3

ایران نے امریکا سے مذاکرات کے لیے نئے ثالث کی ضرورت مسترد کردی

تہران (ایچ آراین ڈبلیو)، ایران نے امریکا کے ساتھ جاری کشیدگی اور تنازعات کے حل کے لیے کسی نئے ثالث کی ضرورت کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بنیادی مسئلہ ثالثی کا فقدان نہیں بلکہ امریکی حکومت کا طرزِ عمل اور اس کی پالیسی ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ پاکستان اور قطر سمیت بعض ممالک پہلے ہی ایران اور امریکا کے درمیان رابطوں اور تعلقات کے حوالے سے سفارتی کوششیں کررہے ہیں اور اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔

اسماعیل بقائی کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان موجودہ اختلافات کو دور کرنے کے لیے کسی نئے ثالث کی ضرورت نہیں، بلکہ اصل مسئلہ امریکی پالیسی اور اس کے طرزِ عمل سے متعلق ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور سفارتی رابطوں کی بحالی کے لیے مختلف ممالک کی جانب سے کوششیں جاری ہیں۔

امن اور انسانی حقوق کا پہلو:
ایچ آراین ڈبلیو کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی رابطے، مذاکرات اور ثالثی کی کوششیں خطے میں انسانی جانوں کے تحفظ اور امن کے لیے اہم ہیں۔ کسی بھی تنازع کا پائیدار حل فوجی تصادم کے بجائے پرامن اور سفارتی ذرائع سے تلاش کیا جانا چاہیے۔

Support HRNW: انسانی حقوق، امن، شہریوں کے تحفظ، سفارت کاری اور قومی و بین الاقوامی امور سے متعلق آزاد اور ذمہ دار صحافت کے فروغ کے لیے Human Rights News Worldwide (HRNW) کو سپورٹ کریں۔

ڈس کلیمر: یہ خبر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے بیان کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ امریکا یا دیگر متعلقہ فریقین کا مؤقف سامنے آنے پر اسے بھی شامل کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں