اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو)، تنخواہ دار طبقے سے جولائی کے دوران گزشتہ دو برسوں کے مقابلے میں زیادہ انکم ٹیکس وصول کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ انکم ٹیکس کی شرح میں کمی کے باوجود ایف بی آر نے تنخواہ دار افراد سے 44 ارب روپے وصول کیے۔
دستیاب معلومات کے مطابق تنخواہ دار طبقے سے جولائی میں ہونے والی ٹیکس وصولی گزشتہ دو برسوں کے مقابلے میں زیادہ رہی۔ انکم ٹیکس میں کمی کے باوجود تنخواہ دار افراد سے ٹیکس وصولی میں اضافہ سوالات کو جنم دے رہا ہے۔
رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ایک جانب ڈیلروں اور ٹرانسپورٹروں سمیت بعض شعبوں کو سہولیات فراہم کی جارہی ہیں، جبکہ دوسری جانب باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرنے والے تنخواہ دار طبقے پر مالی بوجھ بڑھ رہا ہے۔
معاشی حلقوں میں یہ سوال بھی اٹھایا جارہا ہے کہ ٹیکس نظام میں ٹیکس چوری کرنے والے بڑے شعبوں اور غیر دستاویزی معیشت کو مؤثر طریقے سے ٹیکس نیٹ میں لانے کے بجائے کیا باقاعدہ ٹیکس دہندگان پر زیادہ بوجھ ڈالا جارہا ہے؟
ماہرین کے مطابق ایک مؤثر اور منصفانہ ٹیکس نظام میں ٹیکس کا بوجھ آمدنی اور ادائیگی کی صلاحیت کے مطابق تقسیم ہونا چاہیے، جبکہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرکے ایسے شعبوں اور افراد کو بھی نظام میں شامل کرنا ضروری ہے جو اپنی حقیقی آمدنی کے مطابق ٹیکس ادا نہیں کررہے۔
انسانی حقوق اور معاشی انصاف کا پہلو:
ایچ آراین ڈبلیو کے مطابق ٹیکس پالیسی کا براہِ راست تعلق شہریوں کے معاشی حقوق، روزگار اور معیارِ زندگی سے ہے۔ حکومت کے لیے ضروری ہے کہ ٹیکس وصولی میں مساوات، شفافیت اور انصاف کو یقینی بنایا جائے اور محدود آمدنی رکھنے والے تنخواہ دار طبقے پر غیر متناسب بوجھ نہ ڈالا جائے۔
Support HRNW: انسانی حقوق، معاشی انصاف، مزدوروں اور تنخواہ دار طبقے کے حقوق، عوامی مسائل اور قومی امور سے متعلق آزاد اور ذمہ دار صحافت کے فروغ کے لیے Human Rights News Worldwide (HRNW) کو سپورٹ کریں۔
ڈس کلیمر: یہ خبر فراہم کردہ معلومات اور ٹیکس وصولیوں سے متعلق رپورٹ کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ ڈیلروں، ٹرانسپورٹروں یا دیگر شعبوں کو ٹیکس سہولیات دینے سے متعلق الزامات کی آزادانہ تصدیق اس خبر میں نہیں کی گئی۔ ایف بی آر یا متعلقہ حکام کا مؤقف سامنے آنے پر اسے بھی شامل کیا جائے گا۔ ٹیکس اعداد و شمار کی حتمی تصدیق متعلقہ سرکاری دستاویزات سے مشروط ہ


