ کمپنیوں اور بیرونِ ملک مالیاتی نیٹ ورکس کو مسلسل ہدف بنایا جا رہا ہے۔ ([U.S. Department of the Treasury][3])
[1]: https://home.treasury.gov/news/press-releases/sb0477?utm_source=chatgpt.com “Economic Fury Targets Iran Shadow Banking Facilitators”
[2]: https://home.treasury.gov/news/press-releases/sb0502?utm_source=chatgpt.com “Economic Fury Targets Networks Generating Billions for …”
[3]: https://home.treasury.gov/news/press-releases/sb0472?utm_source=chatgpt.com “Economic Fury Targets Global Network Fueling Iran’s Oil …”


